جب روسو غریب الوطن تھا، تہی دست تھا اور مصائب میں گھرا ہواتھا

جب روسو غریب الوطن تھا، تہی دست تھا اور مصائب میں گھرا ہواتھا
جب روسو غریب الوطن تھا، تہی دست تھا اور مصائب میں گھرا ہواتھا

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:58

 یہاں تک تو درست ہے لیکن جب روسو جیسے مذہبی آدمی نے جو رات کو بائبل کا مطالعہ کیے بغیر نہیں سوتا تھا، یہ کہا کہ تمام مذاہب اپنی جگہ درست ہیں اور کسی پر بھی سچائی سے عمل پیرا ہو کر انسان نشان منزل پا سکتا ہے تو لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ بات یہاں تک بھی رہتی تو خیر تھی، مگر وہ دو قدم اور آگے بڑھا اور کہا کہ انسان خدا یا مسیحیت پر ایمان رکھے بغیر بھی نجات پا سکتا ہے۔ بس پھر کیا تھا، ایک طوفان برپا ہوگیا۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں عقیدوں کے پیشرو اور محتسب ادارے حرکت میں آگئے اور11جون1762ءکو فرانس کی پارلیمنٹ نے دباﺅ میں آ کر کتاب کو نذر آتش کرنے اور روسو کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

اور اب جو روسو پیرس سے جان بچا کر بھاگا ہے تو اسے تھریسے کو بھی ساتھ لے جانے کی ہوش نہیں تھی۔

فرانس سے بھاگ کر روسو14 جون1762ءکو برن(Bern) پہنچا۔ وہ دراصل دل میں جنیوا جانے کا قصد کیے ہوئے تھا، مگر اسے خبر ملی کہ 19جون 1762ءکو جنیوا کے حکام نے بھی اس کی دونوں کتابوں،”ایمائیل“ اور”معاہدہ عمرانی“ کو نذر آتش کیا ہے اور ساتھ ہی اس کی گرفتاری کا حکم بھی۔ اس صورت حال نے برن کے حکام کو بھی متوجہ کیا کہ وہ بھی روسو کو علاقہ چھوڑنے کا حکم دیں۔ سو، ایسے ہی ہوا اور اب وہ ”نیو شیٹل“(Neuchatel) جا پہنچا۔ یہی علاقہ فریڈرک اعظم کی قلمرو میں آتا تھا۔ وہی فریڈرک اعظم جو والٹیئر کا دوست تھا، مگر روسو کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اس لیے کہ روسو اس پر مسلسل تنقید کرتا رہتا تھا۔ ایک بار اس نے لکھا تھا،”فریڈرک سوچتا تو فلسفی کی طرح ہے، مگر عمل بادشاہ ہی کی طرح کرتا ہے۔“ مگر پھر بھی اس علم دوست بادشاہ نے نہ صرف اپنے نیو شیٹل میں قیام کی اجازت دی، بلکہ وہاں کے گورنر کو یہ بھی کہا کہ وہ روسو کو تمام سہولیات کی فراہمی ممکن بنائے۔

 اب روسو غریب الوطن تھا، تہی دست تھا اور مصائب میں گھرا ہوا، مگر شاباش ہے اس خوددار روسو کے لیے اور تف ہے ہمارے عہد کے دانشوروں کے لیے، جو روٹی کے نوالے اور شاباشی کے تمغے کے لیے جاہل حکام کی چوکھٹ پر سر پٹختے رہتے ہیں۔ روسو نے فریڈرک کو لکھا:

”جناب اعلیٰ! آپ نے مجھے پناہ دی ہے، آپ میرے محسن ہیں۔ ممکن ہوا تو میں اس احسان کا بدلہ اتارنے کی کوشش کروں گا۔ مگر آپ مجھے روٹی بھی دینا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کی رعایا میں کوئی ایسا نہیں جس کو اس کی حاجت ہو۔“

خیر، کچھ دنوں بعد تھریسے بھی نیوشیٹل پہنچ گئی۔ اب وہ نیو شیٹل کے نزدیکی علاقے موٹائرز(Motiers) میں آن بسے تھے۔ مگر بدقسمتی سے کچھ دنوں کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ ان کو موٹائرز کو بھی چھوڑنا پڑا۔ ہوا یوں کہ ایک رات کچھ لوگوں نے اس کے گھر پر پتھراﺅ کیا۔ اب اللہ جانے یہ کس کی شرارت تھی اور مقاصد کیا تھے، مگر1765ءمیں روسو نے اس علاقے کو چھوڑا اور ایک پرسکون آئی لینڈ”سینٹ پیار“(St. Pierre) میں ٹھکانہ کیا۔ یہ ایک خوبصورت جزیرہ تھا، جہاں روسو نے چند ہفتے قیام کیا۔ یہیں پر اسے انگریز فلسفی ہیوم کا پیغام ملا، جس نے اسے انگلستان آنے کی دعوت دی تھی۔ مگر دسمبر1765ءمیں اسے پیرس آنے کی غیر رسمی اجازت مل گئی اور وہ فرانس واپس چلا آیا۔

 جب روسو فرانس پہنچا تو ہیوم بھی لندن سے پیرس آگیا۔ یہ وہ دن تھے جب تمام حکومتوں کی مخالفتوں کے باوجود روسو کی شہرت کا سورج نصف النہار پر تھا۔ روسو کے ساتھ تھریسے، حتیٰ کہ اس کے کتے کا نام بھی یورپ میں گونج رہا تھا۔ اب تو عظیم الشان والٹیئر کا نام بھی اس کے مقابلے میں کسی قدر دھندلا گیا تھا۔ خیر، ہیوم تو اس کا پہلے ہی سے دیوانہ تھا۔ اس نے ایک بار پھر روسو کو انگلستان چلنے کی دعوت دی اور یہ پیشکش اس نے قبول کر لی۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -