مقبوضہ کشمیر  ۔۔۔جہاں جنازے بھی چھین لیے جاتے ہیں 

مقبوضہ کشمیر  ۔۔۔جہاں جنازے بھی چھین لیے جاتے ہیں 
مقبوضہ کشمیر  ۔۔۔جہاں جنازے بھی چھین لیے جاتے ہیں 
سورس: File Photo

  

اگرچہ ریاست جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ صدیوں پرانی ہے لیکن اس کی تازہ ترین تاریخ اس دن سے شروع ہوتی ہے جب بھارت نے اپنی فوجیں سرینگر میں اتاریں۔۔۔بھارت کی یہ فوج کشی تمام بین الااقوامی اصولوں، قوانین، قانون تقسیم برصغیر اور خود اپنے آئین کی سراسر خلاف ورزی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے محض ایک ریاست پر قبضہ جمانے اور لاکھوں انسانوں کو اپنا غلام بنانے کے لیے تمام تر اصول، ضابطے اور قوانین اپنے پاؤں تلے روند ڈالے۔۔۔ اس وقت تک مجاہدین سرینگر کے نواح تک پہنچ چکے تھے اور جن کی بڑھتی ہوئی یلغا ر سے خوفزدہ ہوکر مہاراجہ ہری سنگھ راجدھانی سے جموں کی جانب فرار ہوگیا تھا۔ ۔۔

  مہاراجہ ہری سنگھ جب جموں پہنچا تو وہاں کے مسلمانوں کا ایک وفد اُس کے پاس یہ شکایت لے کر گیا کہ مقامی سکھ اور ہندو آبادی، مسلمانوں پر مظالم ڈھا رہی ہے تو مہاراجہ نے شکایت دور کرنے کی بجائے وفد کو ہی قتل کرنے کے احکامات جاری کردیے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاراجہ نے مسلم آبادیوں پر حملے کرنے کا بھی حکم دیا۔۔۔ اس حکم کے اجراء سے قبل کشمیر سے متصل بھارت کی سکھ ریاستوں سے سکھ دستوں کو بڑی تعداد میں کشمیر میں بلالیا گیا تھا جنہوں نے خاص طور پر جموں کی مسلم آبادی کا بڑی بے دردی کے ساتھ قتِل عام کیا۔۔۔ 1947ء کے دوران کشمیریوں کی الحاق پاکستان کی جدوجہد کے دوران پورے کشمیر میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔۔۔

 اس وقت کشمیر میں مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوج تعینات ہے جو انسانی حقوق کی زبردست پامالیوں میں ملوث ہے۔۔۔ آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ 1958ء کے تحت سیکیورٹی فورسز کو مکمل اختیارحاصل ہے کہ وہ مظاہرین کو کچلنے اور تحریک آزادی کو دبانے کیلئے ہر وسیلہ اور اقدام بروئے کار لاسکتے ہیں۔۔۔ ایسا کرتے ہوئے خواہ وہ انسانی حقوق کی جس قدر بڑے پیمانے پر بھی خلاف ورزی کریں، اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔۔۔ یہ ایکٹ مقبوضہ کشمیر میں 1990ء میں نافذ کیا گیاجب کشمیریوں کی مسلح تحریک عروج پر پہنچ چکی تھی اور مرکزی سرکار کے پاس انہیں کچلنے کیلئے کوئی حربہ نہ تھا۔۔۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں، اقوام متحدہ وغیرہ نے اس ایکٹ کے نفاذ پر زبردست تنقید کی تھی کیونکہ یہ ایکٹ براہ راست فوجی افسران کو یہ اختیار فراہم کرتا تھا کہ وہ اپنے مشن کی کامیابی اور مرکزی سرکاری کے احکامات پر عمل درآمد کیلئے ہر قسم کے حربے اختیار کرسکتے ہیں اور اس ضمن میں انہیں ہر قسم کی قانونی کارروائی سے تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔۔۔

اس قانون کا سب سے خطرناک استعمال 23فروری 1991ء کو کیا گیا جب کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے دو گاؤں کنن اور پوش پورہ میں ایک رات سرچ آپریشن کے دوران فوج نے سو سے زائد خواتین کو زیادتی کانشانہ بنایاجو مختلف عمر کی تھیں۔۔۔ ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے مطابق یہ تعداد 150کے لگ بھگ تھی۔۔۔ ان تنظیموں کے دباؤ پردہلی سرکار نےاس واقعہ کی اگرچہ تفتیش کی لیکن بعد میں اِسے بے بنیاد قراردے کر واقعہ میں ملوث فوجیوں کو بے گناہ قرار دے دیا۔۔۔

 درحقیقت پچھلے 74برس سے مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج انسانی حقوق کی زبردست خلاف ورزیوں میں ملوث ہےاورانسانی حقوق کےعالمی اداروں نے بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے ان واقعات کو رپورٹ بھی کیا لیکن اس کے باوجود بھارت نے ہمیشہ ڈھٹائی اختیار کیے رکھی رہی۔ ہر واقعہ کے بعد اُس کا جواب یہی ہوتا رہاہے کہ یہ محض من گھڑت قصہ یا پراپیگنڈہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا موقف اختیار کرتے ہوئے بھارت انسانی حقوق کے علم بردار عالمی اداروں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ وغیرہ کو مقبوضہ کشمیر میں جانے اور وہاں کے حالات کا بغور مشاہدہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔۔۔

پچھلے برس سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر بھارتی فوج بلااشتعال فائرنگ سے آزادکشمیر اور پاکستان میں درجنوں معصوم اور بے گناہ شہریوں کوشہید کرچکی ہے۔ ان واقعات کی عالمی سطح پر تشہیر ہوئی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اگرچہ پاکستان کے راستے متعلقہ مقامات کے دورے کیے لیکن بھارت کی جانب سے انہیں سرحد پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔۔۔ بھارت کا یہ رویہ صاف ظاہر کردیتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم وجبر کا زبردست بازار گرم ہے اور بھارت واقعات کی پردہ پوشی کیلئے کسی مبصر کو کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں دیتا تاکہ کہیں اُس کا پول نہ کھل جائے لیکن اس کے باوجود کشمیری نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے خود پر اور اپنی قوم پر بیتے حالات و واقعات سے عالمی دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بھارت کا انتہائی تاریک اور بدنما چہرہ کشمیر کے مرغزاروں اور کوہساروں میں اپنی پوری بدہئیتی کے ساتھ دکھائی دیتاہے۔۔۔ 

 اگرچہ پانچ اگست 2019ءسے مقبوضہ کشمیر میں وقتاً فوقتاًکرفیو اور لاک ڈاؤن کی آڑ میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی جاری ہے۔۔۔ انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدترسلوک روارکھا جارہاہے لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے اور وہ مسلسل بھارتی مظالم سہتے ہوئے اپنے مشن پر کاربندہیں اور ان کے دلوں سے آزادی کے جذبے اور زبانوں سے نعرہ آزادی کو کچلا اور دبایا نہیں جاسکا۔۔۔ 

  بھارت نے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے کے لیے ہر قسم کے حربے آزمائے اور ہر طریق کو اختیار کیا ہے۔۔۔ وہ کشمیری عوام کو مختلف ترغیبات دینے کی کوشش کرتا رہاہے۔۔۔ اولین کوشش کے طور پر تو بھارت نے کشمیریوں پر مظالم کی نت نئی داستانیں رقم کرتے ہوئے انہیں زبردستی اپنے مقصد سے ہٹانے اور اپنے رنگ میں رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔۔۔ اکتوبر1947ء میں بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو ایک ٹیلی گرام ارسال کرتے ہوئے برملا اس امر کا اعلان کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو،کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق حل کیا جائے گااور اس ضمن میں کوئی دوسری رائے نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ بعد میں جب بھارت اس مسئلے کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے کر گیا، تب بھی بھارت نے اس کااعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے یہ وعدہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشوں کے مطابق حل کرنے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کرے گا لیکن بھارت کا یہ وعدہ کبھی ایفا نہیں ہوا۔۔۔

اب اُس نے ایک جانب کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیا ہے اور دوسری جانب کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔۔۔ اس کی دھمکیاں، لالچ اور ترغیبات بھی آزادی کے پروانوں کو اپنے مقصد سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں۔۔۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اپنی انتہا پر ہے۔ بے گناہ شہریوں کو حریت پسند یا ان کا ساتھی قرار دے کر شہید کردیاجاتاہے اور ایسا کرنے کے بعد ان کی نعشیں تک لواحقین کو مہیا نہیں کی جاتیں۔۔۔ انھیں نامعلوم مقامات پر دفن کردیاجاتاہے جس طرح کہ ممتاز حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی نعش کے ساتھ کیا گیا۔۔۔ ان کے جنازے میں قریبی عزیزوں کو بھی شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ انھیں ان کی تدفین کے عمل میں شریک کیاگیا۔۔۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے کہ جب جنازے بھی چھین لیے جائیں۔۔۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -