امریکہ میں بسنے والے دور دراز دیسوں سے آئے لوگوں کی جنم کہانیاں آپس میں یوں مدغم ہیں جیسے ریشم کے الجھے ہوئے دھاگے ہوں 

  امریکہ میں بسنے والے دور دراز دیسوں سے آئے لوگوں کی جنم کہانیاں آپس میں یوں ...
  امریکہ میں بسنے والے دور دراز دیسوں سے آئے لوگوں کی جنم کہانیاں آپس میں یوں مدغم ہیں جیسے ریشم کے الجھے ہوئے دھاگے ہوں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:40
2-9-2018
ناول ”طاؤس فقط رنگ“کی تقریب رُونمائی 
(5 تا 8 بجے شام)
پاکستان کلچرل سینٹر کینیڈا کی طرف سے اس تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ ناول محترمہ نیلم احمد بشیر کی ایک کامیاب کاوش ہے۔ 
ہم 6 بجے وہاں پہنچے تو وہاں پہلے ایک”فیملی آف ہارٹ“ نامی عنوان سے ڈاکٹر رضوان لیکچر دے رہے تھے۔ یہ اُن کی کتاب "Anger Management" پر لیکچر تھا۔ وہ Anger کی باریکیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے رہے اور پھر آہستہ آہستہ اُس پر کنٹرول اور ردِ عمل پر روشنی ڈالتے رہے۔ یہی کوئی آدھ گھنٹہ لیکچر کے بعد سامعین سے کہا گیا کہ اگر کوئی سوال پوچھنا چاہیں تو آگے آئیں۔
چنانچہ کم و بیش دس بارہ زن و مرد Anger کی جزیات پر اپنی تشنگی دُور کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب سے رجوع کرتے رہے۔ میں نے بھی اس ساری صورتحال میں اضافہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ ایک "Posed Anger" بھی تو ہوتا ہے جس کا غالباً آپ نے اپنی کتاب میں ذکر نہیں کیا۔ میں نے بتایا کہ نماز پڑھنے کیلئے گھر سے مسجد کو جاتے بناوٹی وارد کیے ہوئے Anger کی بدولت میرے محلے کے عام اور خاص طور پر گلیوں کی نکّر پر کھڑے آواہ لڑکے مجھ سے کنّی کترا جاتے اور اِدھر اُدھر ہوجاتے تھے۔ اس پر حاضرین نے ایک بھر پور ہنسی کے ذریعے داد دی۔ 
 تقریب سے پہلے میں نے نیلم احمد بشیر صاحبہ کی کتاب ”طاؤس فقط رنگ“ وہاں سے خرید کی اور اُن سے اپنا تعارف کروانے کے بعد کتاب پر اُن کے آٹو گراف لیے اور ساتھ ہی اپنی کتا ب Preeti (English) اپنے سگنیچر کے ساتھ اُن کو پیش کی جو انہوں نے قبول کی۔ 
نیلم احمد بشیر کہتی ہیں کہ میں پاکستانی ہوں اور میرے بچے امریکن پاکستانی ہیں۔ امریکہ میں بسنے والے دور دراز کے دیسوں سے آئے ہوئے لوگوں کی جنم کہانیاں آپس میں یوں گتھی، ملی جلی اور مدغم ہیں جیسے ریشم کے الجھے ہوئے دھاگے ہوں۔ آج ڈی این اے ٹیسٹنگ ہمیں بتاتی ہے کہ سبھی انسان ایک دوسرے کے رشتہ دار اور قرابت دار نکلتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ دونوں ہی میرے لیے اہم ہیں، اس لیے دونوں کی کہانی بیان کرنا ضروری تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند وہ سنہری، چمکتی، چہکتی چڑیا تھی جس کی تانگ میں گورے دوڑے چلے آئے تھے۔ آج امریکہ وہ خوبصورت طاؤس ہے جس کے رنگوں کے سحر میں سبھی قومیں گرفتار ہیں۔ یہ گذرتے ہوئے عہد کی نفسیاتی، ثقافتی اور سماجی صورتحال کی روداد ہے۔ یہ آج کی کہانی ہے۔ 
پہلے ایک جہاندیدہ، کہنہ مشق مصّنف نے اُن کے ناول پر سیر حاصل تبصرہ کوئی ڈیڑھ گھنٹہ میں پیش کیا۔ اُس کے بعد ایک دوسرے رائٹر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد ایک اور ادیب نے بھی اِس کتاب کے مندرجات پر روشنی ڈالی۔ پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا تو محترمہ نے کھل کر اپنا ما فی الضمیر پیش کیا اور بتایا مختلف تہذیبوں کے آپس میں جب ٹکراؤ یا تناؤ پیدا ہوتا ہے تو پھر بات کس طرف جا نکلتی ہے اور سوسائٹی پر کیا اثرات مرتبّ ہوتے ہیں؟ انہو ں نے فرمایا کہ پاکستان اور امریکہ دونوں ہی میرے لیے اہم ہیں۔ اس لیے دونوں کی کہانی کہنا ضروری ہے۔ 
پھر حاضرین کو موقع دیا گیا کہ وہ بھی کوئی سوال پوچھنا چاہیں تو پوچھیں۔ چنانچہ ناول پر تنقیدی سلسلہ چلتا رہا۔ پھر ایک صاحب نے اُن کے افسانے ”ہیرامنڈی“ پر خیالات کا اظہار کیا اور پوچھ ہی لیا کہ ”ہیرامنڈی“ افسانہ آپ بغیر مشاہدہ کیسے لکھ پائیں۔ تو انہوں نے بلا جھجک کہا کہ وہ دو تین دفعہ خود بہ نفس نفیس وہاں جا کر مشاہدہ کرتی رہیں اور گانے سنتی رہیں۔ تبھی تو لکھنے والا ایک حقیقی تصویر پیش کر سکتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر ہم رات گئے دیر سے گھر پہنچے اور کھانا کھا کر سو رہے۔(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -