سیاسی بے چینی اور اُس کا حل

سیاسی بے چینی اور اُس کا حل
سیاسی بے چینی اور اُس کا حل

  



مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو عنان اقتدار سنبھالے ہوئے19ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے۔حکومت کی کارکردگی ان19ماہ میں جانچنے کے لئے وقتاً فوقتاً تجزیہ جات قومی میڈیا میں آتے رہتے ہیں۔ عرصۂ اقتدار کی درازی سے قطع نظر اس کی کارکردگی کی کامیابی پرکھنے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس نے اپنے دورِ اقتدار میں تاحال کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی، جس سے اس کے طرزِ حکمرانی کی تعریف کی جا سکے، بلکہ اس کی بے عملی کا مظاہرہ زندگی کے ہر شعبہ سے مترشح ہے۔حکومت کے ناقدین نے ہر پہلو سے اس کی کارکردگی کو ہدفِ تنقید بنایا ہے، لیکن تسلسل سے نشاندہی ہونے کے باوجود ارباب اختیار نے اپنی روش تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اب تک کی تنقید کا نمایاں پہلو حکومت کا ایک خاندان کی طرز پر بادشاہت چلانے پر محمول کیا جانا ہے۔ کاروبارِ سلطنت کا ایک لمیٹڈ کمپنی کی طرز پر رواں دواں ہونا صاف نظر آ رہا ہے۔ حکومت کے اربابِ اختیار نے اپنے عرصۂ اختیار میں اب تک یہ تاثر قائم کر رکھا ہے کہ وہ اپنے دوست احباب، خاندان اور برادری کے لوگوں کے ساتھ بیورو کریسی کے چند مہروں پر مشتمل ایک گروہ کے ذریعے اقتدار پر براجمان ہیں۔میرٹ نام کی چیز اس کے اندازِ حکمرانی میں کسی مقام کی حامل نہیں۔ ہر شعبۂ زندگی میں حکومت کا تاثر منفی ہے، کیونکہ کارکردگی کا فقدان نظر آتا ہے۔

اس تاثر کی بنیادی وجہ اختیار کا سرچشمہ اداروں کی بجائے شخصیات کے پاس ہونا ہے۔ چند وزراء کے ہاتھ میں پالیسی تشکیل دینا ہے۔ پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں کا فیصلہ سازی میں کوئی دخل نہیں، کیونکہ عوامی مینڈیٹ پر قائم حکومت کا عوام کے منتخب اداروں پر اعتماد کا فقدان ہے۔ایک سال کے عرصہ تک ملک کے وزیراعظم نے مقننہ کے اجلاسوں میں صرف دو مرتبہ رونمائی کرائی،جبکہ ایوان بالا میں ایک سال کے اندر ایک بار بھی جانے کے لئے ان کے پاس وقت نہ تھا۔ بڑے بڑے قومی اداروں جن کی تعداد تقریباً 28 بنتی ہے، سربراہان کی تعیناتی تاحال نہیں کی جا سکی اور جن چند ایک میں کی گئی ان میں اقرباء پروری کا استعمال کیا گیا۔ میرٹ سے ہٹ کر تعینانیاں ہوئیں، بلکہ چند ایک منظورِ نظر افراد کو نوازنے کے لئے رولز میں بھی ترامیم سے گریز نہیں کیا گیا۔ خاندانی روابط کی بنا پر ان میں تعینانیاں عمل میں لائی گئیں۔ ذاتی دوستی اور برادری وفاداریاں انتخاب کا پیمانہ ٹھہریں۔ وزراء کے انتخاب میں بھی برادری اور علاقے کی چھاپ صاف عیاں ہے۔

میاں نواز شریف نے الیکشن مہم کے دوران یہ اعلان کیا تھا، ان کو ملک کے مسائل کا ادراک ہے اور ان کے پاس رفقاء کی ایسی تجربہ کار ٹیم ہے، جن کے پاس پاکستان کے موجودہ مسائل کا حل موجود ہے۔ایوانِ اقتدار میں داخل ہوتے ہی، جن رفقاء کا انتخاب کیا گیا اس کا پیمانہ میرٹ کی بجائے میاں صاحب سے وفاداری اور وابستگی رکھا گیا۔ اسی انتخاب کا نتیجہ ہے کہ مُلک میں نت نئے بحران جنم لیتے رہے ہیں اور ستم یہ ہے کہ اُن کو حل کرنے کی بجائے یہ ٹیم ان کو گھمبیر بناتی رہی، کیونکہ سیاسی زعماء جن کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار ہے وہ میرٹ سے ہٹ کر منتخب کئے گئے اور اُن کا معیار انتخاب مسلم لیگ کی قیادت سے وابستگی کی گہرائی پر کیا گیا تھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ افسر شاہی کی ایک مخصوص لابی اربابِ اختیار کی آنکھ اور کان بنے رہے۔ مسلم لیگ کا ماضی گواہ ہے کہ اس سے قبل کے دو ادوار میں بھی میاں صاحب نے چند ایک مخصوص افسران کا ٹولہ اقتدار کے سنگھاسن کی زینت بنائے رکھا۔ جونیئر افسران اپنے حکمرانوں کی ایک جنبشِ ابرو پر ہر کام کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے عہدوں کو کھونے کے کھٹکے سے آزاد رہتے ہیں۔ بیورو کریسی کے جونیئر عہدیداروں کے ذریعہ حکومت اپنا کاروبارِ سلطنت چلا رہی ہے۔

یہی چلن جمہوری رویہ کے متضاد ہے اِسی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کا عوام سے رابطہ کٹ چکا ہے، کیونکہ عوامی نمائندوں اور منتخب اداروں کے ذریعے حکومت چلانے کا چلن شریف برادران کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ کبھی بھی نہیں رہا۔ عوامی نمائندے اپنے وزراء سے ملاقات کے لئے کئی ماہ تک مارے مارے پھرتے ہیں، لیکن انہیں پذیرائی نہیں ملتی۔ عوامی رابطوں کے فقدان کی وجہ سے حکومت کے لئے پبلک کی نبض شناسی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حکومت کے دور میں فیصلوں کو عوامی پذیرائی حاصل نہیں۔ حکومت صرف وہی فیصلے کرنا درِ خوراعتناء سمجھتی ہے، جن کو بیورو کریسی کی رضا مندی اور منظوری حاصل ہوتی ہے یا بصورتِ دگران فیصلوں کے پیچھے شریف برادران کی شخصی خواہشات کار فرما ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے فیصلوں میں عوامی بھلائی کا فقدان اور ان کے ناقابل عمل ہونے کا عنصر نمایاں ہوتا ہے، لیکن عوامی پذیرائی سے محروم ہونے کے باوجود ان فیصلوں پر عمل درآمد ہونے سے لوگوں کے اندر ان فیصلوں سے لاتعلقی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قوم کے اندر بے چینی بڑھ رہی ہے۔اگر عوامی بھلائی کے مقاصد کے تحت فیصلے کئے جاتے تو غیر یقینی کی فضا میں اتنا اضافہ نہ ہوتا جتنا کہ اس وقت ہو چکا ہے۔ عام آدمی اپنے آپ کو حکومت کے کاروبار میں شریک نہیں سمجھتا، جس سے عوامی بے چینی جنم لیتی ہے اسی سبب یہ سوال ہر طرف سے اُٹھ رہا ہے کہ حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔

اگر فیصلہ سازی کے عمل میں عوام کو شریک کیا جاتا رہتا تو بے چینی کی موجودہ لہر پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ منصوبہ جات عوامی پہلو سے مفید بھی ہوں،لیکن چونکہ ان کی منصوبہ بندی میں عام آدمی کی شمولیت کے عنصر کا فقدان رہا،اس لئے ان کی افادیت کا پہلو اپنی اہمیت ثابت نہ کر سکا اور لگتا ہے کہ جمہور کے زیادہ تر حصوں میں ان منصوبوں کو پذیرائی نہیں مل سکی۔ یہ ایک تاریک پہلو ہے، جس کا مسلم لیگ(ن) کی حکومت کو ادراک نہیں ہو سکا۔ لوگوں کی بے چینی کا ایک بڑا پہلو جو تاریک تر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ایسا ہے، جس کا ادراک حکمرانوں کو نہیں ہو سکا۔یہی غیر جمہوری رویہ جس کی اصلاح کی ضرورت ہے اور ابھی گنجائش بھی ہے اس وقت مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا کارنر سٹون ہے۔ یہی بے سکونی آگے جا کر قوم میں انتشار کی راہ ہموار کرتی ہے، جس سے لاقانونیت، بے راہ روی، طبقاتی تفریق، اقتصادی ناہمواری اور حکومت پر عدم اعتماد جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔انہی مسائل کے مجموعہ کو حکومت کی بے عملی کا نام دیا جا رہا ہے اور یہی بے عملی سیاسی بے چینی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔یہی بے چینی اور بداعتمادی کسی بڑے سیاسی بحران کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے اور یہ عوامی لہر کی صورت میں ابھر سکتی ہے۔اگر عوامی مفاد کے فیصلے لوگوں کو اعتماد میں لے کر کئے جائیں تو ایسی صورت حال سے بچا جا سکتا ہے۔وگرنہ عوامی بیداری کی بھاگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں لے کر کئے جائیں تو ایسی صورت حال سے بچا جا سکتا ہے۔

عوامی بداعتمادی کا یہی عنصر مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، لیکن جب حکمرانوں نے اپنے کان اور آنکھیں بند رکھنے کی عادت ڈال رکھی ہو تو سیاسی ہلچل میں ہر روز اضافہ ناگزیر ہوتا ہے۔اگر ہوش کے ناخن نہ لئے گئے تو آنے والے دور میں مُلک کے اندر عوامی بے چینی کی لہر میں اضافہ ناگزیر ہی ہے اور ناکامی حکومت کا مقدر ہو گی، اس لئے حکمرانوں کے پاس ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اپنی روش تبدیل کریں اور ہر کام قابلیت اور معیار پر پرکھ کر کریں۔ لوگوں کو فیصلہ سازی میں شامل کریںیا کم از کم عوام میں یہ تاثر قائم کریں کہ فیصلہ سازی میں ان کی رائے شامل ہے اس لئے ضروری ہے کہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے اور فیصلہ سازی کا اختیار عوامی نمائندوں کے سپرد کیا جائے۔

مزید : کالم