گورنر سندھ سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کہیں کوئی ""سیٹنگ"" ہی نہ ہو ، وزیر اعلیٰ سندھ کا انکشاف

گورنر سندھ سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کہیں کوئی ...
گورنر سندھ سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کہیں کوئی

  

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جب میں گورنر سندھ سے ملاقات کیلئے گورنر ہاؤس جا رہا تھا تو مجھے راستے میں خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں کوئی ""سیٹنگ"" ہی نہ ہو ۔ 

صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ  گورنر سندھ نے ہمارے بھیجے گئے بل کو مسترد کرنے کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ میڈیا پر کہا کہ  کل میرے پاس وزیر اعلیٰ سندھ آرہے ہیں تو ہم بل مسترد کر دیں گے ،  ایسے کوئی پلان ٹی وی پر تھوڑی بتا دیتے ہیں ؟، مجھے تو گورنر ہاؤس جاتے ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کوئی سیٹنگ ہی نہ ہو ۔

وزیر اعلیٰ سندھ کہا کہ میں آج لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے متعلق بتانا چاہتا ہوں،  عوام سے وعدہ کیا تھا کہ  لوکل گورنمنٹ کے 2013 کے ایکٹ کو بہتر بنائیں گے ،آج سے ڈیڑھ سال پہلے کہا تھا لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے،ناصر شاہ گزشتہ 7 سے 8ماہ سے سٹیک ہولڈرز سے مل کر تجویز لے رہے ہیں، مردم شماری میں کراچی سمیت سندھ بھر کی آبادی غلط شمار کی گئی، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ظلم قرار دے کر پیش کیا جارہا ہے،2017کی مردم شماری پر صوبہ سندھ کے اعتراضات تھے،اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا تھا کہ غلط مردم شماری کی گئی،قومی اسمبلی میں صرف ای وی ایم کا ڈھول پیٹا گیا، 17نومبر کو قومی اسمبلی میں ہمارے بل کو بلڈوز کیا گیا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی قانون سے متعلق اپویشن نے ایک ترمیم پیش نہیں کی، تمام ہسپتالوں اور سکولوں کی چلانے کی ذمہ داری میری ہے۔ سکولز، ہسپتالوں اور پرائمری ایجوکیشن کو صوبائی حکومت سنبھالے گی ، یونین کونسل کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا پھیلاو روکنے کی ذمہ دار ی آپ کی ہے، اپوزیشن نےبلدیاتی قانون میں کوئی ترمیم پیش نہیں کی،اپوزیشن کوترمیم نہیں ہنگامہ آرائی میں دلچسپی ہے،جب آدمی خود چور ہو تو دوسروں کو چور سمجھتاہے۔ گورنر صاحب نے صرف لفظ "" اینی پرسن "" پر اعتراض اٹھایا تھا ، انہیں ڈر تھا کہ کہیں باہر سے کسی شخص کو اٹھا کر نہ بٹھا دیا جائے ۔

گورنر سندھ سے ملاقات کیلئے جاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کہیں کوئی ""سیٹنگ"" ہی نہ ہو ، وزیر اعلیٰ سندھ کا انکشاف

کراچی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ جب میں گورنر سندھ سے ملاقات کیلئے گورنر ہاؤس جا رہا تھا تو مجھے راستے میں خطرہ محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں کوئی ""سیٹنگ"" ہی نہ ہو ۔ 

صوبائی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد سعید نے کہا کہ  گورنر سندھ نے ہمارے بھیجے گئے بل کو مسترد کرنے کا نہ صرف ارادہ کیا بلکہ میڈیا پر کہا کہ  کل میرے پاس وزیر اعلیٰ سندھ آرہے ہیں تو ہم بل مسترد کر دیں گے ،  ایسے کوئی پلان ٹی وی پر تھوڑی بتا دیتے ہیں ؟، مجھے تو گورنر ہاؤس جاتے ڈر لگ رہا تھا کہ راستے میں کوئی سیٹنگ ہی نہ ہو ۔

وزیر اعلیٰ سندھ کہا کہ میں آج لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے متعلق بتانا چاہتا ہوں،  عوام سے وعدہ کیا تھا کہ  لوکل گورنمنٹ کے 2013 کے ایکٹ کو بہتر بنائیں گے ،آج سے ڈیڑھ سال پہلے کہا تھا لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی ضرورت ہے،ناصر شاہ گزشتہ 7 سے 8ماہ سے سٹیک ہولڈرز سے مل کر تجویز لے رہے ہیں، مردم شماری میں کراچی سمیت سندھ بھر کی آبادی غلط شمار کی گئی، سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو ظلم قرار دے کر پیش کیا جارہا ہے،2017کی مردم شماری پر صوبہ سندھ کے اعتراضات تھے،اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا تھا کہ غلط مردم شماری کی گئی،قومی اسمبلی میں صرف ای وی ایم کا ڈھول پیٹا گیا، 17نومبر کو قومی اسمبلی میں ہمارے بل کو بلڈوز کیا گیا۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بلدیاتی قانون سے متعلق اپویشن نے ایک ترمیم پیش نہیں کی، تمام ہسپتالوں اور سکولوں کی چلانے کی ذمہ داری میری ہے۔ سکولز، ہسپتالوں اور پرائمری ایجوکیشن کو صوبائی حکومت سنبھالے گی ، یونین کونسل کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ کورونا پھیلاو روکنے کی ذمہ دار ی آپ کی ہے، اپوزیشن نےبلدیاتی قانون میں کوئی ترمیم پیش نہیں کی،اپوزیشن کوترمیم نہیں ہنگامہ آرائی میں دلچسپی ہے،جب آدمی خود چور ہو تو دوسروں کو چور سمجھتاہے۔ گورنر صاحب نے صرف لفظ "" اینی پرسن "" پر اعتراض اٹھایا تھا ، انہیں ڈر تھا کہ کہیں باہر سے کسی شخص کو اٹھا کر نہ بٹھا دیا جائے ۔

مزید :

قومی -