داعش کی ریاست کے مقابلے میں ایک اور 'اسلامک سٹیٹ 'کا جنم؟

داعش کی ریاست کے مقابلے میں ایک اور 'اسلامک سٹیٹ 'کا جنم؟
داعش کی ریاست کے مقابلے میں ایک اور 'اسلامک سٹیٹ 'کا جنم؟

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) مشرقی وسطیٰ میں داعش کی خلافت اور آزادانہ ریاست کے قیام کے بعد ایک اور شدت پسند ریاست کاوجود ابھرتا نظر آرہا ہے کیونکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شمالی شام میں داعش کے بعد القاعدہ کے حمایت یافتہ النصرہ فرنٹ کی ریاست کی بنیاد رکھی جارہی ہے۔

مزید پڑھیں:لفظ' پیپسی' کا مطلب کیاہے؟افواہوں پر یقین کرنے کے بجائےاصل تاریخ جانئے

گزشتہ سال نومبر سے لے کر آج تک یہ گروپ شمالی شام کے وسیع علاقوں پر اپنا قبضہ مستحکم کررہا ہے اور خصوصاً صوبہ ادلیب میں ان کی طاقت نمایاں نظر آتی ہے۔ ایک طرف امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے داعش کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے اور اس کے ٹھکانوں پر فضائی کارروائی جاری ہے تو دوسری طرف داعش کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر النصرہ فرنٹ نے اپنی طاقت کو بڑھانا شروع کردیا ہے۔

 القاعدہ کا حمایت یافتہ گروپ شمالی شام کے متعدد شہروں سے دیگر جنگجو گروپوں کو بے دخل کرچکا ہے اور خصوصاً شامی صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو یہ گروپ متعدد علاقوں سے نکلنے پر مجبور کرچکاہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق النصرہ فرنٹ شمالی شہر الیپو تک پہنچ چکا ہے اور صدر بشارالاسد کے مخالف ماذن الحور کہتے ہیں کہ النصرہ فرنٹ نے بھی داعش کی طرح اپنے قوانین کا نفاذ شروع کردیا ہے اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں شامی ریاست کا عمل دخل ختم کردیا ہے۔ یہ لوگ اپنی چیک پوسٹیں قائم کرچکے ہیں اور علاقے کی سیکیورٹی کا نظام بھی اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں۔ ان کی طرف سے بالکل اسی طرز کی ریاست قائم کرنے کا آغاز ہوچکا ہے جو ان سے پہلے شام کے شمالی علاقوں میں داعش قائم کرچکی ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -