الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی  پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 

  الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی  پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  اسلام آباد (آن لائن)الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تعیناتی کا فیصلہ نہ ہوسکا، پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس    حکومتی اراکین کی  عدم شرکت  کے باعث بے نتیجہ  ختم ہو گیا ہے،2حکومتی و2اپوزیشن اراکین پر مشتمل  غیر رسمی زیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پارلیمینٹری  کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس چیئرپرسن شیری مزاری کی زیرصدارت ہوا، اجلاس کے بعد چئیر پرسن شیری مزاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اراکین کی عدم شرکت کے باعث الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تعیناتی کا فیصلہ نہ سکا اس سلسلے میں حکومت اراکین وفاقی وزیر اسد عمر اور فواد چوہدری جبکہ اپوزیشن اراکین پیپلز پارٹی کے چوہدر پرویز اشرف اور خواجہ سعد رفیق پر مشتمل ایک غیر رسمی زیلی کمیٹی بنا دی گئی ہے جسکا  غیر رسمی اجلاس اگلے ہفتے کسی بھی وقت لاہور میں  ہو سکتا ہے  اور غیر رسمی زیلی کمیٹی مقصد تمام اراکین کی مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعناتی کے متعلق موصول کردا تفصیلات پر میرٹ پر فیصلہ کرے گی اس موقع پر پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی چوہدری پرویز اشرف نے کہا کہ آج کے اجلاس میں فیصلہ نہ ہوسکا اورممبران الیکشن کمیشن کی تعناتی کے حوالے سے فیصلہ ہونے کے آثار بہت کم ہیں، اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران کء تعناتی کا جلد میرٹ پر فیصلہ کر لیا جائے گا آج کا اجلاس ممبران کی عدم شرکت کے باعث اتفاق رائے نہ ہوسکا آمدہ ہفتہ میں ایک غیر رسمی میٹنگ میں کوشش کریں گے کہ اس بحران سے نکلا جا سکے اوراپوزیشن نے موقف اختیار کیا کہ ممبران کی تعیناتی کا فیصلہ میرٹ پر ہونا چاہیے۔ ایک، ایک ممبر پر ہم تیار نہیں ہیں، فیصلہ میرٹ پر ہو۔واضع رہیآئین کے تحت الیکشن کمیشن اپنے 3 ارکان کے ساتھ فعال رہ سکتا ہے تاہم حکومت کو اپوزیشن کی مشاورت سے 45 روز میں نئے ممبران کی تعیناتی کرنی ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن ممبران کی تعیناتی کے لیے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف تین تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجواتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ممبر خیبر پختونخوا ارشاد قیصر اور ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی کی رواں برس جولائی میں ریٹائیر منٹ ہو چکی تھی یاد رہے موجودہ حکومت میں اس سے قبل بھی الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تعیناتی کا معاملہ ایک سال تک لٹکا رہا تھا۔ 
بے نتیجہ ختم 

مزید :

صفحہ اول -