دولت کسی حد تک خوشی مہیا کر سکتی ہے، آپ اسکے بغیر بھی خوش رہ سکتے ہیں،خوشی اور شادمانی کی سلطنت خیالات اور احساسات میں واقع ہے

 دولت کسی حد تک خوشی مہیا کر سکتی ہے، آپ اسکے بغیر بھی خوش رہ سکتے ہیں،خوشی ...
 دولت کسی حد تک خوشی مہیا کر سکتی ہے، آپ اسکے بغیر بھی خوش رہ سکتے ہیں،خوشی اور شادمانی کی سلطنت خیالات اور احساسات میں واقع ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:125
اگر میرے پاس 10 لاکھ ڈالر ہوتے تو میں خوش ہوتا:
ذہنی امراض کے علاج کے اداروں میں میری ملاقات اکثر ایسے افراد سے ہو چکی ہے جو لکھ پتی تھے، لیکن ان کا اصرار تھا کہ ان کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔ یہ افراد،ان اداروں میں اس لیے مقید تھے کہ وہ دماغی خلل اور اپنے آپ کو مصیبت و مسائل میں گھر جانے کے خبط میں مبتلا تھے۔ دولت، آپ کو کسی حد تک خوشی مہیا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس آپ دولت کے بغیر بھی خوش رہ سکتے ہیں۔ آج کے دور میں اکثر افراد، ریڈیو، ٹیلی ویژن، گاڑی، گھر، ذاتی کشتی، سوئمنگ پول (تیراکی کا تالاب) کی خرید کے ذریعے خوشی و شادمانی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس طریقے کے ذریعے خوشی نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
خوشی اور شادمانی کی یہ سلطنت آپ کے خیالات اور احساسات میں واقع ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذرائع کے ذریعے خوشی حاصل کی جا سکتی ہے کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر وہ کسی شہر کے میئر منتخب ہو جائیں، کسی ادارے کے سربراہ بن جائیں تو خوشی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔
درحقیقت خوشی و مسرت، ایک ذہنی اور روحانی روّئیے کا نام ہے۔ مندرجہ بالا کوئی بھی عہدہ اورمرتبہ خوشی و مسرت کا ضامن نہیں ہے۔ آپ کی قوت و صلاحیت، خوشی و مسرت اور شادمانی، نہایت ہی نفیس، مقدس اور روحانی انداز میں آپ کے تحت الشعور میں موجود صحیح عمل میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر اس کا اطلاق آپ کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر ہوتا ہے۔
ایک شخص نے پرسکون ذہن کے ماحصل میں خوشی تلاش کر لی:
سان فرانسکو میں، کئی برس قبل، اپنے ایک لیکچر کے دوران میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو اپنے کاروباری حالات کے باعث بہت ہی رنجیدہ اور دل گرفتہ تھا۔ وہ ایک ادارے میں جنرل منیجر تھا۔ اس کا دل، ادارے کے نائب صدر اور صدر کے بارے ناراضگی اور غصے سے لبریز تھا۔اس کا کہنا تھا کہ یہ دونوں اس کے مخالف ہیں۔ اپنی ذات میں موجود پریشانی کے باعث کاروبار تنزلی کی طرف جا رہا تھا، اسے نہ تو کوئی منافع مل رہا تھا اور نہ ہی اس کے حصص پر سود حاصل ہو رہا تھا۔
اس شخص نے مندرجہ ذیل طریقے اور ترکیب کے ذریعے اپنا یہ کاروباری مسئلہ حل کیا: سب سے پہلے اس نے یہ کام کیا کہ صبح بیدار ہو کر اس مثبت سوچ کے ذریعے دل ہی دل میں یہ الفاظ کہے:
”ہمارے ادارے میں جو لوگ اس وقت کام کر رہے ہیں، وہ سب کے سب نہایت ایماندار، مخلص، تعاون کرنے پر آمادہ، قابل بھروسہ اور نیک نیت ہیں اور اپنے ان رویوں کا اظہار دوسروں کیلئے بھی کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس ادارے کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے ایک ذہنی اور روحانی ربط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اپنے ادارے میں موجود تمام لوگوں اور اپنے ان دو ساتھوں کیلئے اپنے خیالات اور الفاظ کے ذیعے محبت، پیار، سکون، طمانیت اور نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔ ادارے کے صدر اور نائب صدر کو ان کی اپنی تمام مصروفیات اور سرگرمیوں میں روحانی طریقے کے ذریعے راہنمائی مہیا کی جاتی ہے۔ میرے تحت الشعوری ذہن کی لامحدود تخلیقی قوت، میرے ذریعے تمام فیصلے کرتی ہے۔ کاروباری معاملات میں میرے ان دو ساتھیوں کے ساتھ شاندار تعلقات قائم ہیں۔ میں دفتر پہنچنے سے قبل ان دونوں ساتھوں کو امن، سکون، محبت و پیار اور نیک خواہشات کے پیغام روانہ کرتا ہوں۔ میرے سمیت اس ادارے میں کام کرنے والے تمام افراد کے دل میں اور اذہان میں امن و سکون، طمانیت اور ہم آہنگی جیسے اعلیٰ جذبات موجود ہیں۔ اب مجھ پر ایک نیادن منکشف اور طلوع ہوتا ہے، وہ دن، جو بھروسے اور اعتماد سے بھرپور اور لبریز ہے۔“
( جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -