اگر بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زائد ہے تو جبری ازدواجی تعلقات قائم کرنا جرم نہیں، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنادیا

اگر بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زائد ہے تو جبری ازدواجی تعلقات قائم کرنا جرم ...
اگر بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زائد ہے تو جبری ازدواجی تعلقات قائم کرنا جرم نہیں، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنادیا
سورس: File Photo

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی (ویب ڈیسک) الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہے تو قانون کے تحت جبری ازدواجی تعلقات قائم کرنا جرم نہیں سمجھا جاسکتا۔عدالت نے یہ ریمارکس ایک شوہر کو اپنی بیوی کے خلاف ’غیر فطری جرم‘ کرنے کے الزامات سے بری کرتے ہوئے دیئے۔

"آج نیوز" کے مطابق بھارتی ہائی کورٹ کے جسٹس رام منوہر نارائن مشرا نے کہا کہ اس معاملے کے ملزمان کو دفعہ 377 کے تحت قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ جبری ازدواجی تعلقات کو جرم قرار دینے کی درخواستیں اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں، لہٰذا ان کیسز میں کوئی مجرمانہ سزا نہیں اگر بیوی کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہو۔

خاتون درخواستگزار نے اپنے شوہر پر الزام عائد کیا کہ ان کی شادی ایک بدسلوکی کا رشتہ تھا اور شوہر نے مبینہ طور پر اسے زبانی و جسمانی استحصال اور جبر تشدد کا نشانہ بنایا جس میں جنسی زیادتی بھی شامل تھی۔عدالت نے ظلم اور جان بوجھ کر نقصان پہنچانے سے متعلق دفعات کے تحت ملزم کو قصوروار ٹھہرایا جب کہ شوہر کو دفعہ 377 کے تحت الزامات سے بری کردیا۔