داستان بنگلہ دیش کی معروف مصنفہ بیگم رقیہ سخاوت حسین کی

داستان بنگلہ دیش کی معروف مصنفہ بیگم رقیہ سخاوت حسین کی
داستان بنگلہ دیش کی معروف مصنفہ بیگم رقیہ سخاوت حسین کی

  

تحریر:  آغا نیاز مگسی

آج ہم آپ کو ایک ایسی شخصیت کی داستان فن سنائیں گے جنہیں بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کیلیے عظیم جدوجہد کرنے کیلیے یاد کیا جاتا ہے ۔ جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں بیگم رقیہ سخاوت حسین کی۔۔۔۔۔یہ عظیم سماجی کارکن 9 دسمبر 1880ء کو     پیرابوندھ گاؤں مِیٹھاپُکُر اُپ ضلع، رنگ پور  بنگال پریزیڈنسی، برطانوی ہند  (موجودہ بنگلہ دیش) میں پیدا ہوئیں ۔بہترین مصنفہ اورمسلم نسوانیت پسند تھیں اسی لیے آپ کو بنگالی مسلمان خواتین کی تعلیم کے لیے ان تھک کوشش کرنے والی پہلی خاتون کہا جاتا ہے۔

بیگم رقیہ سخاوت حسین کے مختصر حالات  زندگی بیان کیے جائیں توآپ  کو5 سال کی عمر سے سخت پردے میں رکھا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ سکول کی تعلیم عملاً بعید از امکان تھی۔ آپ کے والد   کا نام ظہیر الدین ابو علی حیدر صابر اوروالدہ کا نام  راحت النساء چودھری تھا ۔ آپ کے2 بھائی تھے جن کے نام  محمد ابراہیم صابر اورابو زیغم خلیل اللہ صابر تھے ، 2 بہنیں تھیں بڑی بہن  کا نام قمر النساء  اور چھوٹی بہن کا نام کریم النساء تھا۔ والد  ظہیر الدین آپ کے انگریزی یا بنگالی سیکھنے کے سخت خلاف تھے۔ اس وجہ سے بیگم رقیہ اور ان کی بہن کریم النساء اپنے ایک بھائی کو لے کر رات کے اندھیرے میں ان 2 زبانوں کو پڑھتی تھیں ۔  بیگم رقیہ کی شادی 18 سال کی عمر میں خان بہادر سخاوت حسین  سے کر دی گئی۔ جلد شادی کی وجہ حصول تعلیم سے محروم رکھنا تھا۔ شادی کے بعد بیگم رقیہ نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے  عملی جدوجہد کا  آغاز کر دیا ۔ آپ نے مسلمان لڑکیوں کے بہتر مستقبل کیلئے متعدد سکول قائم کی۔  اس علمی جدوجہد میں آپ کے  شوہر کا بھرپور تعاون شامل تھا۔  کلکتہ ( بھارت ) میں آج بھی بیگم رقیہ حسین کا قائم کردہ " سخاوت میموریل گرلز ہائی سکول آج بھی قائم ہے یہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ ہےاور بچیوں کو  علم کی دولت فراہم کرنے میں مثالی خدمات انجام دے رہا ہے۔

مزید :

ادب وثقافت -