سب کبھی تو ختم ہونا ہی تھا، اچھا ہوا جلدی ہوگیا،یہ دنیا عورتوں اور بچوں کےلئے ہے ہی نہیں

 سب کبھی تو ختم ہونا ہی تھا، اچھا ہوا جلدی ہوگیا،یہ دنیا عورتوں اور بچوں ...
 سب کبھی تو ختم ہونا ہی تھا، اچھا ہوا جلدی ہوگیا،یہ دنیا عورتوں اور بچوں کےلئے ہے ہی نہیں

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:100

یورگس کا ردِ عمل بہت عجیب تھا۔ اس کا رنگ بالکل زرد پڑ گیا لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا اور آدھ منٹ تک مٹھیاں اور دانت بھینچے کمرے کے وسط میں کھڑا رہا، پھر اس نے آ نئیل کو ایک طرف دھکیلا اور اوپر چلا گیا۔ کمرے کے وسط میں ایک کمبل پڑاتھا جس نے ایک چھوٹا سا وجود ڈھانپ رکھا تھا۔پاس ہی الزبیٹا پتا نہیں رو رہی تھی یا نیم بے ہوش بیٹھی تھی۔ ماریا اونچی آواز میں ہاتھ مل مل کر روتے ہوئے دیوانوں کی طرح کمرے میں پھر رہی تھی۔ یورگس نے مٹھیاں اور بھی زور سے بھینچ لیں اور سخت آواز میں پوچھا۔

” کیسے ہوا یہ سب ؟ “

ماریا نے شاید اس کی آواز سنی ہی نہیں۔ اس نے دوبارہ زیادہ اونچی اور زیادہ سخت آواز میں پوچھا تو جواب ملا۔” وہ فٹ پاتھ سے نیچے گر گیا تھا۔“ گھر کے آگے تختوں سے بنا ایک فٹ پاتھ تھا جو پانی میں ڈوبی سڑک سے لگ بھگ 5 فٹ اونچا تھا۔

” وہ وہاں گیا کیسے ؟“ اس نے اگلا سوال کیا۔

” وہ کھیلتا کھیلتا باہر چلا گیا۔“ ماریا نے روتے ہوئے جواب دیا۔ ” ہم نے اسے روکا بھی لیکن وہ نہیں رکا۔۔۔ شاید وہ کیچڑ میں پھنس گیا۔ “

”تم نے دیکھا ہے کہ زندہ نہیں ہے ؟“ 

” ہاں، ڈاکٹر کو بلوایا تھا۔ “ ماریا اونچا اونچا رونے لگی۔

یورگس کھڑا لرزتا رہا۔ اس کی آنکھوں سے ایک آنسو بھی نہیں نکلا۔ اس نے ایک بار پھر کمبل کے نیچے چھپے ننھے جسم کو دیکھا پھر یک دم مڑ کر سیڑھیاں اتر گیا۔ اسے دیکھتے ہی نیچے جمع لوگ خاموش ہو گئے۔ وہ بنا ءکوئی بات کیے دروازے کی طرف بڑھا اور باہر نکل گیا۔

جب اس کی بیوی مری تھی تو وہ سیدھا شراب خانے گیا تھا لیکن اب اس نے ایسا نہیں کیا حالانکہ اس کی جیب میں ہفتے بھر کی اجرت بھی تھی۔وہ پانی اور کیچڑ میں چھینٹے اڑاتا ہوا چلتا رہا۔آخر ایک سیڑھی پر بیٹھ کر اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھانپ لیا اور آدھ گھنٹے تک یوں ہی بیٹھا رہا۔ وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا، ” مر گیا ! مر گیا !“

وہ اٹھا اور پھر چلنے لگا۔ شام ہونے والی تھی، پھر رات کا اندھیرا پھیلنے لگا لیکن وہ چلتا رہا حتیٰ کہ ایک ریلوے کراسنگ پر پہنچ گیا۔پھا ٹک بند تھا اور ایک لمبی مال گاڑی چھک چھک کرتی گزر رہی تھی۔ وہ کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پھر جیسے کسی جنون نے اسے گرفت میں لے لیا۔ کوئی دبی ہوئی وحشت اچانک زندہ ہوگئی۔ وہ پٹڑی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جب وہ گیٹ کیپر کے کیبن کے پاس سے آگے آیا تو اچھل کر ایک بوگی پر سوار ہوگیا۔

ٹرین بار بار رکتی تھی۔ جوں ہی ٹرین رکتی یورگس نیچے اتر کر چھپ جاتا۔ وہ اپنی روح کے ساتھ جنگ کر رہا تھا۔ اب تک اس نے ایک آنسو بھی نہیں بہایا تھا اور نہ اب بہانا چاہتا تھا۔ وہ سب کچھ بھول جانا چاہتا تھا۔ سب کچھ پیچھے چھوڑ دینا چاہتاتھا۔ جو گزر گیا وہ گزرگیا۔ وہ سب ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ کل صبح وہ ایک نیا آدمی ہوگا، ایک نیا جنم لے گا۔

وہ اپنی زندگی کے لیے لڑ رہا تھا۔ اس نے دانت سختی سے بھینچ رکھے تھے۔ وہ پاگل تھا، احمق تھا۔ اس نے اپنی زندگی ضائع کی۔ اس نے اپنی فضول جذباتی کمزوری کی وجہ سے خود کو تباہ کیا لیکن اب بس۔۔۔ بہت ہوچکا تھا۔ اب کوئی آنسو، کوئی کمزوری نہیں ہوگی۔ اب وہ آزاد ہوگا۔ ان بیڑیوں کو اتار پھینکے گا۔ وہ خوش تھا کہ انجام تک پہنچ گیا۔ یہ سب کبھی تو ختم ہونا ہی تھا، اچھا ہوا کہ جلدی ہوگیا۔یہ دنیا عورتوں اور بچوں کے لیے ہے ہی نہیں۔ وہ جتنی جلدی اسے چھوڑ دیں اتنا ہی اچھا ہے۔آنٹاناس جہاں بھی گیا ہے وہاں چاہے جتنی بھی تکلیفیں ہوں لیکن وہاں وہ اس دنیا جتنی تکلیفیں نہیں سہے گا۔ اب یورگس کو اس دنیا سے لڑنا تھا جس نے اسے سوائے دکھوں کے کچھ نہیں دیا تھا۔

ٹرین شور مچاتی چلتی رہی۔ مٹی اور غبار کے تھپیڑے یورگس کے مونھ پر لگتے رہے لیکن وہ وہیں بیٹھا رہا۔ پیکنگ ٹاؤن سے دور جانے والا ہر میل اس کے ذہن سے یادوں کے بوجھ کا وزن کم کرتا جا رہا تھا۔ گاڑی کہیں رکتی تو گرم ہوا کے جھونکے اس تک پہنچتے۔ ہوا میں کھیتوں، جنگلی پھولوں اور ہریالی کی خوشبو تھی۔ اس نے لمبے سانس سے یہ خوشبُو اندر کھینچی تو اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ شہر سے دور آگیا تھا۔ اب وہ انہی مضافاتی علاقوں میں رہے گا۔صبح ہوئی تو اسے بوگی کی درزوں سے باہر چراگاہیں، جنگل اور دریا دکھائی دئیے۔ آخر اس سے رہا نہیں گیا اور اگلی بار جب ٹرین رکی تو وہ اس سے اتر آیا۔ ٹرین کے اوپر کھڑے بریک والے نے اسے دیکھ کر مُکا بنایا اور اونچی آواز میں گالی دی۔ یورگس نے پلٹ کر اسے ہاتھ ہلایا اور کھیتوں میں چلنے لگا۔( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -