نریندر مودی سے قیام امن کیلئے رابطے کئے مگر وہ اسے ہماری کمزوری سمجھ بیٹھا ، وزیر اعظم عمران خان 

نریندر مودی سے قیام امن کیلئے رابطے کئے مگر وہ اسے ہماری کمزوری سمجھ بیٹھا ، ...
نریندر مودی سے قیام امن کیلئے رابطے کئے مگر وہ اسے ہماری کمزوری سمجھ بیٹھا ، وزیر اعظم عمران خان 

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت سنبھالنے کیلئے قیام امن کیلئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کیا مگر وہ  ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھ بیٹھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے  پر امن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن ہر ملک کے مفاد میں ہے ،  اسی نیت سے وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت سے بات چیت کی کوشش کی، مگر  آہستہ آہستہ احساس ہوا کہ مودی سمجھتا ہے کہ ہم کمزور ہیں ، ہمیں بھارت میں ایک آئیڈیولوجی کا سامنا تھا  جس کا نام آر ایس ایس ہے ،  اس آئیڈیولوجی کے ساتھ  بھارتی سرکار کیساتھ گفت و شنید انتہائی مشکل ہے ،  مودی کا نظریہ نہ صرف مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں بلکہ خود ہندوستان کے عوام کیلئے بھی بد قسمتی ہے ۔ جو لوگ جنگوں سے معاملات طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تاریخ سے نا واقف ہوتے ہیں اور دوسرا انہیں اپنے ہتھیاروں پر بہت غرور ہوتا ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ جنگ کے بعد مسائل چند لمحوں یا ہفتوں میں حل ہو جائیں گے ، یہی سوچ لے کر امریکہ افغانستان میں آیا مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ چند ہفتوں کیلئے شروع کی جانے والی جنگ دو دہائیوں پر پھیل گئی ،  افغانستان  میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔  

عمران خان نے کہا کہ میں ماحولیات کے اس المیے سے ہم لوگ بیس سال پہلے آگاہ تھے مگر دنیا نےچشم پوشی کئے رکھی ، پاکستان میں تو کبھی سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے بھی کوئی فرق پڑے گا۔   ملک میں  1960 کی دہائی میں معیاری منصوبہ بندی کمیشن بنا  تھا ، ملک میں اس طرح کے تھنک ٹینک کی بہت ضروری ہے ۔ باہر امریکی تھینک ٹینک پاکستان پر گفتگو کر رہے ہیں ، نہ وہ یہاں کی تاریخ جانتے ہیں ، نہ  یہاں کے لوگوں کے بارے میں کچھ علم رکھتے ہیں  مگر وہ باہر بیٹھے پراپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ ایک انتہا پسند ملک ہے  اور ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم موقف بھی بیان نہیں کرتے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارے ملک کی جانب سے کبھی ایک بیان یا رد عمل سامنے نہیں آیا ، یہاں ایک ایسا طبقہ ہے جو مغرب کی جانب سے آنے والی ہر چیز کو کہتا ہے کہ یہ درست ہے اور یہی آئیڈل ہے ، دوسری جانب ایک ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو مغر ب کی جانب سے آنےوالی ہر چیز کو دیکھے ، سمجھے بنا مسترد کر دیتا ہے ۔رحمت للعالمین ﷺ اتھارٹی کا مقصد ہے کہ  اپنا نکتہ نظر باو رکرایا جائے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -