سندھ کی آبادی خاصی حد تک خواندہ تھی

سندھ کی آبادی خاصی حد تک خواندہ تھی
سندھ کی آبادی خاصی حد تک خواندہ تھی

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:9

 ان مہروں کے مکمل مقصد کا صرف موہن جوداڑو میں 1200 سے زیادہ ایسی مہریں ملی ہیں لیکن ان کے مقصد و مصرف کا یقینی طور سے تب تک کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا جب تک ان پر کندا تحریر کو سمجھ نہیں لیا جاتا۔ انہیں گانٹھوں اور دوسرے سامان کو مٹی کے گارے سے مہر بند کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا (جیسے کہ لوٹھل میں۔ دیکھئے اوپر) اس لئے یہ اغلب ہے کہ کم از کم ان میں سے کچھ پر لوگوں کے ذاتی نام کندہ ہیں۔ ایک دشواری یہ ہے کہ ایک ہی تحریر والی ایک سے زائد مہریں بہت کم پائی گئی ہیں لیکن اس سے کم از کم یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی مذہبی یا بیانیہ نوعیت کی تحریر نہیں تھی۔ دستے یا دھاگے ڈالنے کے لیے بنائے گئے چھید والے ابھار سے یہ جان پڑتا ہے کہ عموماً ان مہر وںکو مالک اپنے پاس رکھتے تھے۔ برتنوں یا ٹھیکریوں پر بھی یہی تحریر کندہ پائی گئی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوگا کہ سندھ کی آبادی خاصی حد تک خواندہ تھی۔ سندھ کی تہذیب کے پتھر کے مجسمہ سازی کے چند ہی نمونے دستیاب ہوئے ہیں۔ ابھی تک موہنجوداڑو سے صرف 11 ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے ملے ہیں۔ ہڑپہ سے ڈیڑوں (Forso) کے2 مجسمے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ دونوں مجسمے سندھ کی تہذیب کے ہیں یا نہیں‘ یہ امر مشکوک ہے۔ ممکن ہے یہ بعد کے زمانے کے ہوں۔ سبھی مجسمے چھوٹے سائز کے ہیں سوائے2 جانوروں کے مجسموں کے‘ جن میں سے ایک مینڈے اور ہاتھی کی مخلوط شبیہ ہے۔ بقیہ سبھی دیوتاﺅں یا انسانوں کی مورتیاں ہیں۔ چار پانچ مورتیوں کے دیوتا یا انسان پالتی مار کر بیٹھے دکھائے گئے ہیں۔ مجسموں کے چہروں کی بناوٹ میں حد درجے کا عدمِ تناسب یا بے آہنگی ہے۔ پیشانی نیچی اور پیچھے کی طرف جھکی ہوئی ہے‘ آنکھیں تنگ مگر غیرمنگولی قسم کی ہیں‘ بال پیچھے کی طرف جُوڑے کی شکل میں بندھے ہوئے دکھائے گئے ہیں‘ داڑھی ہے مگر مونچھ منڈی ہوئی ہے۔ آنکھوں کے خانوں میں سنکھ کی قسم کی کوئی چیز جڑی گئی ہے۔ ان باتوں کے اعتبار سے ان میں اور میسوپوٹیمیا اور مشرقی سیریا (مثلاً تل اسمار اور ماری) میں پائے گئے لگ بھگ ہم عمر مجسموں کے سروں میں کچھ مشابہت ہے لیکن میسوپوٹیمیا والے مجسمے اُلّو کی طرح گھورتے (Owl like staring) دکھائے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے سندھ کی تہذیب کے مجسمے ان سے بہت مختلف ہیں کیونکہ ان میں غوروفکر کی محویت نظر آتی ہے۔

دراصل دونوں خطوں کی مجسمہ سازی میں کوئی چیز نمایاں طور سے مشترک نہیں‘ کانسے کی صرف چند چیزیں بچ رہی ہیں۔ قابلِ ذکر ایک مجسمہ بھینس کا اور ایک ناچنے والی لڑکی کا ہے۔ بھینس کے سینگ پیچھے کو لہرائے ہوئے ہیں اور مجسمہ ہوبہو اصل بھینس جیسا ہے۔ رقاصہ کی چھوٹی سی مورتی ہے جس میں دکھائی گئی لڑکی بڑے بے باکانہ انداز میں کھڑی ہے وہ صرف بہت سے کنگن پہنے ہوئے ہے۔ پکائی ہوئی مٹی کی بنی ہوئی چھوٹی چھوٹی چیزیں ملی ہیں۔ ان میں بے شمار مجسمے بیلوں اور بھینسوں کے ہیں‘ ان میں سے بعض فنکارانہ طور پر بنی ہوئی ہیں اور پُرمعنی ہیں لیکن زیادہ تر محض عام بازاری بِکری کے لیے بنائے گئے ہیں۔ پکائی ہوئی مٹی کے انسانی مجسمے عام طور سے عورتوں کے ہیں جنہوں نے محض بہت سے زیورات پہن رکھے ہیں ا ور کچھ کے سر پر عجیب قسم کی پھیلی ہوئی اوڑھنی یا ٹوپی سی ہے۔ چند ایک انسانوں یا جانوروں کے مضحکہ خیز مجسمے بھی ہیں۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -