ایک دو سوال کے بعدکیشئر کی ملازمت ملی،تنخواہ 300روپے25 روپے سفری الاؤنس۔ اتنی بڑی رقم دیکھی ضرور تھی لیکن ہمیشہ دوسروں کے پاس

 ایک دو سوال کے بعدکیشئر کی ملازمت ملی،تنخواہ 300روپے25 روپے سفری الاؤنس۔ اتنی ...
 ایک دو سوال کے بعدکیشئر کی ملازمت ملی،تنخواہ 300روپے25 روپے سفری الاؤنس۔ اتنی بڑی رقم دیکھی ضرور تھی لیکن ہمیشہ دوسروں کے پاس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:120
 غم روزگار
اسی دوران ابا جان نے اپنے ذرائع سے میری نوکری کا بندوبست بھی کر رکھا تھا تاکہ بقول ان کے میں خود اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاؤں۔ اب پتہ نہیں یہ ان کی خواہش تھی، مالی مجبوری تھی یا مجھے آوارگی سے بچانا مقصد تھا کہ جس دن میرا آخری پریکٹیکل ہوا، اس کے ٹھیک 4 دن بعد میں ان کی ہدایت پر ہوٹل کراچی انٹر کانٹیننٹل جا پہنچا اور وہاں ابا جان کے دوست کرنل نصراللہ سے ملا۔ جنہوں نے فوجیوں والی روایتی سرد مہری سے مجھے دیکھا اور پرکھنے کے لیے ایک دو سوال کئے اور اسی دن مجھے وہاں کیشئر کی ملازمت کا تقرر نامہ تھما دیا گیا۔میرا ماہانہ مشاہرہ 300روپے مقرر ہوا تھا،25 روپے سفری الاؤنس اس کے علاوہ تھا۔ اتنی بڑی رقم اس سے پہلے میں نے دیکھی تو ضرور تھی لیکن ہمیشہ دوسروں کے پاس۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یکدم اتنے پیسے میری ذاتی ملکیت ہوں گے جسے میں اپنی مرضی سے خرچ کر سکوں گا۔
یوں میری عملی زندگی کاآغاز ہوا۔ مجھے امتحانوں کے بعد آرام کرنے کے لیے صرف دو چار دن ہی ملے تھے۔ اور پھر میں ایسا ڈیوٹی پر چڑھا کہ چڑھا ہی رہا اور اب 46 برس بعد جا کر کہیں خیال آیا کہ میں تو تقریباً آدھی صدی تک زندگی کی گاڑی میں مسلسل گھوڑے کی طرح جتا رہا ہوں اب آرام کرنا میرا حق بنتا ہے۔ دل نہیں مانتا،مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے بہرحا ل تسلیم کرنا ہے، اس سے فرار ممکن ہی نہیں۔ 
اب صورت حال کچھ اس طرح تھی کہ میں 3 بجے شام کو جرمن زبان سیکھنے کے لیے جاتا جس کا اب دوسرا سال شروع ہو گیا تھا۔ وہاں سے6 بجے فارغ ہو کر سیدھا ہوٹل کی ڈیوٹی پر جا پہنچتا جو صبح دو تین بجے تک چلتی تھی۔ٹھیک 8 بجے ہوٹل کے سارے ملازمین کو رات کا کھانا ملتا تھا جس کو یار لوگ کہتے تھے کہ یہ ہوٹل کے پچھلے دن کے بچے کھچے کھانوں کو نہلا دھلا کر اور صاف ستھرا کر کے سٹاف میس میں بھیج دیا جاتا تھا۔ کھانے کی مقدار ہماری سوچ اور مانگ سے کہیں زیادہ ہوتی تھی لیکن اس میں ذائقہ نام کو بھی نہ تھا۔ اونچی دکان پھیکاپکوان والا محاورہ یہاں پوری طرح فٹ بیٹھتا تھا۔ وہاں کاسٹاف میس مشترکہ تھا جس میں خواتین اور حضرات ایک ساتھ ہی بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔
نئی نئی جوانی اور نوکری آئی تھی، جس نے اخلاقیات کو پس پشت ڈال کر مستی کی طرف مائل کیا، اور کچھ تو کر نہیں سکتا تھا، اس زمانے کے فلمی ہیرو کی طرح اپنی ٹائی کی گرہ ڈھیلی کر کے اور گلے کا بٹن کھول کر صنف نازک کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتا۔ یہ حلیہ وہاں کے ماحول میں بدتمیزی کی انتہا سمجھا جاتا تھا لیکن کسی نے اعتراض نہ کیا۔ ایک دن میں یہ سب کچھ کیے بیٹھا تھا کہ بدقسمتی نے داخلی دروازے پر دستک دی جو میرے بالکل سامنے ہی تھا۔ پتہ تب ہی لگا جب وہاں سے یکدم کرنل صاحب نمودار ہوئے اور گولی کی طرح سیدھے میرے سر پر آ پہنچے، کہنے لگے ”یہ سب کیا ہے؟ تم بدمعاش بنتے ہو“۔ کھڑا کر کے خود اپنے ہاتھوں سے میرے بٹن بند کیے اور ٹائی کی گرہ ٹھیک کی۔ جاتے ہوئے آہستگی سے پیغام دے گئے کہ یہاں سے فارغ ہو کر میرے دفترآجانا مجھے تم سے کچھ کام ہے ’جاناں‘۔ صاف لگ رہا تھا کہ آج نوکری گئی لیکن انھوں نے اپنے میز کے ساتھ کھڑا کر کے سخت فوجی زبان میں مجھے سمجھادیا اور ساتھ ہی اپنی خوبصورت سی سیکرٹری کو بلا کر اس تنبیہ کو سرکاری روپ دینے کے لیے ایک خط بھی جاری کرنے کا حکم دیا اور مجھے کمرے سے نکال باہر کیا۔ان کا یہ محبت نامہ مجھے کچھ دیر بعد ہی ایک چپڑاسی نے دستخط کروا کے تھما دیا۔ وہ بدبخت یہ سب کچھ کرتے ہوئے ہولے ہولے مسکرا بھی رہا تھا جیسے اس کو علم تھا کہ لفافے کے اندر کیا ہے۔ بات آئی گئی ہوئی اور میں بھی کچھ سدھر سا گیا تھا۔ ویسے یہ فوجی بھی کیسے ظالم ہوتے ہیں نا، جب نئی نئی جوانی آئی تو ابا جان نے نہ اٹھنے دیا اور اب جب خود کفیل ہوا تو کرنل صاحب مجھے اپنی اوقات میں واپس لے آئے تھے۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -