ایسے شخص کی کیفیت جو اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھ کر بے چین ہے

ایسے شخص کی کیفیت جو اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھ کر بے چین ہے
ایسے شخص کی کیفیت جو اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھ کر بے چین ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:74

اس لیے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ بے حد دولت اور بے حد حسین عورتوں سے انھیں اس لیے الجھن ہوتی تھی کیونکہ وہ خود ان سے محروم تھے۔

مجموعی طور پر صدیق سالک کی مزاح نگاری متوازن اور مثبت سوچ کی حامل ہے زندگی کے متعلق ان کا رویہ امیدافزا ءہے مزاح نگاری میں وہ تہذیب اور شائستگی کا دامن بہت کم چھوڑتے ہیں۔ خوش طبعی ان کی فطرت میں داخل تھی ‘ جس سے ان کی مزاح نگاری کو تقویت حاصل ہوئی ہے-

مزاح کی کتابی ترتیب:

سالک نے ”تادمِ تحریر“ کو 4 حصوں میں تقسیم کیا ہے جنہیں وہ دریچوں کا نام دیتے ہیں۔دریچہ اول ایکسرے رپورٹ ہے جس میں ریاست اور سیاست پر مضامین ہیں۔ دریچہ دوم میں سفرنامچے ہیں جن پر باقاعدہ بحث سفر نامے کی ذیل میں ہوگی۔ دریچہ سوم ”قند مکرر“ ہے جو معاشرتی مضامین ہیں جبکہ دریچہ چہارم ”ریڈی میڈ تقاریر“ ہے جس میں تقاریر کے ذریعے مزاح پیدا کیا گیا ہے۔

ایکسرے رپورٹ: 

 صدیق سالک نے ایک ڈاکٹر بن کر مریض (پاکستان) کا معائنہ اور تشخیص کی ہے پاکستان یعنی مریض کا معائنہ کر کے اپنی رائے ایکسرے رپورٹ کی صورت میں دی ہے۔

یہ مضامین بہت اہم ہیں کیونکہ یہ صدر ضیاءالحق کے مارشل لا ءکا زمانہ تھا اور اس دور میں سیاست یا مارشل لاءپر لکھنا شجر ممنوعہ سمجھا جاتا تھا۔ سالک نے بڑی بہادری سے کام کرلیتے ہوئے اس دور میں ان موضوعات پر بات کی اسی وجہ سے بالواسطہ پیرائیہ اختیار کیا۔ اس مشکل امر کے متعلق لکھتے ہیں:

 ”یہ ایکسرے لیتے وقت کبھی میرے ذہن کی ایکسرے مشین خراب ہو گئی اور کبھی ایمان کی برقی رو مدھم پڑگئی اور یوں بعض نقش پوری طرح نہ ابھر سکے لیکن پھر بھی جو کچھ قلم پر آگیا غنیمت ہے۔ ورنہ پہلے تو یہ ایکسرے پلانٹ لگانے کی اجازت نہ تھی۔“

سالک جس صنف میں بھی لکھیں ان کی تحریر کا بنیادی محور وطن کی محبت ہے۔ ”تادم تحریر“ کا پہلا مضمون ہی ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ لیکن وطن پرستی صرف اس مضمون تک محدود نہیں اس حصے کے تمام مضامین ریاست اور اس سے متعلقہ موضوعات پر ہیں پاکستان جیسے ملک میں جہاں جمہوریت مضبوط نہیں رہی جہاں رشوت ‘سفارش ‘ جہالت‘ بے روزگاری‘ ناانصافی‘ جیسی خرابیاں عام ہیں وہاں ایک مزاح نگار ان موضوعات پر مکمل مضامین لکھنے سے ہچکچاتا ہے‘ کیونکہ لامحالہ یہاں طنز کی کاٹ شدید ہو جاتی ہے۔لیکن وطن کی محبت میں سالک ان باتوں کی پروا ہ نہیں کرتے۔ ان مضامین میں سالک کی کیفیت ایسے شخص کی ہے جو اپنے گھر کو جلتا ہوا دیکھ کر بے چین ہے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -