نیا بلاول ہاﺅس اور مستقبل کی سیاست!

نیا بلاول ہاﺅس اور مستقبل کی سیاست!
نیا بلاول ہاﺅس اور مستقبل کی سیاست!

  

کنالوں، ایکڑوں اور میلوں کا حساب تو کوئی پٹواری ہی بتا سکتا ہے، لیکن تصویر نے بہرحال یہ ثابت کر دیا کہ لاہور میں صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے لئے محل نما عمارت تعمیر ہو چکی اور اس کی تزئین بھی گزشتہ روز ہو گئی تھی کہ یہ تصویر تازہ تو ہے، لیکن چند روز پہلے کی ہے۔ اب کسی نے اس کا رقبہ16اورکسی نے 100کنال لکھا اور کہا۔ کوئی ایکڑوں کی بات کرتا ہے، اس پر اتفاق نہ سہی لیکن ہیلی پیڈ، سوئمنگ پول، بڑے بڑے لان اور ہال کمروںکے بارے میں یہاں بھی اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور اس پر بھی سبھی متفق ہیںکہ یہ عمارت بم پروف اور ہاﺅسنگ کے شہنشاہ ریاض حسین ملک کے ذہن رسا کی مرہون منت ہے جو انہوں نے اپنی نگرانی میں تیار کرا کے اپنے دوست کو تحفے کے طور پر پیش کر دی ہے اور اب اس میں سیاسی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ خود آصف علی زرداری تو یہاں رونق افروز ہوا ہی کریں گے لیکن زیادہ وقت پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہی کا ہو گا کہ وہ اسے مرکز بنا کر سیاسی سرگرمیوں کی نگرانی اور ان میں حصہ لیں گے۔ ہمارا بھی بہت جی چاہتا ہے کہ ہم بحریہ ٹاﺅن کے اس شاہکار کو دیکھیں، لیکن شاید یہ حسرت ہی رہے کہ وہاں تک رسائی کے پیمانے مختلف ہو گئے ہوئے ہیں۔ بات کسی اور طرف نکل گئی۔ ریاض حسین ملک کا جب سے ارسلان افتخار سے تنازعہ ہوا تب سے وہ زیادہ ہی خبروں میں رہنے لگے ہیں، حالانکہ ایسے کام تو وہ بہت پہلے ہی سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ یقین نہ ہو تو بحریہ ٹاﺅن لاہور،اسلام آباد کے منصوبوں کی درست تفصیل حاصل کریں اور لاہور کے شاپنگ مال کا ریونیو ریکارڈ چھانیں تو آپ کو بڑے بڑے نام ملیں گے جن کو بنے بنائے گھر، لگژری فلیٹ اور پلاٹ تحفے میں ملے ان میں کوئی شخصیت بھی نہیں، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں ان میں متعدد میڈیا کے لوگ بھی ہیں۔ ابھی حال ہی میں لاہور بحریہ ٹاﺅن کی نئی سکیم میں ایک معروف اینکرپرسن کو تین منزلہ پلازہ تحفے میں دیا گیا ہے جہا ںوہ شاپنگ مال بنا رہے ہیں۔بات تو لاہور میں بالآخر تیار ہو جانے والے بلاول ہاﺅس کی تھی اور درمیان میں ذکر خاص آ گیا۔ بہرحال یہ صدر آصف علی زرداری کی دیرینہ خواہش تھی کہ لاہور میں رہ کر سیاست کی جائے کہ یہ لاہور ملک کی سیاست کا مرکز اور دل ہے، وہ کئی بار اس کا اظہار بھی کر چکے تھے کہ لاہور آتے رہا کریں گے بلکہ ایک بار تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ لاہور میں ڈیرہ جما کر بیٹھیں گے اور پنجاب کی سیاست کا رُخ تبدیل کر دیں گے۔ ہمیں یاد ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور اُن سے پہلے ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو بھی زندہ دلوں کے اس شہر کو ایسی ہی اہمیت دیتے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو تو فلیٹیز ہوٹل کو رونق بخشا کرتے، انٹر کانٹی نینٹل میں بھی ٹھہرتے رہے، جبکہ محترمہ گلبرگ میں گلزار ہاﺅس میں مہمان ہوتی تھیں۔ الحاج عزیز الرحمن چن لاہور کے صدر تھے تو انہوں نے بڑے شوق سے محترمہ کے لئے گلبرگ والے نئے گھر میں ایک الگ پورشن بھی بنوایا تھا۔ اس کے علاوہ خود آصف علی زرداری نے لاہور کے پرانے ایئر پورٹ کے قریب کرائے کا گھر لیا پھر ماڈل ٹاﺅن میں زرداری ہاﺅس بنا، لیکن مستقل ٹھکانے کی نوبت نہ آئی۔ یہ اب ہوا ہے کہ باقاعدہ بلاول ہاﺅس بن گیا۔اب دیکھتے ہیں محترم آصف علی زرداری اپنے صاحبزادے بلاول کے ساتھ اس بلاول ہاﺅس کا افتتاح کرنے کے بعد لاہور میں کتنے روز قیام کرتے اور کس قدر سیاسی ہنگامہ کرتے ہیں۔ بہرحال شہر سے فاصلہ کافی ہے، کارکنوں کی پہنچ ذرا محدود ہو سکتی ہے البتہ کاروں والے کارکن (اراکین اسمبلی وغیرہ) سواری پر یہاں آنے میں سہولت محسوس کریں گے ۔ سیکیورٹی کا تو یہاں بھی سخت انتظام ہو گا۔

چند روز پہلے بھٹو خاندان کے بزرگ ٹیلنٹڈ کزن ممتاز بھٹو کا ایک بیان نظر سے گزرا، اُن کے مطابق بھٹو کی سیاسی وراثت تو مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو (جونیئر) کو منتقل ہونا چاہئے کہ وہ صاحب(بھٹو) کے پوتے ہیں، اس کے بعد انہوں نے فرمایا۔ اس بار ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو والی نشست (لاڑکانہ) سے فریال تالپور نے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا تو وہ خود (ممتاز بھٹو) اُن کا مقابلہ کریں گے۔ ممتاز بھٹو آج کل مسلم لیگ(ن) میں شامل ہیں۔ جہاں تک سیاسی وراثت کا تعلق ہے تو وہ خود ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو منتقل کی تھی اور وہ اپنے بیٹے کو دے گئی ہیں۔ البتہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ روائت کے مطابق باپ سے بیٹے کی طرف ہی رُخ ہوتا ہے، لیکن یہ تو محترمہ کے حوالے سے ہی تبدیل ہو گئی تھی۔ البتہ ایک بات ہم پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دونوں بھائیوں کے بچوں کو والہانہ چاہتی تھیں اور اُن کے لئے اُن کے دل میں بہت تڑپ تھی، لیکن ظالم سنسار نے یہ نہ ہونے دیا۔ ممتاز بھٹو اس قبیلے کے بڑے ہیں اگر وہ اپنی بزرگی کا فائدہ اُٹھا کر کوشش کرتے تو ذوالفقار علی بھٹو کی اولاد کے درمیان دوریاں ختم ہو سکتی تھیں، سیاست کوئی جیسے بھی کرتا، لیکن یہ خاندان تو ایک ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ یہ دوریاں تو مستقل صورت اختیار کر چکیں۔ محترمہ اور مرتضیٰ بھٹو کی زندگی میں پھر سے رفاقت ہونے والی تھی کہ مرتضیٰ بھٹو قتل ہو گئے پھر بیگم نصرت بھٹو اور خود بے نظیر بھٹو کی موت دو ایسے واقعات تھے کہ خاندان مل سکتا تھا، لیکن مفادات نے ایسا نہ ہونے دیا اب تو بے نظیر کی وراثت اُن کے بیٹے کے پاس ہے اور مرتضیٰ بھٹو کی وراثت اُن کی بیوی غنویٰ بھٹو کے پاس۔ یہاں آصف علی زرداری اور وہاں غنویٰ، اُن کے درمیان تو کوئی صوتی رابطہ بھی نہیں۔ چہ جائیکہ کوئی خاندانی تعلق پیدا ہو۔ اگرچہ کچھ بھی ہو، بلاول بھٹو زرداری اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر فرسٹ کزن تو بہرحال ہیں۔ یہ رشتہ موجود ہے تعلق رہے یا نہ رہے۔پاکستان پیپلزپارٹی آج کل تنہائی کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اب ایک بڑی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) ہے جس کی اپنی بھی سیاست ہے اور پیپلزپارٹی کی اپنی، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے ملاقاتیں اور مذاکرات جاری ہیں، ہمیشہ خوش کن خبر دی جاتی ہے جو مجبوری کی بھی علامت ہے۔ اگرچہ این آر او کے تحت اتحاد تو یہی ہونا تھا لیکن بعد از خرابی بسیار ہوا، درمیان میں پرویز مشرف تھے اور اعتماد کے فقدان نے تاخیر کی اور آج سیاست کا نقشہ مختلف ہے۔ دیکھتے ہیں نیا بلاول ہاﺅس سیاست کا مرکز بنتا ہے تو کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

مزید :

کالم -