پاکستان کوفٹیف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، شاہ محمود

          پاکستان کوفٹیف کی گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں، شاہ محمود

  

برسلز (آئی این پی) وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہا  ہے کہ پاکستان کوگرے لسٹ میں رکھنے کاکوئی جوازنہیں بنتا، ایف ایٹی ایف میں ایک چھوٹا سا طبقہ اس کی ساکھ متاثر کر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے برسلز میں پاکستانی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پربھرپورتعاون کیا، 2018میں دییگئیایکشن پلان پرپوری طرح عمل کیا۔ شاہ محمودقریشی  نے کہا  کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جوازنہیں بنتا، ایک نکتے پر خواہ مخواہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھاگیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایف ایٹی ایف میں ایک چھوٹا سا طبقہ اس کی ساکھ متاثر کر رہا ہے، یورپی یونین اوردیگرممالک اس سلسلے میں کرداراداکریں۔ سانحہ سیالکوٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ واقعے کے ذمہ داران کیخلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ افغانستان کی صورتحال سے متعلق شاہ محمودقریشی نے کہا افغانستان کو انسانی، معاشی بحران سے بچانا ترجیح ہونی چاہیے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا  ہے کہ جی ایس پی پلس نے پاکستان اور یورپی یونین کی باہمی تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ، پاکستان جی ایس پی پلس سے متعلق اقوام متحدہ کے 27 کنونشنز پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے،  قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان افغانستان میں معیشت کی بحالی اور دیرپا امن و استحکام کا متمنی ہے،  افغانستان کو انسانی بحران سے نکالنے، مہاجرین کی نئی یلغار کو روکنے، افغانستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے سے بچانے اور افغان مہاجرین کی عزت اور وقار کے ساتھ اپنے وطن واپسی کی راہ ہموار کرنے کے لیے، بین الاقوامی تعاون  بہت ضروری ہے،  پاکستان 19 دسمبر کو او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ شاہ محمود قریشی  نے  برسلز میں بیلجیئم کی پارلیمنٹ سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ اور یورپی پارلیمنٹ کے ممبران (MEP, s) کے وفد کے ساتھ ملاقات  کی   دوران ملاقات، پاکستان کے بیلجیم و یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، اہم علاقائی و بین الاقوامی امور پر پیش رفت سمیت باہمی دلچسپی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے اراکین پارلیمنٹ کو یورپی یونین اور اس کے تمام رکن ممالک کے ساتھ پاکستان کے خوشگوار اور دوستانہ تعلقات کے بارے میں آگاہ کیا۔مخدوم شاہ محمود قریشی  نے کہا    پاکستان اور یورپی یونین نے جون 2019 میں اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان (SEP) پر دستخط کیے،جس کے نتیجے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملی،   پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ایسے میکانزم اور ''ڈائیلاگ فریم ورک''   موجود ہیں جن کے ذریعے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر تفصیلی  تبادلہ خیال کیا جاتا ہے، سرمایہ کاری، تجارتی و اقتصادی تعاون، یورپی یونین اور بیلجیئم کے ساتھ پاکستان کے کثیر الجہتی تعلقات کا ایک اہم جز ہے،  جی ایس پی پلس مشترکہ طور پر ایسا منفعت بخش اقدام رہا ہے جس  نے پاکستان اور یورپی یونین کی باہمی تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان جی ایس پی پلس سے متعلق اقوام متحدہ کے 27 کنونشنز پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔مخدوم شاہ محمود قریشی  نے   دو طرفہ تعاون کے نئے مواقعوں کی فراہمی  میں پارلیمان کے موثر کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے  پاکستان-بیلجیئم اور پاکستان-یورپی یونین شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا،وزیر خارجہ نے اراکین وفد کو 15 اگست کے بعد افغانستان سے غیر ملکی باشندوں، سفارت کاروں، بین الاقوامی اداروں کے عملے اور میڈیا نمائندگان کے محفوظ انخلاء میں پاکستان کے کلیدی کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ 

شاہ محمود

مزید :

صفحہ اول -