آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے

آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے
آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے

  

 اگر ہمارے اور ہمارے لیڈروں کے اعمال کے نتیجے میں کوئی آسمانی یا زمینی ”اتھل پتھل“ نہ ہوئی تو موجودہ سال الیکشن کا سال ہوگا۔پاکستان کو ا ﷲ تعالیٰ نے ہر موسم سے نوازا ہے ۔ ہر موسم کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ۔گرمیاں آتی ہیں تو سردیوں کے کپڑے سنبھال کر گرمیوں کے نکالے جاتے ہیں ، اسی طرح موسم سرما میں ہوتا ہے،بلکہ دکان دار تو ”ایک خریدو اور ایک ساتھ فری“ والی سیل لگا کر اپنا سٹاک ختم کرتے ہیں ۔انسان تو انسان، پرندے بھی موسموں کی تبدیلی کی تیاری کرتے ہیں ،کچھ اُدھر سے اُدھر اور کچھ سائبیریا سے اُدھر آجاتے ہیں ۔ بہار میں رنگ رنگ کے پھول کھل جاتے ہیں تو برسات کی بھی اپنی کشش ہے ، شاعرعموماً ساون کے دنوں میں ذہنی عدم توازن کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ہاں برسات میں ”برساتی مینڈک“ بھی ہوتے ہیں ۔ قدرتی موسم کے ہم رقاب اب ”انتخابی موسم “ بھی شروع ہوگیا ہے اور اس موسم کا سب سے بڑاحسن ”انتخابی مینڈک“ ہیں، یعنی ہمیشہ کی طرح ”پیشہ ور امیدواران اسمبلی“ نے لنگر لنگوٹ کسنے شروع کر دئیے ہیں اور اندازے لگا کر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی،دوسری سے تیسری اور پھر تیسری سے پہلی یا دوسری میں”مینڈکوں“ کی طرح چھلانگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی سر جوڑ لئے ہیں کہ جائز یا ناجائز، اصول سے یا بے اصولی سے، کسی بھی طرح الیکشن میں کامیابی حاصل کرنی ہے ۔ یہ لوگ بھی سچے ہیں ،کیونکہ ملک و قوم کی خدمت صرف اقتدار میں رہ کر ہی ہوسکتی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں ملک و قوم کی خدمت اپوزیشن میں رہ کر بھی ہوتی ہے ،مگر چونکہ پاکستان ترقی یافتہ ملک نہیں ہے، اس لئے ملک و قوم کی خدمت کے لئے اقتدار لازمی ہے۔ یہاں ملک و قوم سے مراد اپنی ذات اور اپنا خاندان ہے، اسی لئے تو پانچ سال جن اصولوں کی قائدین گردان کرتے ہیں ، انتخابی موسم آتے ہی یہ اصول طاق نسیاںہو جاتے ہیں ۔ قومی سطح پرآئندہ الیکشن میں انتخابی دنگل پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اورمسلم لیگ (ن) میں متوقع ہے ، باقی چھوٹے جوڑ ہیں ۔ پیپلز پارٹی کامعاملہ یہ ہے کہ اس نے مسلسل عوام کانام لیا ہے، لیکن اس نے غلطی سے بھی عوام کے لئے کوئی اچھانہیں کیا ، بلکہ جاتے جاتے بھی ہائر ایجو کیشن کمیشن کا ستیاناس کر رہی ہے۔ اس کا اورعوام کا معاملہ ساغر صدیقی کے اس شعر جیسا ہے ۔مرے دامن میں شراروں کے سوا کچھ بھی نہیں آپ  پھولوں  کے  خریدار  نظر  آتے  ہیں  تحریک انصاف کی مقبولیت ”فرینڈلی اپوزیشن“ کے طفیل ہے ۔ عوام نے دونوں بڑی جماعتوں سے مایوس ہوکر اُدھر کا رخ کیااور دیکھتے ہی دیکھتے ہر سُو ”سونامی“ کی جھل تھل ہوگئی، لیکن عمران خان کے صرف ایک جملے سے مقبولیت کو بریک لگ گئی ۔کسی نے انہی ”انتخابی مینڈکوں“ کے بارے میں ان سے سوال کیا کہ آزمودہ پاپی آپ کیوں قبول کر رہے ہیں ؟تو جواب ملاکہ ”مَیں فرشتے کہاں سے لاﺅں“ ....حالانکہ فرشتوں کی وجہ سے ہی تو ان کو مقبولیت ملی ۔ سکولوں٬ کالجوں کے طالب علم اور نوجوان جو ان کی طاقت بنے ہیں، فرشتوں سے کم نہیں ۔ نہ انہوں نے ریلوے کو تباہ کیا اورنہ ہی پی آئی اے کا کباڑہ کیاہے۔ یہ معصوم لوگ ملک سے صحیح معنوں میں مخلص ہیں اور ملک کی ترقی کی آس میں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔ ویسے بھی کرپشن کے دیو اور جن حالیہ دور کا تحفہ ہیں، پاکستان میں فرشتوں کی کمی کبھی نہیں رہی اور نہ ہے ۔ جسٹس کارنیلس نے کیابنایا؟ کچھ بھی نہیں.... ریٹائرمنٹ کے بعد ساری عمر ہوٹل کے ایک کمرے میں مقیم رہے ۔ قائداعظم ؒ کے ساتھی جناب سردار عبدالرب نشتر، جنرل گل حسن ، ائر مارشل نور خان.... ناموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ سب کے پاس کرپشن کے مواقع تھے، مگر ان لوگوں کے دامن پر کوئی چھینٹ نہیں ہے ۔ عمران خان کے ساتھی ائر مارشل اصغر خان، ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر سب گواہی دیں گے کہ انتہائی دیانت دار آدمی ہیں ۔ یہ سب فرشتے ہی ہیں، بلکہ ایک لحاظ سے فرشتوں سے بھی بڑھ کر، کیونکہ فرشتوں کے پاس گناہ یا کرپشن کا اختیار ہی نہیں، جبکہ یہ لوگ بااختیار ہوتے ہوئے بھی پاک صاف رہے ۔ شیطا نوں کے ٹولے کے مقابلے میں قوم کے پاس فرشتے بھی ہیں ، آپ ڈھونڈیے تو سہی.... ”ایک ڈھونڈو ملتے ہیں ہزاروں“ ....ان ہی کی وجہ سے ملک قائم ہے اور رہے گا، انشاءاﷲ ! پرویز مشرف نے جب نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو ان کے ساتھیوں کا ایک بڑا گروہ ان سے الگ ہوکر پرویز مشرف کا ساتھی بن گیا۔ ان میں سے کافی لوگ وہ تھے، جن کا کام ہی چڑھتے سورج کی پوجا کرنا ہے ۔ یہ لوگ ملک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں ۔ نواز شریف نے قوم سے وعدہ کیا کہ ایسے لوگوں کو آئندہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ مخلص لوگوں نے بھی شکر کیا کہ چلو اسی بہانے یہ ”روڑے“ راستے سے اٹھا کر دور پھینک دئیے جائیں گے، مگر نہ جانے ان لوگوں کے پاس کون سی ”گیدڑسنگھی“ ہے کہ قوم کی ان سے جان چھوٹتی نظر نہیں آتی ۔ عوام ان سے بیزار اور قائدین مشتاق ۔اﷲہی جانے کیاماجرا ہے ۔ اب اگر ان کی موجودگی میں کوئی نظام کی تبدیلی کا نعرہ لگاتا ہے تو وہ اپنے کو تو شاید دھوکا نہ دے، عوام کو ضروردھوکا دیتا ہے ۔ تبدیلی ضرور آئے گی، مگر عوام کی زندگی میں نہیں ،ان لوگوں کی اپنی زندگی میں ....کہ جو کروڑ پتی ہیں، وہ ارب پتی ہو جائیں گے اور جو ارب پتی ہیں وہ کھرب پتی ۔ نظریاتی بنیاد پر یا معقول اختلافی بنیاد پر جماعت تبدیل کرنا بری بات نہیں، بلکہ جمہوریت کا لازمی حصہ ہے، جیسا کہ سینیٹر انور بیگ اور جاوید ہاشمی وغیرہ کا اپنی جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں جانا۔ اعتراض جن لوگوں یا گروہوں پر ہے، ان کو سب جانتے ہیں ۔ نواز شریف اور عمران خان سے گزارش ہے کہ عوام پر اعتماد کریں اور اصولی بنیاد پر سیاست کریں ۔ ان ہی لوگوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتا ہے، مگر فطرت نہیں بدل سکتی ۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ ”مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا“ ....معلوم نہیں یہ کیسے مومن ہیں کہ بار بار ڈسے جاتے ہیں مگر باز نہیں آتے۔ آخر میں شیخ سعدی کا بھی مشہور مقولہ سنتے جائیے کہ ” آزمودہ را آزمودن جہل است “ یعنی آزمائے ہوئے کو آزمانا جہالت ہے ۔

مزید :

کالم -