الیکشن کمیشن ٹارگٹ کیوں ہے؟

الیکشن کمیشن ٹارگٹ کیوں ہے؟
الیکشن کمیشن ٹارگٹ کیوں ہے؟

  

 اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک ، مسلم لیگ قاف اور تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتیں الیکشن کمیشن کو صرف اس لئے ٹارگٹ بنا رہی ہیں کہ اس میںغیر آئینی تقرریاں ہیں اور یہ جماعتیں اپنے تئیں آئین کے مطابق الیکشن کمیشن کی تشکیل نوکے ذریعے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ بنانا چاہتی ہیں تو یہ بہت معصوم اور سادہ سی سوچ ہے۔ الیکشن کمیشن کو نشانہ بنا کے اصل میں ایک تیر سے کئی نشانے لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلا نشانہ تو وہ اتفاق رائے ہے جو فخرالدین جی ابراہیم جیسی شخصیت پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہوا ہے۔ نادیدہ قوتوں کو مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی جیسی ایک دوسرے کی دشمن سیاسی جماعتوں سے یہ توقع ہی نہیں تھی کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کے لئے کسی ایک نام پر متفق ہوجائیں گی، اب گمان کیا جا رہا ہے کہ جس طرح فخرو بھائی پر اتفاق ہوا ، اسی طرح مل جل کرنگران وزیراعظم کے لئے بھی کسی بھلے مانس کو چن لیا جائے گا جس سے نہ صرف سیاسی افراتفری کے امکانات کم ہوں گے بلکہ سیاسی جماعتوں کی ساکھ میں بھی اضافہ ہو گا۔ لیکن اگر پہلے اتفاق رائے کو ہی متنازعہ بناتے ہوئے مستقبل کی جمہوری عمارت کی بنیادی اینٹ ہی نکال دی جائے تو عمارت تعمیر نہ ہونے کی خواہش مند اپنے خوابوں کی دنیا میں خوش رہ سکتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنانے والوں کی نانی ایک ہے اور اس نانی کی اولاد میں وہ بھی شامل ہےں جن کے سر پر کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کی تلوار لٹکتی رہی ہے۔ ایسے میں الیکشن کمیشن کو دباو¿ رکھ کر ہی سپریم کورٹ کے ان احکامات پر عمل درآمد سے روکا جا سکتا ہے جو کراچی میں فئیر اینڈ فری الیکشن کے لئے جاری کئے گئے۔ کیا اب تک کی پیش رفت کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کرنے والے اپنی کئی کوششوں میںکامیاب بھی رہے ہیں جو بہرحال ایک سخت دباو¿ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ کوشش تو یہ بھی ہے کہ فخرو بھائی کو غصہ دلا دیا جائے اور وہ بزرگ اپنے ادارے کو متنازعہ بنانے سے بچانے کے لئے مستعفی ہوجائے، اس سے دوسرا نشانہ الیکشن بنیں گے جو کہ آئین کے نام پر فائرنگ کرنے والوں کا پہلا اور اصل نشانہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے سے ایک آئینی بحران پیدا ہوجائے گاجس کے بعد انتخابات کے التواءاور ایک طویل مدتی نگران سیٹ اپ کے قیام کے خواب کو زیادہ آسانی اور بڑی دلیلوں کے ساتھ پیش کیا جاسکے گا،خواہش یہ ہے کہ اگرکچھ نہیںہوتا تو الیکشن کمیشن کو کچھ عرصے کےلئے کام کرنے سے ہی روک دیا جائے جس کے لئے مولانا طاہر القادری کی طرف سے دھرنے کے دوران وفاقی حکومت پر بھی بے حد پریشر ڈالا گیا ، وہ اب اس کے لئے سپریم کورٹ کے سامنے بھی عرضداشت لے کر پہنچ چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو کام سے روکنا،عام انتخابات کی تیاریوں کو روکنا ہے ، یہ وہ انتخابات ہیں جن میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ عناصر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ میںنے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے آن دی ریکارڈ ان تجزیوں بارے پوچھا کہ جن میں اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مسلم لیگ نون اور خاص طو ر پر نواز شریف کا راستہ روکنے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں تو انہوںنے جواب میں کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ کس اسٹیبلشمنٹ کی بات کی جارہی ہے مگر یہ بات اسٹیبلش ہو رہی ہے کہ نواز شریف ہی عوام کے بھرپور اعتماد اور ووٹوں کے ساتھ ان کی خدمت کے لئے اقتدار میں آئیں گے، میرا خیال ہے کہ اسٹیبلش ہوتی ہوئی یہی بات بہت سارے حلقوں کے لئے ناقابل قبول ہے ، کہنے والے تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اس کھیل میں پرویز مشرف بھی شامل ہوں گے اور اس کے بعد اس پوری ٹیم کا پیپلزپارٹی کے ساتھ الحاق ہوجائے گا۔چیف الیکشن کمشنر کے انتخاب پر بھی ڈیڈ لاک پیدا ہو رہا تھا تو پیپلزپارٹی کے سیاسی ذہنوں نے خطرہ بھانپ لیا تھا، وہ ذہن ابھی بھی جاگ سکتے اوروہ آنکھیں ابھی بھی کھل سکتی ہیں،میری عرض داشت یہی ہے کہ پیپلزپارٹی اپنے مخالف کا راستہ روکنے کے کھیل میں اس طرح شامل نہ ہو کہ کھیل کے میدان میں ہی ہل چل جائے، پھر نہ میدان رہے، نہ کھلاڑی اور نہ ہی کھیل۔

اب اگر فخرو بھائی سپریم کورٹ سے سرخرو ہونے کے بعد آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے پر ڈٹ جاتے ہیںجیسا کہ وہ اب تک ڈٹے ہوئے ہیں، وہ کہہ رہے ہیں کہ تمام ارکان کی تقرری آئین کے مطابق ہوئی ہے اور الیکشن کمیشن کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے تو اس ہٹ دھرمی کے بعد کے لئے بھی ہوم ورک جاری ہے۔ اگر اب یہ سیاسی جماعتیں جن میں سے ایک نے تو انتخابات میں حصہ لینا ہی نہیں، وہ خواہ مخواہ میں انتخابات کا پیٹ درد اٹھائے پھر رہی ہے، دوسری وہ ہے جسے کوئی خاص ووٹ ملنے کی امید نہیں اور تیسری وہ ہے جس کا خیال تھا کہ وہ کلین سویپ کرے گی مگر اس کی تیزی سے گرتی ہوئی مقبولیت نے ایک سرکش گھوڑے کو دوبارہ رام ہونے پر مجبور کر دیا ہے، وہ سیاسی رہنما جو کچھ دن پہلے تک بار بار دعوت ملنے کے باوجود طاہر القادری کے دھرنے میں شرکت کے لئے تیار نہیں ہورہا تھے،انہوں نے اپنے دو مخدوموںکو علامہ کے ہاتھ اور فرمودات پر بیعت کے لئے بھیج دیا۔ اس سے یہ خوش گمانی بہت وقتی ثابت ہوئی کہ موصوف اپنی ذات کی بجائے آئین اور جمہوریت کے ساتھ ہیں ،میں اس خوش فہمی پر بہت جلد خوشی ظاہر کرنے پر اپنے قارئین سے معذرت خواہ بھی ہوں۔ بہرحال بات یہ ہورہی ہے کہ اگر فخرو بھائی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کروانے پر ڈٹ جاتے ہیں اور عوامی توقعات کے مطابق ایک ایسی حکومت بھی بن جاتی ہے جو نادیدہ قوتوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنے پر تیار نہیں ہوتی تو الیکشن کمیشن کے خلاف اب ہونے والا یہی کام آگے ایک اثاثہ ثابت ہو گا۔ جو دال چڑھا دی گئی ہے اس کا کالا ابھی سے نظرآنے لگا ہے کہ ایسی انقلابی جماعتیں اقتدار کے خوابوں کے شیش محل چکنا چور ہونے پر آرام سے نہیں بیٹھیں گی۔ اس سلسلے کا ورکنگ پیپر مبینہ طور پر بتاتا ہے کہ نام نہاد انقلاب لانے کے داعی اگر کامیاب نہ ہوئے تو پھر وہ 1977ءکی تاریخ کو دہرانے کی کوشش کریں گے، ہارنظر آنے کی صورت میں الیکشن سے بھی پہلے یا عین الیکشن کے روز دو بجے سے پہلے پہلے ہر صورت میں انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا جس میں دلیل کے طورپر الیکشن کمیشن کی اسی غیر آئینی حیثیت کو استعمال کیا جائے گا۔ لانگ مارچ کے بعد اب انقلاب مارچ الیکشن کے بعد اسٹیج کئے جانے والے ڈرامے کے لئے فل ڈریس ریہرسل بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ انقلابیوں کی طرف سے الیکشن کمیشن پراعتماد کااظہار کر دیا جائے اور انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کی بھی یقین دہانی ہو جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے تو اس کا جواب صرف اور صرف یہ ہے کہ پاکستان عوامی تحریک،تحریک انصاف، مسلم لیگ قاف اور ایم کیو ایم انتخابی نتائج صرف اور صرف اس صورت میں تسلیم کریں گی اگرمجوزہ مفاہمتی گروپ ،جس میں بہرحال پیپلزپارٹی کو ہی سب سے نمایاں حیثیت حاصل ہے ، کی کسی بھی طرح انتخابات میںکامیابی یقینی بنا دی جائے اور پاکستان بدلنے کا خواب دیکھنے والوں کو اپوزیشن میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا جائے۔ یہ لوگ پاکستان میں وہ تبدیلی نہیں آنے دینا چاہتے کہ یہاں ووٹ سے حکومتیں تبدیل ہوں، وہ اسی اور نوے کی دہائی کا پاکستان برقرار رکھنا چاہتے ہیں جہاں جس کے بارے میں مہربانوں کی طرف سے بتا دیا جاتا اورہوا چلا دی جاتی تھی، وہی اقتدار میں آجاتا تھا۔ سیاست شطرنج کی بساط پر سجے مہروں کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ کرنا کسی طور بھی فئیر اینڈ فری انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے نہیں بلکہ اگلے کھیل کی تیاری کا ایک حصہ ہے، وہ کھیل جو ابھی پردے کے پیچھے جاری ہے۔ اگر آپ موجودہ صورتحال کا تجزیہ میرے پچھلے دوکالموں ”لکی ایرانی سرکس“ اور”کھیل جاری ہے“ کو ساتھ ملا کے پڑھتے ہوئے کریں گے تو سب واضح ہوجائے گا مگر اس کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے کہ پاکستان میں حقیقی تبدیلی آئے گی، وہ تبدیلی کہ جب مملکت خداداد میں خدا کے بندوں کی رائے سے حکومت بنے گی اور اسے کسی امریکہ یا اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ صرف اور صرف خدا کے بعد اس ملک میں رہنے والوں کے سامنے جواب دہی کا خوف ہو گا۔

مزید :

کالم -