کراچی بدامنی کیس اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں

کراچی بدامنی کیس اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں

  

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی بدامنی کیس فیصلے پر عملدرآمد کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ کراچی کے حالات بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔ عدالت نے سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ کراچی میں بدامنی کی وجہ سیاسی جماعتوں کی مداخلت ہے، اب آپ لکھ کر دے دیں کہ ہم سیاسی جماعتوں کے معاملے میں بے بس ہیں۔ ہم آئین کے مطابق آرڈر کرنے کا سوچ رہے ہیں ، آپ نے جو نہیں کرنا وہ نہ کریں۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا آپ کا کام اذان دینا ہے نمازی آئیں نہ آئیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہمیں ہے حکم اذاں لا ا لہ الااللہ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات زبانی جمع خرچ سے ٹھیک نہیں ہوں گے۔جسٹس جواد نے استفسار کیا کہ پولیس کو سیاسی وابستگی سے بچانے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ؟ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہاایک وزیر کہتا ہے کہ کراچی والو ہشیار ہوجاﺅ! کچھ ہونے والا ہے۔انہوں نے کہا : آپ کہہ دیں کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔مافیا زیادہ طاقتور ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ وفاق کی طرف سے کب جواب داخل کرایا جائے گاجب کراچی جل کر خاک ہوجائے گا؟ لینڈ مافیا سے متعلق جسٹس خلجی نے کہا کہ کہہ دیں کہ سپریم کورٹ کی نشاندہی کی گئی جگہ پر کارروائی سے آپ کے پر جلتے ہیں۔کہہ دیں کہ ہماری نہیں چلتی لینڈ مافیا کے لوگ طاقتور ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سوا سال سے حکومت نے کراچی میں بدامنی کے حوالے سے کیا اقدامات کئے ہیں؟سوا سال سے وفاقی حکومت نے جواب داخل کرنے کی بھی زحمت نہیں کی۔جسٹس خواجہ نے کہا آپ عوام کے تنخواہ دار ہیں، وفاداری کرنا ہوگی۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا: آپریشن تو صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، جس پر جسٹس جواد نے کہا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ جہاں صوبائی انتظامیہ اندرونی اور بیرونی انتشار کا شکار ہے وہاں وفاقی حکومت کارروائی کرے۔ اگر ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کو نہیں روکنا تو آئین سے آرٹیکل 9 نکال دیں۔سپریم کورٹ کی طرف سے کراچی بدامنی کیس پر عمل درآمد کے سلسلے میں یہ ریمارکس اس دن دئیے گئے ہیں جب شہر میںہمیشہ کی طرح ٹارگٹ کلنگ اور بم حملہ میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 17 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ کراچی میں نہ سیاسی جماعتوں کی مداخلت ختم ہو رہی ہے۔ نہ مفرور مجرموں کی گرفتاری کے لئے کچھ کیا جارہا ہے، نہ بھتہ وصولی اور اغوا کے بعد تاوان وصول کرنے کا سلسلہ بند ہوا ہے اور نہ نہتے بے گناہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئی اقدامات کئے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ الزامات صوبائی حکومت کی شریک سیاسی جماعتوں اور ان کے مسلح گروہوں پر ہیں۔ نہ کوئی شہر کو غیر مسلح کرنے میں سنجیدہ ہے نہ پولیس کی وردی میں چھپے ہوئے سرگرم سیاسی کارکنوں اور خود جرائم میں ملوث باوردی مجرموں پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی جرا¿ت کررہا ہے۔ سارے حالات اِسی بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ تباہ کن صورتحال سے حکمرانوں کو کوئی پریشانی نہیں۔ وہ اسی صورت حال میں اپنا فائدہ سمجھتے ہیں ، یا شاید آئندہ انتخابات سے پہلے اس صورت حال کو تبدیل کرنا اپنے سیاسی مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اگر لوٹ مار اور مافیا کے ذریعے بھتے اور مال جمع کرنے میں حکومتی سیاست دانوں کا حصہ نہیں ہے تو بھی ان کی سیاسی مصلحتوں کو اس میں دخل ضرور ہے۔ قوم و ملک کی قسمت سے کھیلنے اور شہر کو قتل گاہ میں تبدیل کردینے کی قیمت پر اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ کرنے والوں کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ 

چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری نے انتخابی اصلاحات کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل نہ کیا تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔ آئندہ انتخابات میں بھی ابہام پیدا ہو رہا ہے۔ وقت گزر جائے گا اور الیکشن کمیشن سوائے ہاتھ ملنے کے کچھ نہیں کرسکے گا۔ کیا لوگ چھپن چھپا کی ٹوپی پہن کر ووٹرز کی تصدیق کر رہے ہیں، جو کسی کو نظر نہیں آ رہے۔ بتایا جائے کہ اب تک کتنے ووٹرز کی تصدیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے؟ کتنے فوجی اور ایف سی کے جوان ساتھ کام کررہے ہیں؟ جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ الیکشن کمیشن ابھی تک عدالتی حکم پر عمل درآمد کیوں نہیں کر پا رہا۔ جب عدالت نے کہہ دیا ہے تو معاملات مکمل ہو جانے چاہئیں ۔ لوگوں کے تحفظات اور شکایات آئے روز بڑھ رہی ہیں، جبکہ جسٹس گلزار حامد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں ووٹروں کی تصدیق الیکشن کمیشن کے لئے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتی ہے۔لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کچھ کرنا ہی نہیں چاہتا۔اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے کراچی میں ووٹروں کی فہرستوں میں بہت بڑے بڑے گھپلوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جس کے بعد ووٹرز فہرستوں کو درست کرنے کے لئے فوج کی مدد سے کام کرنے اور انتخابی حلقہ بندیاں بھی از سر نو کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے سول انتظامیہ کے تعاون سے ووٹروں کی فہرستوں کو در ست کر نے کا 75 فیصد کا م مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ، لیکن اپوزیشن کی طرف سے اس پر واویلا اور سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ شہر میں بھتے لینے والے قاتلوں اور مسلح گروہوں کی موجودگی میں یہ سب کام فوج کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جس طرح الیکشن کمیشن سے جائز شکایات دور کئے بغیر 75 فیصد کام مکمل کرلئے جانے کا کہہ دیا گیا ہے اس سے اس کام کے غیر منصفانہ ہونے کی بڑھی ہوئی شکایات کے علاوہ الیکشن کمیشن کی طرف سے آئندہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے طریقہ کا ر کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اگر ” جو جس طرح چلتا ہے چلنے دو “ کی بنیاد پر ہی کام ہونا ہے تو یہ سب آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی تمنا رکھنے والے پاکستانیوں کے لئے قابل قبول نہیں ۔ اپوزیشن اس کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو وہ بھی اس میں حق بجانب ہوگی۔ انتخابات کا مطلب انتخابات اور عوام کو اپنے نمائندے خود چننے کا حق ہونا چاہئے، جو صحیح ووٹرز فہرستوں صحیح انتخابی حلقہ بندیوں اور پھر صحیح پولنگ کے بغیر ممکن نہیں۔ اس وقت پاکستان نازک حالات سے گذر رہا ہے۔ ان نازک مرحلوں سے قوم سرخرو ہو کر اسی صورت میں گزر سکتی ہے اگر تمام فریقین انصاف اور قومی مفاد کے تقاضوں کو ملحوظ نظر رکھیں۔ کسی طرف سے بھی کسی سطح پر دکھائی جانے والی چالاکی اور دھاندلی ملک کو بدترین حالات سے دوچار کر سکتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے بجائے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضمانت مہیا کی جائے، یہی ہر طرح کے تصادم سے بچنے اور جمہوریت کو بچانے کا واحد طریقہ ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری حکومتی سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے ، ان کی طرف سے صرف جمہوریت کو خطرے اور بعض جماعتوں کے انتخابات ملتوی کرانے کے الزامات ہی کافی نہیں ، انتخابات اور منصفانہ انتخابات سے اپنے اخلاص کے اظہار کے لئے ضروری اقدامات کرنا بھی ضروری ہے۔سپریم کورٹ کی طرف سے کراچی شہر کے انتشار کا شکار ہونے اور اس کی انتہائی بگڑی ہوئے صورت حال اور پولیس معاملات میں سیاسی مداخلت کے متعلق واضح طور پر کہہ دیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتشار کی صورت میں وفاقی حکومت کی کچھ اقدام کرنے کی ذمہ داری ہے۔ بلوچستان بدامنی کیس کے سلسلے میں بھی سپریم کورٹ نے وفاق کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے کہا تھا ،لیکن وفاق نے کچھ نہیں کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے آئین کے مطابق خود بھی کچھ فیصلہ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔ 

مزید :

اداریہ -