شخصیت

شخصیت

  

انٹرویو :شہزادچودھری، تصاویر: ندیم احمد

میاں عثمان عزیز، جواں جذبوں، بلند ارادوں اور قوتِ عمل سے لبریز جسکی آنکھوں سے ذہانت اور سنجیدگی ٹپکتی نظر آتی ہے۔ عامر رائس ٹریڈرز کے چیف ایگزیکٹو میاں وقار عزیز کے چھوٹے صاحبزادے ہیں ایک بزنس مین گھرانے میں آنکھ کھولنے کے باعث اور اس ماحول میں پرورش پانے کے وصف سے نوجوانی کے آوائل میں ہی بزنس کی پیچیدگیوں، ضرورتوں اور تکنیکس کو خوب سمجھتے ہیں۔ میاں عثمان عزیز نے اپنی ابتدائی تعلیم چاند باغ سکول سے حاصل کی۔ اے اور او لیول بیکن ہاؤس اور کیمز سے مکمل کیا بعد ازاں York یونیورسٹی کینڈا سے فنانس میں بیچلر ڈگری حاصل کی اور 2011ء میں وطن واپس آ گئے۔ وراثت میں رائس کی ایکسپورٹ کا وسیع بزنس تو موجود تھا لیکن انہوں نے اپنے لئے الگ میدان کا انتخاب کیا چاول کے ایکسپورٹ بزنس میں شامل ہونے کی بجائے پراسس چاول کو بطور برانڈز مقامی مارکیٹ میں متعارف کروانے کا عزم کیا جس پر عمل پیرا ہو کر وہ کامیابیوں کی جانب گامزن ہیں۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں پاکستان ایک زرعی ملک ہے پاکستان میں پیدا ہونے والی اجناس میں چاول ایک اہم ترین زرعی جنس ہے جس کی پیداوار سے ہم مقامی سطح پر اور بیرون ممالک میں برآمدات سے وسیع تر زر مبادلہ کماتے ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی باسمتی چاول کی طلب بہت زیادہ ہے جبکہ اندرونِ ملک بھی چاول ہماری روز مرہ خوراک کا اہم ترین جزو ہے اور دوسری طرف چاول کی فصل کاشتکاروں کے لئے ایک منافع بخش فصل ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے پاکستان میں برانڈڈ مصنوعات کی خرید میں صارفین کا رجحان بڑھ رہا ہے اور ہر طبقہ کا صارف مستند کمپنی کی برانڈڈ مصنوعات خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔ پاکستان میں باسمتی چاول کو بطور برانڈ کئی ایک ادارے مارکیٹ میں فروخت کر رہے ہیں جس میں ایک قدرے نیا نام اوشیئین پرل رائس (Ocean perl rice) ہے جو عامر رائس ٹریڈرز کی ہی پراڈکٹ ہے۔ عامر رائس ٹریڈرز چاول کی صنعت میں انتہائی معتبر مقام کا حامل ادارہ ہے جو چاول کی ایکسپورٹ سے ملک کے لئے وسیع پیمانے پر زرمبادلہ حاصل کر کے قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ گزشتہ روز روزنامہ پاکستان نے اوشئین پرل رائس کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ آپریشنز میاں عثمان عزیز سے خصوصی گفتگو کی جس کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے۔

سوال:کچھ عامر رائس ٹریڈرز کے متعلق بتائیں اور اوشئین پرل رائس کو متعارف کروانے کا خیال کس طرح آیا۔۔۔؟

جواب: رائس کا کاروبار میرے والد میاں وقار عزیز نے 19971ء میں شروع کیا اپنی انتھک محنت، ایمانداری اور اللہ کے فضل و کرم سے عامر رائس ٹریڈرز کو چاول کی برآمدات کے حوالے سے پاکستان کا ایک ممتاز ترین ادارہ بنا دیا الحمد للہ آج عامر رائس ٹریڈرز چاول کی بیرون ممالک برآمدات کے حساب سے پاکستان کا دوسرا بڑا اور پنجاب کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ادارہ ہے بیرون ممالک میں ہمارے خرید کنندگان کا طویل عرصے سے ادارہ پر بھرپور اعتماد ہمارے لئے اہم ترین کامیابی ہے۔ جب میں کینڈا سے اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان واپس آیا تو چاول کی برآمدات کا کاروبار تو موجود تھا ہی جس کو میرے والد اور بڑے بھائی میاں محسن عزیز (جو اس وقت رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سینئر وائس چیئرمین بھی ہیں) بڑی کامیابی سے چلا رہے تھے میرے ذہن میں اس سے ہٹ کر کچھ الگ کرنے کی کچھ نیا کرنے کی جستجو موجود تھی جس پر ہم نے باہمی مشورے اور مارکیٹ ریسرچ کے بعد اپنی چاول کی تمام مصنوعات کو مقامی مارکیٹ میں متعارف کرانے کا پراجیکٹ بنایا جس کی تمام تر ذمہ داری مجھے سونپ دی گئی اور پھر ہم نے 2011ء میں اوشیئن پرل رائس پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں متعارف کروا دیا الحمد للہ ہماری تمام مصنوعات کو عوام کی طرف سے بھرپور پذیرائی ملی اور ہر طبقہ کے صارفین نے اوشیئن پرل رائس کو بہت زیادہ پسند کیا۔

سوال:اوشیئین پرل رائس کی مصنوعات کیا تمام پاکستان میں موجود ہیں اور یہ دوسرے برانڈ سے کس طرح بہتر ہیں؟

جواب: اوشین پرل رائس کی تمام مصنوعات ملک کے کونے کونے میں ہر بڑی اور چھوٹی دکان اور ڈیپارٹمنٹل سٹور پر دستیاب ہیں۔ملک بھر میں 80ڈسٹری بیوٹرز ہیں جب 2011ء میں برانڈ متعارف کروایا گیا تو سب سے پہلے ہم نے چھوٹے اور کم آمدنی والے صارف کو ٹارگٹ کیا اور اس کی ضرورت اور قوتِ خرید کے مطابق پراڈکٹ مارکیٹ میں مہیا کیں۔ بعدازاں جیسے جیسے نیٹ ورک بنتا گیا ہم نے ہر طرح کے صارف اور قوت خرید والے صارف کے لئے مصنوعات مارکیٹ میں پیش کر دیں اس وقت ہمارے مختلف برانڈز 1کلو سے لے کر 25کلو تک کی پیکنگ میں دستیاب ہیں اور 100روپے سے لے کر 225روپے فی کلو کی وسیع رینج بھی موجود ہے تاکہ ہر صارف اپنی قوت خرید کے مطابق اچھا اور معیاری چاول خرید سکے۔ جہاں تک بات دوسرے برانڈ سے بہتر ہونے کی ہے میں یہاں یہ کہوں گا کہ ہم مختلف نوعیت کا بہترین چاول خریدتے ہیں اور پھر اس کی سٹیٹ آف دی آرٹ فیکٹری میں ملنگ اور پراسیسنگ کی جاتی ہے اس کو ہر طرح کے کیڑے اور مضر اثرات سے پاک کیا جاتا ہے اور حفظانِ صحت کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پیک کیا جاتا ہے اور معیار پر کسی بھی مرحلے پر سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ نہایت مختصر عرصے میں اوشین پرل رائس فروخت کے اعتبار سے دوسرے نمبرپر موجود ہے یہ صارفین کے ہم پر اعتماد اور ہماری کمٹمنٹ کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے اور ہم انشاء اللہ اس کو صف اول کا برانڈ بنائیں گے۔

سوال:چاول کی تیاری یعنی ملنگ اور پراسیسنگ میں کس نوعیت کے سٹینڈرڈز کو اپناتے ہیں؟

جواب: عامر رائس ٹریڈرز اندرون اور بیرون ممالک اپنی بہترین ساکھ کی بدولت الگ شناخت کا حامل ادارہ ہے جو ہمیشہ اپنے صارفین کے اعتماد پر پورا اترنے کی جستجو میں مشغول رہتا ہے۔ اس وقت عامر رائس ٹریڈرز میں ملنگ اور پراسیسنگ کی تمام تر مشینری امپورٹڈ ہے اور یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے جہاں پاکستان سٹینڈرز کے ساتھ ساتھ HCCAP-ISO9001 سمیت امریکہ اور یورپ کے لئے خصوصی سٹینڈرز کو فالو کیا جاتا ہے۔ اوشئین پرل رائس کی اندرون ملک متعارف کرائی گئی تمام مصنوعات اوپر بیان کئے گئے تمام سٹینڈرز کے مطابق ایک ہی یونٹ مشینری اور اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کی زیر نگرانی تیار کی جاتی ہیں، لہٰذا صارفین اوشئین پرل کی تمام مصنوعات بھرپور اعتماد کے ساتھ استعمال کر سکتے ہیں اور میں یہاں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ جو بھی صارف ایک دفعہ اوشئین پرل رائس جس بھی ڈش میں استعمال کرے گا وہ یقینی طور پر دوبارہ اوشئین پرل رائس ہی خریدے گا اس کا رنگ ذائقہ خوشبو اور سائز آپ کو سب سے منفرد اور اعلیٰ ملے گا اور ہمیشہ ایک جیسا ملے گا۔

سوال:ملک میں چاول کی کل کھپت میں برانڈڈ چاول کا حصہ کتنا ہے اور باسمتی کی کون کون سی اقسام آپ مہیا کررہے ہیں؟

جواب: اس وقت تو نہایت ہی کم یعنی کل استعمال کا تقریباً ایک فیصد ہے لیکن اس مارکیٹ میں بے پناہ پوٹینشل موجود ہے جس جس طرح عوام میں تعلیم فروغ پا رہی ہے اور عوامی شعور بہتر ہو رہا ہے اسی طرح برانڈڈ مصنوعات کی جانب عوام کا رجحان بڑھ رہا ہے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کھلی مصنوعات کی نسبت برانڈڈ اور پیک مصنوعات ہر لحاظ سے معیاری اور صحت کے لئے محفوظ ہوتی ہیں ان کی تیاری میں سٹینڈر کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے جبکہ کھلی مصنوعات اور خاص کر چاول کی عام شیلررز پر تیاری میں وہ معیار اور صحت افزا معیار برقرار نہیں رکھا جا سکتا جو کہ ایک باقاعدہ سسٹم کے تحت تیار شدہ برانڈ میں ممکن ہو سکتا ہے۔

جہاں تک باسمتی کی اقسام کی بات ہے تو زیادہ تر سپرباسمتی 1121کائنات ،PK386 سمیت دیگر اقسام میں ہماری مصنوعات مارکیٹ میں موجود ہیں اور گزشتہ سال 2014ء میں ہم نے اوشئین پرل رائس کی تقریباً600ٹن کی مختلف مصنوعات فروخت کی ہیں جو اپنے حجم کے اعتبار سے مارکیٹ میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ جاری ہے۔

سوال:پاکستان میں باسمتی کی فی ایکڑ پیداوار بہت کم ہے اس کو کس طرح دیکھتے ہیں اور کیا تجویز کرتے ہیں؟

جواب: اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہماری زمین چاول کی پیداوار کے لئے انتہائی موزوں ہے اس میں پیدا ہونے والے چاول کا کوئی مد مقابل نہیں لیکن افسوس کہ ہم پچھلے طویل عرصے سے باسمتی کا کوئی نیا اور ترقی یافتہ بیج متعارف نہیں کروا سکے۔ہمارے یہاں ادارہ اور حکومتی سطح پر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا شدید ترین فقدان ہے باسمتی کے ایک ہی طرح کے بیج کی بار بار کاشت سے پیداوار مزید کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی بار بار کی کوششوں کے باوجود رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا خواب شرمندہ تعبیرہوتا نظر نہیں آ رہا۔دوسری طرف انڈیا میں گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ جدید ریسرچ سے نئے سے نئے بیج متعارف کروائے جا رہے ہیں وہاں باسمتی کی فی ایکڑ پیداوار ہم سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن یہاں زیادہ پیداوار کے الگ مسائل بھی موجود ہیں یعنی ہمارے پاس ملکی ضروریات سے زائد تمام چاول کی برآمدات کے مناسب انتظامات نہیں ہیں اس وقت بھی پاسکو کے پاس تقریباً 2لاکھ ٹن اضافی چاول موجود ہے اگر حکومت سنجیدگی سے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی تجاویز پر عمل کر دے تو یقینی طور پر چاول کی اس وقت کی برآمدات کو دوگنا کیا جا سکتا ہے اور خود سوچیں کہ اس سے ہمارے ملک اور ہمارے تمام طبقات اور معیشت پر کتنا خوش گوار اثر پڑے گا بلکہ میں تو یہاں یہ بات کہتا ہوں کہ باسمتی رائس پاکستان کے سو فٹ امیج کا مستقل سفیر ہے جو ہمیں فائدہ بھی دے گا اور اچھی شناخت بھی۔

سوال:ہائبرڈبیج کی کاشت پر زور دیا جارہا ہے اس کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اور فوڈ سیکیورٹی کو محفوظ بنانے کے لئے جدید طریقوں کی ضرورت تو رہے گی ہائبرڈ بیج سے حاصل ہونے والی فصل کی پیداوار تو زیادہ ہوتی ہے لیکن اس میں باسمتی جیسی خوشبو، ذائقہ اور لینتھ موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام کی زیادہ تعداد اسے پسند نہیں کرتی۔ پاکستان میں سندھ کے علاقوں میں ہائبرڈ بیج کاشت کیا جا رہا ہے لیکن پنجاب میں ابھی زیادہ کاشت نہیں ہو رہا، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ریسرچ سے باسمتی کے بیج کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ باسمتی کی زیادہ پیداوار کو ممکن بنایا جا سکے جو مشکل نہیں ہے بات صرف ارادے اور قول عمل کی ہے علاوہ ازیں اگر کائنات 1121کو باسمتی کا ٹیگ مل جائے تو اس سے بھی باسمتی کی برآمدات بہتر ہو سکتی ہیں اور بیرون ملک اس کی طلب بھی موجود ہے۔

سوال:باسمتی کے کاشتکاروں اور عام صارف کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: باسمتی کے کاشتکاروں اور عوام الناس میں شعور اجاگر کرنے کے لئے ہم مختلف سیمینارز ، ورکشاپ، نمائشوں کا انعقاد اور ان کا حصہ بنتے رہتے ہیں علاوہ ازیں ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے بھی الگ الگ اپنا پیغام پہنچاتے رہتے ہیں۔ آپ کے اخبار کی وساطت سے بھی باسمتی کے کاشتکاروں سے میری درخواست ہے کہ وہ تمام غذائی اجناس پر ممنوعہ زہروں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ کیڑے مار اور پھپھوندی کش زرعی ادویات بھی صرف زرعی ماہرین کے مشورے کے مطابق استعمال کریں، کیمیائی کھادوں کا استعمال زمین کی ضروریات کے مطابق کریں اور تمام زرعی مداخل کو متناسب رکھیں تاکہ ان کی پیداوار بھی بہتر ہو ، فی ایکڑ لاگت کم ہو اور تیار فصل بھی ہر قسم کے زہریلے اثرات سے پاک ہو۔

یہاں میری حکومت سے بھی اپیل ہے کہ وہ کاشتکاروں کے لئے آسانی پیدا کرتے ہوئے تمام زرعی مداخل کو سستا کرے تاکہ کاشتکار ذہنی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو پیداوار بڑھانے پر صرف کرے، جبکہ عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ اچھی اور معیاری مصنوعات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ یہ ایک منفی تاثر پایا جاتا ہے کہ برانڈڈ مصنوعات مہنگی ہوتی ہیں۔ میں پورے دعوے سے کہتا ہوں کہ جو صارف بھی ہماری اوشئین پرل رائس کی مصنوعات خریدتا ہے اس کا یہ تاثر تبدیل ہوجاتا ہے کہ اس کو عام قیمت میں بین الاقوامی معیار کی مصنوعات مل رہی ہیں۔

سوال:آپ نوجوان کی ترجمان بھی کرتے ہیں ان کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: نوجوان ہمارے ملک کا اہم ترین طبقہ ہیں اور انشاء اللہ نوجوان نسل اس ملک کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کرے گی میں صرف یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں۔ حالات خواہ کیسے بھی ہوں قطعاً مایوس نہ ہوں وطن کے ساتھ سچی محبت اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں اور جس پیشے میں بھی جائیں نیک نیتی، خلوص اور سچی لگن کے ساتھ اپنی انتہائی صلاحیتوں کے ساتھ کام کریں تو یقین جانیں کوئی بھی مشکل ان کا راستہ نہیں روک سکے گی ہم نے سیکھنا ہے اور آگے برھنا ہے جو کچھ حاصل کرلیا اور جو کچھ کھو دیا اس میں گم نہیں رہنا بلکہ اپنے راستے اور اہداف خود متعین کرنے ہیں اور حاصل بھی کرنے ہیں ۔یہ وطن ہمارا ہے اور ہم ہی نے اسے ترقی کی اوجِ کمال تک پہنچاناہے۔ پاکستان زندہ باد۔

مزید :

ایڈیشن 2 -