کھاد بحران کیخلاف کاشتکاروں کا احتجاج،انڈس ہائی وے بند

کھاد بحران کیخلاف کاشتکاروں کا احتجاج،انڈس ہائی وے بند

  

بہاولپور،مظفر گڑھ،بستی ملوک، راجن پور(بیورو رپورٹ،نامہ نگار،نمائندہ پاکستان، تحصیل رپورٹر)بستی ملوک کے کسانوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کھاد ڈیلرز یوریا بلیک میں فروخت کررہے ہیں اور بل کنٹرول ریٹ پر بناکر  400 روپے وافر لے رہے ہیں جبکہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کمپنی نے بوران دوائی کاایک پیکٹ یوریا کے ساتھ بیچنے کی شرط(بقیہ نمبر48صفحہ7پر)

 رکھ دی ہے جو کہ ایک ڈیڈ ایٹم ہے جسے کسان خوشی سے نہیں خرید سکتا کسانوں نیالزام عائد کیا کہ کھاد ڈیلرز حنیف باگڑی اور اسامہ ٹریڈرز والے کھاد کی بلیک میں فروخت کررہے ہیں مبینہ طور پر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کھاد ڈیلرز حافظ یسین، حنیف باگڑی اور اسامہ ٹریڈرز نے کھاد ٹرالے سے اترواتے ہی 10 فیصد کسانوں کو دی اور باقی گوداموں میں سٹاک کرلی ہے اورایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کسان لینے کیلئے لائن میں کھڑے ہیں جبکہ کھاد رکشے ذریعہ خفیہ گودام اور دوکان میں منتقل ہورہی ہے جبکہ محکمہ زراعت کا فیلڈ اسسٹنٹ موقع پر موجود ہے جس کا کہنا تھا کہ جہاں کھاد کے ساتھ اضافی دوائی بیچی جارہی تھی وہاں کھاد کی سیل بند کروادی ہے کسانوں نیالزام عائد کیا کہ محکمہ زراعت کی ملی بھگت سے یہ سب ہورہا ہے فاضل پورکسانوں کا کھاد نہ ملنے پر احتجاج انڈس روڈ بلاک کھاد نہ ملنے پر کسانوں کی بڑی تعداد روڈ پر نکل آئی۔کھاد مافیا اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی۔احتجاج کھاد مارکیٹ کے سامنے کیا جارہا ہے روڈ بلاک ہونے سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں مسافر پریشان کسان رہنماں کا کہنا ہے کہ دکھاوے کے لئے چند بور یا بیچی جاتی ہے باقی بلیک پر فروخت کر دی جاتی ہیں جو کہ انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے  رہنماں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا بلیک مافیا سے بچنے کے لئے کھاد دکانوں پر وافر مقدار میں کھاد مہیا کی جائے اور دکان پر ہی سیل کی جائے۔ خانگڑھ شہر سمیت نواحی علاقوں منڈاچوک، بنے والا، لیاقت آباد وسندیوالی،اڈا لوہار والا، گل والہ میں کھاد بلیک میں فروخت کی جارہی ہے جس پر گزشتہ روز کسانوں ملک فیض بخش، اقبال حسین، منظور حسین، محمدایوب، نذیراحمد، عبداللہ، میاں اللہ ڈتہ، بشیرحسین سمیت دیگر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ کھاد ڈیلروں نے کسانوں کو لوٹنا شروع کررکھا ہے یوریا کھاد کی فی بوری 2500 روپے اور ڈی اے پی کھاد 10000 روپے میں فروخت کررہے ہیں اور ان کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ کھاد خفیہ گوداموں میں سٹاک کرکے بلیک میں فروخت کی جارہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ مظفرگڑھ بھی کھاد مافیا کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہے انہوں نے کمشنر ڈیرہ غازی خان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے  بہاولپور ڈویژن میں انتظامیہ کی سرپرستی میں یوریا کھاد کی بلیک میں فروخٹ جاری ہے کھاد کو چھپا کر کسانوں کی پہنچ سے دور بنادیا گیا ہے گندم کی بوائی شدید طورپر متاثر ہورہی ہے وزیراعلیٰ فوری نوٹس لیں۔ ڈویژنل صدر کسان اتحاد سردار فیض محمد خان خاکوانی اور سردار بلال بلوچ نے کہا ہے کہ حکومتی اور انتظامی سرپرستی میں کھاد مافیا بے لگا ہوچکا ہے یوریا کھاد کی بلیک میں فروخت کا دھند جاری ہے سرکاری نرخ 1768روپے فی بوری کی بجائے ڈیلر دھڑلے سے 2200روپے فی بوری فروخت کرنے میں مصروف ہیں واپڈا افسران اور انتظامیہ کی اشیر باد سے یہ سلسلہ جاری ہے جس کے باعث گندم کی فصل کی کاشت شدید متاثر ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ ڈیلرز نے اپنے اسٹوروں میں کھاد ذخیرہ کررکھی ہے جہاں سے وہ بلیک میں فروخت کرتے ہیں جبکہ دکانوں پر کھاد نایاب ہے محض چند بوریاں دکانوں پر رکھ کر فروخت کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے اس کا فوری نوٹس لینے اور کھاد کی مقررہ نرخوں پر دستیابی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -