”مجھ(سندھو) میں مچھلی کی بہتات ہے، خاص طور پر ”ہلسا“ (hilsa) لذت کے لحاظ سے بڑی پسند کی جاتی ہے،مچھلی کی اہم شکار گاہیں ٹھٹھہ، کو ٹری اور سکھر ہیں 

 ”مجھ(سندھو) میں مچھلی کی بہتات ہے، خاص طور پر ”ہلسا“ (hilsa) لذت کے لحاظ سے ...
 ”مجھ(سندھو) میں مچھلی کی بہتات ہے، خاص طور پر ”ہلسا“ (hilsa) لذت کے لحاظ سے بڑی پسند کی جاتی ہے،مچھلی کی اہم شکار گاہیں ٹھٹھہ، کو ٹری اور سکھر ہیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:212
 ”مجھ(سندھو) میں مچھلی کی بہتات ہے۔ خاص طور پر ”ہلسا“ (hilsa) مچھلی جو اپنی لذت کے لحاظ سے بڑی پسند کی جاتی ہے۔ مچھلی  کے شکار کی اہم شکار گاہیں ٹھٹھہ، کو ٹری اور سکھر ہیں۔ مچھلی پکڑنے کی اور بھی بیسیوں جگہیں ہیں لیکن یہ زیادہ مشہور ہیں۔ ڈیم اور بیراج کے علاوہ لوگوں نے بڑے بڑے مچھلی فارم بھی بنا لئے ہیں۔ ڈیلٹا کے ایک سو پچاس (150) میل کے علاقے میں بہت سی کھاڑیاں اور اتھلا سمندری پانی ہے۔یہ سمندری پانی مچھلی پکڑے کے حوالے سے اہم ہے۔ ”پمفلٹ“(سمندری مچھلی کی ایک قسم جو بہت شوق سے کھائی جاتی ہے) اور جھینگے (prawns) کے حوالے سے اس پانی کی بڑی اہمیت ہے۔ نومبر سے مارچ شکار کا بڑاموسم ہے۔ مچھیروں کو اب حکومت سندھ نے کراچی کی بندرگاہ کے ایک بڑے جدید کولڈ سٹوریج کی سہولت مہیا کر دی ہے جہاں شکار کی جانے والی سمندری مچھلی اور جھینگوں وغیرہ کو سٹور کرکے اندرون اور بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔“
”میری بلھن (سندھ کی مخصوص ڈولفن) کی کہانی تو تم سن چکے ہو۔ مجھے اس پر فخر ہے۔ اِس کا اور میرا ساتھ ازل سے ہے۔ یہ تعداد میں کم رہ گئی تھیں لیکن پھر بھی ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ یہ تو بھلا ہو ”وولڈ وائلڈ لائف“wwf) (کاکہ انہوں نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے اور اب ان کی تعداد بڑھ کر تقریباً ایک ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ دوست! بلھن کو میرا گدلا پانی پسند ہے۔ مجھے اپنے پانیوں پر یہ کھیلتی، قہقہے لگاتی بہت اچھی لگتی ہے اور میں اِس کی شرارتوں سے بہت محضوظ ہوتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے میرے چھوٹے چھوٹے بچے مجھ سے شرارتیں کر رہے ہیں۔ تمھیں معلوم ہے کہ اس کو اپنی مادہ سے بہت محبت ہوتی ہے۔“ عظیم داستان گو شاندار انداز میں اپنی کہانی کے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ 
”میرے بالائی خطے میں آباد تبتی، لداخی، بلتی لوگ شباہت میں وسط ایشیائی نسل کی بجائے جنوب ایشیائی نسل سے ملتے ہیں۔زیادہ تر لوگ تبتی زبان کے ہی مختلف لہجے ہی بولتے ہیں جن کا ماخذ تبتی زبان ہی ہے۔ اکثریت بدھ مت کے ماننے والوں کی ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد اب اسلام قبول کر چکی ہے۔ مقامی معاشیات میں گلہ بانی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ہمالیہ کے علاقے میں میں اور میرے معاون دریا اپنے سے جڑی آبادیوں کی رسوم اور ثقافتیں مل کر ایک ایسی دریائی ثقافت کو جنم دیتی ہیں جو باقی دنیا کی دوسری دریائی ثقافتوں سے منفرد، دلکش اور مخصوص ہے۔ سندھ وادی میں بسنے والے قدیم اور جدید لوگ ”ہند اور سندھ“کی زبانیں بولتے ہیں۔ آریائی، بدھ مت، ہندو مت یہاں کے ابتدائی مذھب تھے اور اسلام ان وادیوں کا نسبتاً نیا مذہب ہے اور سلام کا یہاں پھیلنا اس بات کا غماز ہے کہ صدیوں پہلے بزرگان دین نے تبلیغ اسلام کے لئے ادھر کا رخ کیا۔یہاں کی اسلامی مذھبی ثقافت قدیم مذھبی رسوم اور اسلامی علوم کی ثقافت کا ایسا امتزاج ہے جو میری ہی وادیوں تک محدود ہے۔“
”کشمیر کے مغربی پہاڑی علاقوں میں ”دارد“ (dard) زبان بولنے والے (کافر، کوہستانی، شین اور کشمیری) آباد ہیں۔ یہاں بولی جانے والی زبانوں کا ماخذ indo european زبانیں ہیں۔دریائے ہنزہ کے ساتھ آباد لوگ ”بروششکی“ زبان بولتے ہیں۔ یہ زبان نہ تو کسی اور زبان سے ملتی ہے اور نہ ہی کوئی دوسری زبان اس کا ماخذ ہے۔ غلہ بانی کے علاوہ جہاں ممکن ہو لوگ کھیتی اگاتے ہیں۔ پٹھان پشتو بولتے ہیں اور ان کی زیادہ تعداد خیبر پختون خوا میں آباد ہے اور ان کی رشتہ داریاں افغانستان میں بھی ہیں۔ یوسف زئی پٹھانوں کا بڑا قبیلہ ہے اس کے علاوہ آفریدی، خٹک، مہمند، وزیر اور دوسرے قبائل ہیں۔ پٹھانوں کے علاقوں میں آج بھی ان کا روایتی جرگہ اور سیاسی نظام قائم ہے۔ خیبر پختون خوا کے بعد پنجاب کے میدان شروع ہو تے ہیں جہاں پنجابی زبان کے مختلف لہجے بولے جاتے ہیں لیکن یہاں قبائل کی تقسیم زبان کی بجائے برادریوں کی بنیاد پر ہے اور پھر ان برادریوں کی آگے بہت سی ذیلی برادریاں ہیں۔ پنجابی بولنے والے جاٹ، راجپوت، گجر، آرائیں، کشمیری پنجاب کے میدانوں کی اہم ذاتیں ہیں۔سندھ کی وادی میں آباد کسان اور قبیلے سندھی کے علاوہ اپنے قبائل کی زبانیں بھی بولتے ہیں۔ دوسری زبانوں کی طرح سندھی زبان کے بھی لہجے مختلف ہیں۔سندھی ثقافت پر سندھیوں کو ہمیشہ ہی فخر رہا ہے۔ ہاں یاد آیا تمھیں اور تمھارے دوستوں کو سندھی ثقافت کے دو اہم ترین اجزاء ”اجر ک اور سندھی ٹوپی“ کے بارے بتانا تو بھول ہی گیا ہوں۔ سندھی ثقافت میں ان دونوں کی بہت اہمیت ہے اور ان کے تذکرے کے بغیر یہ کہانی ادھوری رہے گی۔ لو یہ بھی سنادیتا ہوں۔ ویسے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اندرون سندھ کی ثقافت سندھ کے شہری علاقوں سے مختلف ہے جہاں زیادہ تر اردو زبان بولنے والے مہاجر آباد ہیں جو تقسیم ہند کے وقت ہندوستان کے مختلف شہروں سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے۔ برا نہ ماننا ان کو بھی ایک منصوبے کے تحت آباد کیا گیا تھا تاکہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم کے لئے انتخابی حلقہ تشکیل دیا جا سکے۔یہ منصوبہ تو مکمل نہ ہو سکا لیکن آنے والے وقت کے لئے بہت سی مشکلات کا باعث بنا۔کراچی منی پاکستان ہے کہ یہاں پاکستان کی مختلف قومیں پٹھان، بلوچ، پنجابی اور مکرانی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -