تحقیق میں آج کل کے نوجوانوں کی عادات کے بارے میں تشویشناک انکشاف

تحقیق میں آج کل کے نوجوانوں کی عادات کے بارے میں تشویشناک انکشاف
تحقیق میں آج کل کے نوجوانوں کی عادات کے بارے میں تشویشناک انکشاف

  

لندن(نیوزڈیسک)ہمیں اکثر اپنے بزرگوں سے سننے کو ملتا ہے کہ تمہاری عمر میں ہم ایسا نہیں کرتے تھے یا کہ ہم تو بہت اچھے تھے لیکن اب کی نسل بہت بدتمیز اور لاپرواہ ہوچکی ہے ۔لیکن حال ہی میں کئے گئے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آج کی نوجوان نسل انٹرنیٹ کا بہت زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے سماجی سرگرمیوں سے بہت دور ہوچکی ہے۔ UCLA's Higher Education Research Institute کی جانب سے کئے گئے سروے میں 1987ءاور موجودہ دور کے کالج اور یونیورسٹی کے نوجوانوں کے حوالے سے کئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نوجوان اخلاق باختہ سرگرمیوں میں زیادہ ملوث ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے ان کی سماجی زندگی تناﺅ کا شکار ہو چکی ہے لیکن ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گذشتہ نسل کے لوگ پارٹیوں میں زیادہ جاتے رہے ہیں اور یہ کہ ان کی سماجی سرگرمیاں زیادہ تھیں جبکہ موجودہ دور کے نوجوان اس طرح کی چیزوں میں کم جاتے ہیں۔اس مقصد کے لئے 153,015کالج اور یونیورسٹی کے طالب علموں کو انٹرویو کیا گیااور یہ دیکھا گیا کہ اب نوجوان لوگ اپنے ساتھیوں کے ساتھ زیادہ پارٹیاں نہیں کرتے اور یہ کہ وہ سماجی زندگی میں اس طرح سے دلچسپی نہیں لیتے جیسا ان سے پہلے کی نسل لیتی تھی۔

وہ پانچ سالہ بچہ جو کبھی تیس سالہ سیاہ فام خاتون تھا

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ایک 18سالہ طالبہ ایزابیل گیلی آزی جو کہ میکڈانلڈ میں کام بھی کرتی ہے کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے جس کی وجہ بہت زیادہ مقابلہ ہے یعنی اگر آپ محنت نہیں کریں گے تو کبھی بھی اچھی زندگی نہیں بنا سکتے۔اس کا کہنا تھا کہ ماضی کی نسبت اب تعلیم اور اچھی نوکری کا حصول مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کی سماجی زندگی بہت محدود ہے۔سروے کرنے والے ادارے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کیون ایگن کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں یہ خیال مضبوطی پکڑ رہا ہے کہ انہیں اچھا مستقبل بنانا ہے لیکن ساتھ ہی ان میں پریشانی کی وجہ سے الکوحل کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 1987ءمیں 35فیصد لوگ پارٹی کرنا پسند کرتے تھے لیکن اب 9فیصد لوگ ایسا کرنا پسند کرتے ہیں یعنی اب ان کی سوشل زندگی محدود ہوچکی ہے۔جب نوجوانوں سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں اپنی زندگی کو کہاں پاتے ہیں تو نصف سے زیادہ لوگوں نے اسے اپنے ساتھیوں سے بلند اور 12فیصد نے ساتھیوں سے کم تر قرار دیا۔ 1987ءمیں 3.5فیصد لوگوں کو خیال تھا کہ ان کی زندگی اپنے ساتھیوں سے کم تر ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی شعبہ نفسیات کی ڈاکٹرجینا فلیمنگ کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں طالبعلموں میں ذہنی تناﺅ میں اضافہ ہوا ہے اور کئی طالب علم معدے میں درد کی شکایت کرتے ہیں جو کہ تناﺅ کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ گذشتہ 30سالوں میں طالبعلوں پر پریشر میں اضافہ بھی ہوا ہے جو کہ حیرن کن حد تک تکلیف دہ ہے۔

میڈیکل کی تاریخ کا انوکھا واقعہ،چینی والدین کے ہاں حاملہ بچی کی پیدائش،ڈاکٹر حیران

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ایک 18سالہ طالب علم جیک فولی کا نوجوانوں کے والدین کو کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے سروے پر زیادہ توجہ نہ دیں۔اس کا کہنا تھا کہ یقیناًآج کل کے نوجوانوں کی سماجی سرگرمیاں محدود ہیں لیکن وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -