متلون مزاج جغرافیہ ہو یا بیوی اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے

متلون مزاج جغرافیہ ہو یا بیوی اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے
 متلون مزاج جغرافیہ ہو یا بیوی اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:75

”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ اس حصے کا اولین اور طویل ترین مضمون ہے جس میں سالک نے وطن عزیز کے زخموں کی نشاندہی کی ہے ایسا کرتے ہوئے ان کے لب ہنس رہے اور دل رو رہا ہے۔فنی اعتبار سے انہوں نے اس کاا نداز تاریخ کی نصابی کتب کا سا بنایا ہے جس میں محل وقوع جغرافیہ ‘ آبادی‘ صوبے‘ ثقافت وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔لفظ کا ذومعنی استعمال اس مضمون کی خاص خوبی ہے مثلاً:

 ”یہاں کی تاریخ میں جغرافیے کا مزہ ملتا ہے اور جغرافیے میں تاریخ کا لطف آتا ہے“

اس ایک جملے میں ریڈ کلف ایوارڈ کی بدنیتی کا حال خوبی سے ادا کیا ہے ہنسی کے پیچھے کرب کا انداز اور جگہوں پر بھی ہے مثلاً:

 ”14اگست کا تاریخی دن آیا تو اس نوزائیدہ مملکت کو ذرا مختلف قسم کا جغرافیہ ورثے میں ملا جس میں سے آدھا جغرافیہ برما کے جنگلوں کے قریب جا گرا اور آدھا ایران کے قریب جا ٹھہرا ہم نے 24برس کے بعد بڑی مشکل سے یہ بکھرا ہو اجغرافیہ یکجا کیا۔ خدا اب اسے اپنی جگہ پر قائم رکھے۔ متلّون مزاج جغرافیہ ہو یا بیوی اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔“

1971ءکا سانحہ سالک کے دل و دماغ سے کبھی محو نہیں ہوا۔ مزاح کے پردے میں بھی یہ زخم ہرا ہو کر سامنے آتا ہے مثلاً:

”ہم نے آبادی کے اس روز افزوں رجحان کو روکنے کے لیے تمام روایتی طریقے آزمائے لیکن اس کے آگے بند نہ باندھ سکے‘ بالآخر1971 ءمیں تنگ آکر اس کی آدھی آبادی یکمشت تفریق کر ڈالی“

اس مضمون میں سالک نے رعایت لفظی کا خوب صورت استعمال کیا ہے مثلاً:

1:”ان عظیم امتیازات سے مزین ملک میں 4 صوبے اور بہت سی صوبائیت پائی جاتی ہے۔

2:اسلامی جمہوریہ پاکستان میں5 دریا اور بہت سی دریادلی بہتی ہے۔

3: ہمارے انٹلیکچول اختلاف رائے اور استعمال چائے میں کسی سے پیچھے نہیں۔

4:انہو ںنے تو اپنے پہلے اور اکلوتے وزیر اعظم ہی کو لعل و جواہر سمجھ کر برسوں سینے سے لگائے رکھا“

آخری مثال میں بھارتی وزیراعظم کو محاورةً لعل و جواہر کہا ہے لیکن اگر لفظوں کی ترتیب الٹ دیں تو ان کا اصلی نام جواہر لال بنتا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ملکی اداروں کی کمزوری ‘ بدانتظامی‘ قانون شکنی ‘ ملک کی غیر مخلص قیادت پر خوب طنز کیا ہے۔ یہ صدیق سالک کامرغوب موضوع ہے۔ وہ وطن سے محبت کرتے ہیں اور وطن کو نقصان پہنچانے والوں سے نفرت ریاست کے موضوع سے ان کی دلچسپی کا اندازہ ان کی انگریزی کتاب سے بھی ہوتا ہے جس کا نام ہی State and Politicsہے۔

کتاب کے اگلے مضمون کا نام ”مارشل لائ“ ہے۔جو سالک کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔سالک کے مخالفین انھیں جمہوریت مخالف‘ ادیب مخالف‘ آمر کا ساتھی اور مارشل لاءکا حمایتی کہتے ہیں۔

اس مضمون میں انہوں نے کھل کر مارشل لاءکے نقائص پر بات کی ہے۔ زیر نظر مثال میں سالک نے مارشل لاءکوکیڑے مار دوائی سے تشبیہ دی ہے:

”جب ان ظاہرہ کیڑے مکوڑوں کا قلع قمع ہو جاتا ہے تو مارشل لاءمعاشرے کے جراثیم ختم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کام میں دیر ہو جائے تو یہ خود ان جراثیم کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض ڈاکٹر صفت لوگوں نے کہا ہے کہ جس طرح عام دوائیوں پر تاریخ ساخت کے ساتھ معیاد و استعمال بھی درج ہوتی ہے۔ اسی طرح مارشل لاءپر بھی Expiry Dateدرج ہوتی ہے جو بہت کم لوگوں کو نظر آتی ہے۔“

خوبیاں کہہ کر اس کی خامیاں بڑی وضاحت سے بیان کی ہیں مثلاً:

 ”مارشل لاءعوام کا بہت خیر خواہ ہوتا ہے وہ آتے ہی عوام کی تمام ذمے داریاں اور فرائض خود سنبھال لیتا ہے۔ پھر انہیں اپنے بارے میں کسی قسم کی سوچ بچار کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ مارشل لاءہی ان کی جانب سے سوچ سمجھ کر فیصلہ کر دیتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -