سندھ کی مہروں کی بنیادی انفرادیت

 سندھ کی مہروں کی بنیادی انفرادیت
 سندھ کی مہروں کی بنیادی انفرادیت

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:8

 تھوڑی ہی مدت ہوئی کہ لوتھل میں کھدائی کے مقام کے شمال مغربی سرے پر اونچائی پر واقع متعدد مدفن ملے ہیں (کل سترہ(17) قبروں کا ذکر کیا گیا) بظاہر یہ قبریں سندھ کی تہذیب کے ایک بعد کے دور کی ہیں۔ ہڑپہ کی طرح وہاں بھی بیشتر ڈھانچے شمالاً جنوباً رکھ کر دفنائے گئے تھے‘ سر شمال کی طرف تھا اور کہیں کہیں قبروں کے اندر کی طرف کچی اینٹوں کی چنائی کی گئی تھی۔ 3 قبروں میں ساتھ ساتھ دو دو لاشیں دفنائی گئی تھیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ ایک لاش مرد کی اور دوسری عورت کی ہوگی لیکن ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ان 2 لاشوں والی قبروں سے بیوہ کو خاوند کے ساتھ قربان کردینے کی ہندو رسم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ جن کھوپڑیوں کی جانچ کی گئی ہے وہ عموماً گول سر والی (lrachycephalic) قسم کی ہیں یا کم از کم درمیانی سائز کے سروں والی ہیں۔ یہ عموماً ہڑپہ میں ملنے والی کھوپڑیوں کے برعکس ہے لیکن زمانہءحال میں گجرات کے باشندوں کے سروں کی اوسط پیمائش کے مطابق ہے۔

اس بات سے ایک بار پھر کافی حد تک تسلسل کا پتہ چلتا ہے۔ کالی بنگن کے قبرستان سے ملنے والی کھوپڑیوں کا تجزیہ ابھی تک دستیاب نہیں ہوا ہے‘ سندھ تہذیب کے شہروں کا جو سامان برآمد ہوا ہے اس میں اول مقام ان کی مشہور مہروں (Seals) کو ملنا چاہیے۔ عموماً یہ مہریں خاص قسم کے (sleatite) پتھر (سنگ صابن) کی بنی ہوئی ہیں جو اپنی قسم کی خصوصی اور بڑی عمدہ بناوٹ کی ہیں۔ عام مہر مربع شکل کی ہوتی تھی جس کے کنارے پون انچ سے سوا انچ تک کے ہوتے تھے۔ مہر کو پکڑنے یا لٹکانے کے لیے ان کی پشت پر چھید والا دستہ سا ہوتا تھا۔ بعض مہریں گول بھی ہوتی تھیں۔ پیچھے کی طرف کے دستے کے سمیت یا اس کے بغیر۔ کچھ بیلن جیسی شکل کی مہریں (Cylinder seals) ملی ہیں جو میسوپوٹیمیا کی مہروں کی یاد دلاتی ہیں لیکن سندھ کی مہروں کی بنیادی انفرادیت کا قوی اظہار کچھ دیگر مقامات پر پائے جانے والے اور قدرے ملتے جلتے نمونوں جو عموماً گول اور چھیددار دستوں والے تھے۔ مہروں کے ساتھ تضاد سے ظاہر ہوتا ہے یہ دوسری قسم کی مہریں جنوبی میسوپوٹیمیا میں اور خلیج فارس کے جزیروں (Failaka Bahrein) میں پائی گئی ہیں اور یہ سندھ کی تہذیب کے اتر کی شمال مغربی توسیع کی نشاندہی کرتی ہیں جو ان خطوں کی اجنبی تجارتی زندگی سے نئی تبدیلیوں کی حامل ہوئی۔

سندھ کی مہروں پر چھوٹی چھینی اور برمے کے ذریعے مختلف نمونے گہرائی میں کندہ کیے گئے (Inlaglio designs) تھے یعنی مطلوبہ نمونہ سطح کے اندر کو کاٹ دیا گیا تھا تاکہ اس کی چھاپ ابھری ہوئی ہو۔ ان مہروں پر کندا اکثر نمونے کاریگری کی شاندار مثالیں ہیں۔ ان نمونوں میں کئی طرح کے جانوروں ہاتھی‘ شیر‘ گینڈا‘ بارہ سینگا‘ مگرمچھ یا گھڑیال کی شبیہیں ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ اس زمانے میں سندھ کی وادی میں یہ سب جانور عام پائے جاتے ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر کوہان والے سانڈیا (Zebu) کی شبیہہ ہے جو نہایت پُرشکوہ ہے اور اتنی چھوٹی سی جگہ میں بنائے جانے کے باوجود بہت زیادہ قوت کا اظہار کرتی ہے۔ سب سے عام شبیہہ بیل جیسے جانور کی ہے جس کا ایک سینگ دکھائی پڑتا ہے اور اس وجہ سے اسے ”یک سنگے“ (Unicorn) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ ارادہ دو سینگوں والے جانور کی شبیہہ بنانے کا ہی تھا جس کا ایک سینگ دوسرے کے پیچھے پوشیدہ ہو‘ لیکن اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ (Ktesias) اور ارسطوں دونوں نے یک سنگے کی آماجگاہ ہندوستان بتائی ہے۔ یک سنگے کی شبیہہ کے آگے ہر مہر میں ایک ڈنڈے کے اوپر ایک عجیب سی چیز بنی ہوتی ہے۔ عام طور سے حالانکہ بھونڈے طریقے سے اسے عصا یا جھنڈا (Standard) بیان کیا جاتا ہے لیکن عین ممکن ہے کہ یہ مویشیوں کے چارے کا سجاوٹی کنڈیا پھر عود جلانے کا برتن ہو‘ مختلف جانوروں کے جسموں کے حصوں کو ملا کر بنائی گئی بھونڈی تشبیہیں بھی ملی ہیں۔ ایک میں آدمی کا چہرہ‘ ہاتھی کی سونڈا ور دانت‘ سانڈ کے سینگ‘ مینڈھے کے دھڑ کا اگلہ حصہ ا ور شیر کے دھڑ کا پچھلا حصہ ہے جس کی دم اوپر کی جانب اٹھی ہوئی ہے اور جس میں شکاری پرندوں جیسے پنجے ہیں۔ کبھی کبھی انسانی شبیہیں بھی شامل کی گئی ہیں لیکن یہ جانوروں کی شبیہوں سے گھٹیا ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کی شبیہوں میں اسی طرح کا فرق مغربی یورپ میں پتھر کے ابتدائی زمانے کے غاروں کے فن میں بھی ملتا ہے۔ موہن جو داڑو سے ملی 3 مہریں خاص دلچسپی کی ہیں چونکہ ان پر کندہ شبیہہ بعد کے ہندو دھرم کے عظیم دیوتا شیو سے مشابہہ دکھائی دیتی ہے۔

بیشتر مہروں پر کچھ تصویری تحریر (Pictographic Script) بھی ہے لیکن غیرمعمولی کاوشوں کے باوجود ابھی تک اس تحریر کو پڑھا نہیں جاسکا ہے۔ یہ تصویری تحریریں میسوپوٹیمیا اور مصر کی تصویری تحریروں سے اتنی ہی مختلف ہیں جتنی یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ ایک محدود وقت اور علاقے کے اندر ارتقا پانے والی تین عظیم تہذیبوں نے3 قطعاً مختلف اسالیبِ تحریر کی تخلیق کی۔ اس حقیقت کی امکانی اہمیت کا جائزہ آگے چل کر لیا جائے گا۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -