انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر جدھر دیکھو پابہ زنجیر ہے

انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر جدھر دیکھو پابہ زنجیر ہے
انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر جدھر دیکھو پابہ زنجیر ہے

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:57

 ”عمرانی معاہدہ“ بلاشبہ روسو کی ایک ایسی کتاب ہے جو اس کا نام تاقیامت جاوداں رکھے گی۔ اس کتاب کا آغاز اس مشہور زمانہ فقرے سے ہوتا ہے،”انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر جدھر دیکھو وہ پابہ زنجیر ہے۔“ اس کتاب کا تھیسس یہ ہے کہ اگرچہ فطرت کے اصول کے مطابق ایک انسان کی حاکمیت دوسرے انسان پر کسی طور پر جائز نہیں ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان تن تنہا زندگی بسر نہیں کر سکتا، وہ ایک اجتماع یا معاشرے میں ایک دوسرے سے جڑ کر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ فرد یا معاشرے اور ریاست کا رشتہ بھی موجود ہے، جس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ جائز حاکمیت کو تسلیم کرنے کے لیے کچھ عہد و پیمان یا معاہدے کیے جائیں۔ اسی معاہدے کو وہ سماجی یا عمرانی معاہدے کا نام دیتا ہے۔

 دوسرے الفاظ میں جب ایک فرد اپنے ذاتی مفادات کو اجتماع کے سامنے سرنڈر(Surrender) کرتا ہے تو وہ حقیقتاً سرنڈر نہیں کر رہا ہوتا، اس لیے کہ اجتماع کے باقی شرکاءاپنے ذاتی مفادات معاشرے کےلئے، یا دوسرے الفاظ میں اس کےلئے سرنڈر کر رہے ہوتے ہیں۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ کچھ حقوق سے دست بردار ہو رہا ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں کچھ حاصل بھی کر رہا ہوتا ہے۔ گویا کہ شرائط سب کےلئے ایک جیسی ہیں۔ اس طرح اگرچہ فریقین کی انفرادی شخصیات باقی نہیں رہتیں، مگر ایک اخلاقی اجتماعی شخصیت جنم لیتی ہے۔ اس اجتماعی شخصیت کو”جمہوریہ“ کہہ سکتے ہیں۔ جس کا ایک رکن جو حالت فاعلی میں ہے، بااختیار ہے اور قانون بناتا ہے، وہ”فرماں روا“ ہے اور دوسرا رکن جو حالت اجتماع میں ہے اور جسے قانون کی اطاعت کرنا ہوتا ہے، وہ ”عوام“ یا”رعایا“ ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ روسو یہ بھی کہتا ہے کہ اعلیٰ ترین چیز اتھارٹی نہیں، آزادی ہے۔

 اب یہیں پر روسو کے ناقدین اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ روسو ذکر تو فرد کی آزادی کا کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اجتماعیت یا آمریت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جہاں پر فرد کے حقوق کو جماعت کے مفادات پر قربان کر دیا جاتا ہے اور ریاست تمام اختیارات کی مالک بن جاتی ہے۔ بعض نے تو یہاں تک کہا کہ انسان کی آزادی کا منشور سمجھا جانے والا”معاہدہ عمرانی“ مطلق العنانیت کا سرچشمہ ہے۔ وہ اشتراکی آمریت کا رشتہ بھی”معاہدہ عمرانی“ سے جوڑتے ہیں۔

 خیر،”معاہدہ عمرانی“ ایک ایسی کتاب ہے جسے اگر کچھ لوگ عظیم کتاب گردانتے ہیں تو کچھ ایسے دانشور بھی موجود ہیں جن کے نزدیک یہ ایک فضول کتاب ہے۔ یہ تو درست ہے کہ روسو کے استدلال میں تضادات اور جھول موجود ہیں، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اگر آج کی دنیا میں انسانی حقوق اور جمہوریت کا تذکرہ موجود ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ روسو نے سماجی اقدار اور نئے سیاسی شعور کی تشکیل میں”معاہدہ عمرانی“ کی صورت میں حصہ لیا ہے۔ جدید دور کے ماہرین عمرانیات روسو کو سماجی علوم کا پیش رو اور بانی قرار دیتے ہیں۔ اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہزاروں میل کے فاصلے پر امریکہ کا منشور آزادی تیار کرنے والوں نے ”معاہدہ عمرانی“ سے گہرے اثرات قبول کیے۔ حتیٰ کہ اس منشور میں کئی ایسی اصطلاحیں موجود ہیں جو روسو نے پہلی بار متعارف کروائی تھیں۔ یاد رہے کہ اشاعتی ادارے”بک ہوم“ نے روسو کی کتاب”معاہدہ عمرانی“ اور ان کی شہرہ آفاق آپ بیتی”اعترافات“ کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔

روسو، جو خود ایک مذہبی شخصیت تھا، معاہدہ عمرانی کا اختتام مذہبی خیالات پر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اول اول دنیا میں مذہبی حکومت کے سوال کوئی دوسری حکومت نہ تھی اور دیوتاﺅں کے سوا کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ اس کا یہ بھی خیال ہے کہ بادشاہ کا تعلق عوام سے ایسے ہوتا تھا، جیسے چرواہے کا گلے سے۔ اور جس طرح چرواہا گلے سے افضل ہوتا ہے، اسی طرح بادشاہ رعایا سے افضل ہوتے ہیں۔ پروٹسٹنٹ سے کیتھولک اور کیتھولک سے دوبارہ پروٹسٹنٹ بننے والے اور مسیحی زندگی گزارنے والے روسو نے یہ بھی کہا کہ”سچے مسیحی، مسیح کی غلامی کےلئے پیدا ہوتے ہیں۔“ اس طرح وہ یہ الزام لگاتا ہے کہ مسیحیت غلامی کی تعلیم دیتی ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ”اس مذہب کا بنیادی اصول ظالموں اور جابروں کے لیے اس قدر مفید ہے کہ وہ ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔“

روسو نے تعلیم کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار اپنی کتاب”ایمائیل“(Emile) میں کیا ہے اور اس کا بنیادی نکتہ ایک بار پھر یہی ہے کہ انسان اور اشیاءکی سب سے بہتر حالت وہی ہے جس پر فطرت نے اسے پیدا کیا۔ تہذیب و تمدن کے تقاضے اپنانے سے بگاڑ پیدا ہوا اور اب نجات کا ایک ہی راستہ ہے کہ فطرت کی طرف لوٹ جایا جائے۔ تعلیم و تربیت کے حوالے سے بھی اس نے یہی کہاکہ انسان سب سے زیادہ فطری حالت میں اس وقت ہوتا ہے جب وہ بچہ ہوتا ہے اور صرف اپنی فطری تجربے سے کائنات کا علم حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ اسی کو اس نے علم حاصل کرنے کا سائنسی طریقہ قرار دیا۔ اس کے بعد انسان جو علم حاصل کرتا ہے، وہ باقاعدہ طے شدہ ہوتا ہے۔ اور اس پر جبراً نافذ کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے روسو کو بچوں کی نفسیات کے علم کا بانی قرار دیا جا سکتا ہے۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -