مسئلہ کشمیر پر اے جی نورانی کی نئی کتاب اور شیخ عبداللہ کے خیالات

مسئلہ کشمیر پر اے جی نورانی کی نئی کتاب اور شیخ عبداللہ کے خیالات
مسئلہ کشمیر پر اے جی نورانی کی نئی کتاب اور شیخ عبداللہ کے خیالات
کیپشن: abdul hakeem ghuri

  

بھارتی قانون دان اور دانشور عبدالغفور نورانی، جواے جی نورانی کے نام سے معروف ہیں، حال ہی میں ایک متنازعہ کتاب شائع کرنے اور سری نگر میں اس کی رونمائی کے بعد تجزیوں اور تبصروں کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ان کی کتاب”مسئلہ کشمیر....1947ءسے 2012ءتک“ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پیدا کرنے اور اس کے حل میں رکاوٹ بننے میں دوسروں کے علاوہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ بھی برابر کے حصہ دار ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے ان تین ریاستوںمیں،جہاں عوامی اکثریت حکمرانوں کے مذہب سے مختلف تھی، رائے شماری کروانے کا وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کا مشورہ تسلیم کر لیا ہوتا، تو کشمیر کا مسئلہ اُسی وقت حل ہو گیا ہوتا۔ عبدالغفور نورانی نے مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی ذمہ داری جہاں قائداعظم محمد علی جناح ؒ پر ڈالی ہے، وہاں شیخ محمد عبداللہ کو بری الذمہ قرار دے کر کشمیر کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔

سری نگر میں نگین کلب میں گریٹر کشمیر کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کتاب کے مصنف اے جی نورانی نے کہا:” کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادں پر عمل درآمد کا انتظار کرنے کے بجائے چار نکاتی فارمولہ (جو تنازعہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں سابق پاکستانی صدر پرویز مشرف نے پیش کیا تھا) اور سیلف رول پر عمل درآمد کرنے کی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔ اے جی نورانی نے مسئلہ کشمیر کے حل میں تاخیر کے لئے پنڈت جواہر نعل نہرو، قائداعظم محمد علی جناح ؒ اور شیخ عبداللہ تینوں کو ذمہ دار ٹھہرایا، بالخصوص قائداعظم ؒ پر الزام عائد کیا کہ ان کی جانب سے سرد مہری کے نتیجے میں شیخ محمد عبداللہ بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے لئے مجبور ہو گئے۔ انہوں نے کہا، ماﺅنٹ بیٹن نے تین ریاستوں حیدر آباد، کشمیر اور جونا گڑھ میں، جہاں حکمرانوں کا مذہب عوام کے مذہب سے مختلف تھا،رائے شماری کروانے کا مشورہ دیا تھا،قائداعظم ؒ نے یہ مشورہ ماننے سے انکار کر دیا، جس کے نتیجے میں قضیہ پیدا ہوا ورنہ یہ مسئلہ اُسی وقت ختم ہو چکا ہوتا اور کشمیر کی تقدیر کا فیصلہ آج تک التوا میں نہ ہوتا۔

نورانی صاحب سے یہ بات کون پوچھے کہ کیا قائداعظم ؒ نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کی یکم نومبر کی کشمیر میں رائے شماری کرانے کی پیشکش سے واقعی اتفاق نہیں کیا تھا؟ اس مرحلے پر ہندوستان کو کون سی بات رائے شماری کرانے میں مانع ہوئی، جبکہ پاکستان آج بھی ان قراردادوں پر عمل درآمد کا پابند ہے۔ مسٹر نورانی نے اپنی تقریر میں ماﺅنٹ بیٹن کی تجویز پر زمین و آسمان کے قلابے ملائے، جس کا مسودہ انہوں (ماﺅنٹ بیٹن) نے حکومت کی منظوری کے بغیر ہوائی جہاز میں سفر کے دوران مرتب کیا تھا، جس کے بارے میں وہ نہرو کے نام اپنی2نومبر کی یاد داشت میں اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتے، اس لئے کہ اس کو حکومت ہندکی منظوری حاصل نہیں ہو سکی تھی۔

کشمیر کے بارے میں اے جی نورانی کے خیالات کو، حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے بھارتی موقف کی دانش ورانہ وکالت قرار دیتے ہوئے کہاکہ موصوف نے مسئلہ کشمیر پر اپنا نقطہ نظر بیان کر کے کنفیوژن پیدا کرنے اور اس سلسلے میں سارا قصور قائداعظم محمد علی جناح ؒ پر ڈال کر تاریخ کو مسخ کرنے کی دانستہ کوشش کی ہے۔ گیلانی صاحب نے اے جی نورانی کے کشمیریوں کو چار نکاتی فارمولہ اور سیلف رول پر قناعت کرنے کا مشورہ دینے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کشمیری قوم کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حق خود ارادیت کے بغیر کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہو سکتا اور وہ ہر اُس کوشش کی مزاحمت کریں گے، جس کا مقصد جوں کی توں صورت حال کو برقرار رکھنا ہو۔ سید علی گیلانی نے کہاکہ پہلی بار قائداعظم محمد علی جناح ؒ تک رائے شماری کی تجویز پہنچی تو انہوں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ جموں کشمیر مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور یہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب85فیصد سے بھی زیادہ ہے، لہٰذا تقسیم ہند کے اصولوں کے مطابق یہ صرف اور صرف پاکستان کا حصہ ہو سکتا ہے، بھارت کا نہیں، لہٰذا اس میں رائے شماری کی کوئی ضرورت نہیں۔

 بھارت کے غاصبانہ اقدام کے بعد قائداعظم ؒ نے رائے شماری کی تجویز کو قبول کیا تھا۔ البتہ انہوں نے تجویز دی تھی کہ ریاست سے بھارتی فوج اور قبائلیوں کے مکمل انخلاءکے بعد پاکستان اور بھارت کے گورنر جنرلز کو ریاست کی انتظامیہ سنبھالنے اور بغیر کسی تاخیر کے رائے شماری کرانے کا اختیار دیا جائے۔ اس کا صاف مطلب یہ بھی تھا کہ شیخ عبداللہ کی دخل اندازی بھی اس میں نہ ہو، جو اس وقت ریاست کے ایمرجنسی ایڈمنسٹریٹر تھے۔ گیلانی صاحب نے کہا شیخ عبداللہ اس وقت بھارتی لیڈروں کے قریب جا چکے تھے اور نہرو اور ان کے درمیان گہری دوستی قائم ہو چکی تھی، لہٰذا پاکستان کو خدشہ تھا کہ اُن کی موجودگی میں رائے شماری کا عمل صاف اور شفاف طریقے سے انجام نہیں دیا جا سکتا۔ شیخ صاحب اس میں غیر جانبدار نہیں رہ سکتے تھے۔ شیخ عبداللہ کھلم کھلا بھارت کی حمایت کر رہے تھے، حتیٰ کہ وہ اقوام متحدہ کے لئے بھارتی وفد کا حصہ بھی تھے۔

حریت کانفرنس کے چیئرمین نے اے جی نورانی کے اس الزام سے بھی اختلاف کیا کہ شیخ عبداللہ قائداعظم ؒ کی جانب سے سرد مہری کی وجہ سے بھارت کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ انہہوں نے کہا کہ شیخ عبداللہ1947ءسے بہت پہلے1938ءہی میں بھارت کی جھولی میں گر گئے تھے اور انہوں نے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں بدل دینے کے بعد ہی ریاست کے مستقبل کے حوالے سے ایک غیر اصولی اور غیرمنصفانہ راستہ اختیار کر رکھا تھا۔ شیخ عبداللہ کی سوانح عمری ”آتش چنار“ کے مطابق قائداعظم ؒ نے1947ءسے بہت پہلے انہیں اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا تھا، البتہ وہ اپنے اس نظریئے پر قائم رہے تھے کہ ریاست کا پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ الحاق مفید رہے گا اور وہ ایسا ہی کریں گے۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ اے جی نورانی نے کشمیریوں کو چار نکاتی فارمولہ اور سیلف رول پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دے کر اصل میں ان کی امنگوں اور قربانیوں کا مذاق اڑایا اور ان کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم آزادی سے کم کسی بھی چیز پر قناعتنہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ اے جی نورانی صاحب کو یہ حقیقت معلوم ہونی چاہئے کہ دنیا کے حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ بھارت بھی اپنی اندھی طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ کے لئے کشمیر پر قابض نہیں رہ سکے گا۔عبدالغفور نورانی جو پاکستان کے ایک سابق وزیرخارجہ زین نورانی کے چھوٹے بھائی ہیں،بھارت اور شیخ عبداللہ کی وکالت کرتے ہوئے کہتے ہیں، جہاں پنڈت جواہر لعل نہرو نے کشمیریوں سے دھوکہ کیا۔وہیں قائداعظم محمد علی جناح ؒ بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ نومبر 1947ءمیں شیخ محمد عبداللہ کی طرف سے بخشی غلام محمد اور خواجہ غلام محمد صادق کو بطور ایلچی قائداعظم ؒ سے معاملات طے کرنے کے لئے بھیجا گیا۔ قائداعظم ؒ نے شیخ محمد عبداللہ کو اس مرحلے پر اہمیت نہیں دی۔وہاں کسی نے اس دو نفری وفد کے ساتھ بات چیت نہ کی۔اس طرح یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، جس کی وجہ سے وہ بھارت کے ساتھ الحاق کے لئے مجبور ہو گئے۔

22مئی کو سری نگر کے نگین کلب میں روزنامہ ”گریٹر کشمیر“ کی سلور جوبلی تقریبات کے سلسلے میں اپنی کتاب کی تقریب اجراءکے موقع پر خطاب کرتے ہوئے اے جی نورانی نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیرکی ایک تاریخ ہے، تاہم اس تاریخ پر عمل درآمد ممکن نہیں رہا۔کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا انتظار کرنے کے بجائے چار نکاتی فارمولہ،جو تنازعہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں سابق صدر پرویز مشرف نے پیش کیا تھا۔سیلف رول کو ہی قبول کر لینا چاہئے، کیونکہ دنیا بہت بدل چکی ہے اور موجودہ حالات میں بھارت اور پاکستان اپنی روایتی پوزیشنوں سے انحراف نہیں کرسکتے ہیں....مسئلہ کشمیر کی تاریخ کے اصل حقائق کیا ہیں؟ اور کشمیریوں کے مصائب کا اصل ذمہ دار کون ہے؟اس پر صرف اے جی نورانی ہی لکھنے والے نہیں، اَن گنت کتابیں لکھی گئی ہیں، لہٰذا اب تاریخ مسخ کر کے دنیا کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔شیخ عبداللہ خود اس بارے میں کیا کہتے ہیں اور ان کا الحاق اور مسئلہ کشمیر کی تاریخ کے بارے میں کیا موقف رہا ہے، ان کی سوانح عمری ”آتش چنار“ پڑھ کر اس کا اندازہ اچھی طرح سے ہو جاتا ہے اور کوئی ابہام باقی نہیں رہتا۔

برصغیر کی تقسیم سے نو برس قبل وہ اپنی تقدیر بھارت سے جوڑ چکے تھے۔مسلم کانفرنس کو دو ٹکڑوں میں کاٹ کر اورنیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھ کر انہوں نے اپنی سیاست گری کا رخ متعین کردیا تھا۔ بعض نامساعد حالات کے باوجود وہ اس موقف پر آخری سانسوں تک قائم رہے۔ ”آتش چنار“ کے تفصیلی مطالعے سے اس معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہتا کہ شروع دن سے ہی ان کا گاندھی اور نہرو کی ذات پر یقین کامل تھا۔اپنی سیاست کا آغاز ہی انہوں نے بھارت کو اپنے پسندیدہ نظریئے سیکولر ازم کے لئے آئیڈیل ملک کے طورپر مان کر کیا تھا۔ 1938ءمیں مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں بدلنے کے بعد شیخ عبداللہ کا ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے بارے میں ویژن بے حد واضح تھا۔ ”آتش چنار“ کے صفحہ 211پر لکھتے ہیں: ”مَیں پاکستان کو بنیادی طور پرایک فرار پسند نعرہ سمجھتا تھا۔مَیں نے نیشنل کانفرنس کے میرپور والے اجلاس میں کہا کہ مَیں مسلمان کی حیثیت سے ہندوستان کو اپنا گھر سمجھتا ہوں۔ہم اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور اسی میں مل جائیں گے۔الغرض ہندوستان ہمارا وطن ہے اور یہی ہمارا وطن رہے گا“۔اسی کتاب کے صفحہ 219 پر شیخ عبداللہ یوں رقم طراز ہیں۔” مَیں نے جناح سے کہا مذہب پائیدار مملکتوں کی سنگ بنیاد نہیں بن سکتا اور مملکتیں کبھی مذہب کے نام پر استقلال حاصل نہیں کر سکتیں“۔

1947ءمیں کشمیر میں بھارت کی فوجیں اتارنے کی عام طور پر یہ توجیہہ کی جاتی رہی ہے کہ یہ صورت حال قبائلیوں کے ”حملہ آور“ ہونے سے پیدا ہو گئی تھی۔اگر وہ یہاں وارد نہ ہوئے ہوتے تو بھارت کو بھی فوجی مدد کے لئے نہ بلایا جاتا۔”آتش چنار“ کے مطالعے سے یکسر مختلف حقیقت سامنے آتی ہے۔قبائلیوں کے حملے سے کئی ہفتے قبل ہی شیخ محمد عبداللہ نے ایک جلسے میں اپنے ارادوں ور عزم کا واضح اظہار کر دیا تھا۔کتاب کے صفحہ 278پر ان کے یہ الفاظ ملاحظہ ہوں.... اس وقت ریاست کے سامنے یہ سوال ہے کہ ہم ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں یا پاکستان کے ساتھ یا الگ تھلگ رہ کر آزاد ہیں۔پنڈٹ جواہر لال میرے قریبی دوست ہیں اور گاندھی جی کی مَیں عزت کرتا ہوں۔یہ حقیقت بھی ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس نے ہماری تحریک کی بڑی مدد کی ہے “۔ 1947ءکے واقعات کے بارے میں یہ مغالطہ بھی زبان زدعام ہے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر کے الحاق اور بھارتی فوج کو بلانے کی تمام تر ذمہ داری مہاراجہ ہری سنگھ پر عائد ہوتی ہے۔شیخ عبداللہ کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔وہ مہاراجہ کے فیصلے کی توثیق کرنے پر مجبور تھے، کیونکہ ہری سنگھ ہی اس وقت ریاست کے آئینی سربراہ تھے۔

 ”آتش چنار“ کے مصنف نے اس سلسلے میں غیر مبہم اسلوب اختیار کیا، بلکہ وہ تو کہتے ہیں مہاراجہ کئی وجوہ سے بھارت سے الحاق کے حق میں نہیں تھے۔شیخ عبداللہ کے مطابق لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے جون 1947ءمیں سری نگر آکر مہاراجہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ دستاویز الحاق پر دستخط کریں۔انہوں نے تذبذب کا مظاہرہ کیا اور اس دستاویز پر اپنے دستخط ثبت نہیں کئے تھے۔ اس کے برعکس شیخ صاحب اپنی پوزیشن بیان کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ مہاتماگاندھی آخری مرحلے تک بھی فوجیں کشمیر بھیجنے کے حق میں نہیں تھے اور وہ اس کو انصاف اور عدل کے اصولوں کے منافی سمجھتے تھے۔پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل انہیں اس سلسلے میں آمادہ کرنے میں ناکام ہو گئے تھے اور یہ ”میری ذات تھی“.... جس نے بعد میں منت سماجت کے ذریعے مہاتما کو اس کے لئے آمادہ کیا۔

”آتش چنار“ کے صفحہ 296پر لکھتے ہیں: ”ایک اور رکاوٹ مہاتما گاندھی کی ذات تھی،چونکہ مَیں ہندوستانی رہنماﺅں سے امداد طلب کرنے دلی آیا ہوا تھا، اس لئے مَیں نے اس معاملے پر مہاتما سے بات چیت کی۔مَیں نے گاندھی جی سے کہا کہ کشمیر کی لڑائی زمین کے لئے نہیں، بلکہ ان آدرشوں کو بجالانے کے لئے ہے، جن کی علم برداری اور ترجمانی وہ کرتے ہیں، جن کا پرچار خود انہوں نے عمر بھر کیا ہے اور جن کے لئے وہ اس وقت بھی چٹان بن کر باد مخالف کے تیز جھونکوں کے آگے ڈٹ گئے ہیں، لہٰذا ہندوستان کو اس وقت کشمیری عوام کی امداد سے ہاتھ نہیں کھینچنا چاہئے، جبکہ کشمیری عوام ”حملہ آوروں“ کے خلاف بے جگری سے لڑ رہے ہیں، چنانچہ گاندھی جی نے ازراہ شفقت اس استدعا کو منظور کرلیا اور فوج کشمیر روانہ کرنے کی اجازت بخشی۔شیخ عبداللہ 1953ءمیں بحیثیت وزیراعظم گرفتار کئے گئے ، اس کے ٹھیک دو سال بعد کشمیر میں ”محاذ رائے شماری“ کا قیام عمل میں آیا۔شیخ صاحب نے بڑے بے روک طریقے سے بیان کیا ہے کہ ان کی گرفتاری محض دو دوستوں، یعنی ان کے اور جواہر لال نہرہ کے درمیان میں پیدا کی گئی غلط فہمیوں کا نتیجہ تھی، ورنہ محاذ رائے شماری کے نام پر22سال تک بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف عوام نے جو جدوجہد کی اور جس میں عوام نے بیش بہا قربانیاں پیش کیں، ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

کتاب کے صفحہ475 پر رقم طراز ہیں”میرے ساتھ میرے عزیز ساتھیوں نے جو بدعہدی کی تھی اس نے مجھے اتنا دل برداشتہ کر دیا تھا کہ مَیں کسی تنظیم کے ساتھ براہ راست منسلک ہونے پر آمادہ نہیں تھا۔ اس لئے مَیں اس نئی تنظیم سے رسمی طور پر الگ ہی رہا“۔ شیخ عبداللہ جیل کی زندگی کے دوران بھی انپے آدرشوں اور نظریات پر قائم رہے اور قید و بند کی صعوبتوں نے بھی انہیں اپنے بھارت دوستی کے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر آمادہ نہیں کیا۔ آتش چنار کے صفحہ525 پر لکھتے ہیں: ”سپیشل جیل میں دن گزرتے گئے، میرے رفیق مجھ سے کہنے لگے کہ ہندوستان نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا ہے، اس کے بعد ہم کیوں اور کس بات کے لئے اپنا رشتہ اس ملک کے ساتھ قائم رکھ سکتے ہیں؟ ان کا شکوہ ٹھیک تھا اور گلہ بجا، مگر مَیں نے ان سے کہا کہ ہم نے اپنا رشتہ ہند کے ساتھ آدرشوں کی یکسانیت پر جوڑا ہے اور جب تک ہندوستان ان آدرشوں کی علم برداری کا دعویٰ کرتا ہے، ہماری جگہ کہیں اور نہیں ہے۔ ہم جو خواب کشمیر میں دیکھتے ہیں، ان کا تو پاکستان میں شرمندہ¿ تعبیر ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ محولہ بالا تاریخی شواہد کی روشنی میں قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ قرار دینا نہایت متعصبانہ رویہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ اے جی نورانی کا یہ کہنا کہ شیخ عبداللہ کو قائداعظم ؒ نے الحاق پر مجبور کیا یا الحاق پر شیخ عبداللہ کو ہفتہ عشرہ بعد ہی پچھتاوا ہو گیا تھا۔ اصل حقائق کے بالکل منافی ہے، شیخ عبداللہ1938ءمیں مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں بدلنے کے وقت سے جس راستے پر چل نکلا تھا۔ مرتے دم تک اسی پر رواں دواں رہا۔ کبھی اس پر پشیمان ہوا نہ ذرہ برابر اس سے منحرف ہوا اور نہ ہی اپنی طے شدہ منزل سے واپس مڑنے کا نام لیا۔

مزید :

کالم -