یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

  

صبح حسب عادت موبائل اٹھایا اور موبائل پر موصول ہونے والے پیغامات پر نظر ڈالنے لگے،بے شمار پیغامات موصول ہوئے موبائل نمبر پر بھی اور فیس بک پر بھی ، فیس بک پیج پر بھی پیغامات کی بھر مار تھی اور جو پیغامات موصول ہوئے وہ سالگرہ مبارک کے تھے ۔چھ فروری آپ کے پیارے پارے دوست کی سالگرہ کا دن ہے اور سالگرہ کے دن صبح صبح ہی ملنے والے دوستوں کے حسین و جمیل پیارے پیارے پیغامات پڑھ کر یقیناًسوا سیر خون بھی بڑھ گیا ۔بے شمار دوستوں نے مجھے سالگرہ کے دن یاد رکھا اور ڈھیر سارے دعاؤں کے پیغامات بھی بھیجے جو میرے لئے بہت خوشی کی بات تھی ۔ خوشی اس بات کی تھی کہ ہمیں بھی بہت سے دوست یاد رکھنے والے ہیں اور یقیناًجس کے پاس اچھے و خوبصورت باذوق دوست ہوں اسے اور کیا چاہئے ۔

بچپن میں ہمیں سالگرہ منانے کا بہت شوق تھا ، شاید وہ اس لئے کہ ہمیں تمنا ہوتی تھی کہ کھیلنے کے لئے خوبصورت اور پیارے پیارے تحفے ملیں گے اور تحفوں کے چکر میں ہم سارا سال سالگرہ کے دن کا انتظار کرتے رہتے تھے اور جب ہماری سالگرہ ہوتی، تب ہماری خوشی کی انتہا نہ ہوتی، کیونکہ سالگرہ پر ہم اپنے دوستوں کی بھی دعوت کرتے تھے ،گھر بلا تے تھے اور بڑے اہتمام کے ساتھ کیک بھی کاٹتے تھے ۔حقیقت تو یہ بھی ہے کہ بچپن کے دن بھی کتنے اچھے ہوتے ہیں نہ کوئی فکر نا فاقہ بس عیش کر کاکا، لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں سوچیں بھی بڑھتی جاتی ہیں ۔

بہر حال بات ہو رہی تھی پیغامات کی ، ہم یہ بھی بتلاتے چلیں کہ ہم جب سکول میں پڑھتے تھے، تب ہی ہم نے یہ بھی سنا تھا کہ سالگرہ منانا اچھی بات نہیں اور نہ صرف یہ کہ ہمیں یہ بات سن کر بھی افسوس ہو تا تھا کہ سالگرہ منانے سے ایک سال کم ہو جاتا ہے ، لیکن یہ افسوس اس وقت خوشی میں بدل جاتا جب ہمیں کھیلنے کے لئے نت نئے رنگ برنگے کھلونے ملتے ۔ آج ایک دفعہ پھر سالگرہ کا کیک کاٹا اپنے گزرے ہوئے چالیس برسوں پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ ہم نے کچھ پایا نہیں کھویا ہی کھویا ہے ، یقیناًہمارے بہت سے دوست کہاں سے کہاں پہنچ گئے، لیکن ہم آج بھی وہیں پر ہیں جہاں چالیس سال پہلے جیسے کوئی دودھ پیتے بچے ،لیکن یہ ضرور احساس تھا کہ زندگی بھر میں اخبار کے رنگوں سے اس قدر آشنائی حاصل کی کہ خود بھی حیران و پریشان سے رہ گئے ۔ ہم نے بچپن میں یہ بھی سن رکھا تھا کہ اپنے گھر سے کبھی کوئی کام نہیں سیکھتا ، اسی لئے ہم نے بھی لاہور اسلام آباد کے بے شمار اخبارات میں کام سیکھا اور تاحال سیکھنے کے عمل میں ہی ہیں ،بتاتے چلیں کہ ہم نے خود بھی بہت سے اخباروں کی ادارت کی اور بعض دوستوں کے ساتھ مل کر اپنا اخبار بھی شروع کیا، لیکن بہت سے دوستوں سے کاروباری اور اخباری شراکت داری جم نہ سکی ۔اس لئے اپنا اخبار شروع کرنے کا سپنا آج بھی ادھورا ہی ہے اور امید ہے کہ شائد کبھی پورا ہو جائے ،بہر حال یہ بھی بتاتے چلیں کہ ہمیں لکھنے کا شوق تو بچپن سے ہی تھا اور یقیناًجس وقت بچے انجینئر، ڈاکٹر ، اور سپاہی بننے کی دعا کرتے تھے تو ہمارے لبوں پر بھی ایک ہی دعا ہوتی تھی کہ یا اللہ مجھے بھی قلم کی طاقت سے نواز دے اور آج یہ طاقت بھی اللہ نے بخش دی ہے ،بہر حال یہ بھی یاد ہے کہ بچوں کے لئے پہلی کہانی جب میں پانچویں سے چھٹی کلاس میں تھا تو لکھی جو کہ نوائے وقت بچوں کے ایڈیشن میں شائع ہوئی۔

ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ جب لاہور سے رخت سفر اسلام آباد کی طرف باندھا تو سب سے پہلے روزنامہ ’’خبریں ‘‘ سے بطور ٹرینی سب ایڈیٹر کام کا آغاز کیا ۔سب سے پہلے جناب شاہد صابر جو کہ خبریں کشمیر ڈیسک کے انچارج تھے ، ان کے ساتھ کام کا آغاز کیا ۔یہ بھی بتاتے چلیں کہ لاہور میں بھی ہم روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں سہیل وڑائچ اور رانا طاہر کی نگرانی میں بطور سروے رپورٹر کا م کر چکے تھے ،تاہم اسلام آباد میں روزنامہ ’’خبریں ‘‘ میں کام کے لئے ہم نے خلیل ملک صاحب مرحوم سے جناب خوشنود علی خان سے سفارش کروائی، جناب خلیل ملک صاحب مرحوم مجھے ریسرچ کی طرف لے جانا چاہتے تھے، لیکن مجھے کچھ پلے نہ پڑا، اسی لئے مَیں نے خبریں میں کام کی فرمائش کر دی ، تاہم روزنامہ ’’خبریں‘‘ کے بعد روزنامہ ’’اوصاف ‘‘ جب نیا شروع ہوا تو اوصاف میں بطور سب ایڈیٹر بھرتی ہوئے، پھر روزنامہ ’’اوصاف‘‘ میں بطور رپورٹر اور بطور پولیٹیکل ایڈیشن انچارج کام بھی کیا اور نہ صرف یہ بلکہ روزنامہ ’’اساس‘‘ میں جناب خورشید ندیم کی نگرانی میں بھی کام کیا ۔ جی دوستوں پھر اس کے بعد ’’پاکستان ‘‘ اخبار کا آغاز ہو ا تو بطور کالم نگار اور رپورٹر بھی اپنے فرائض انجام دئے ،تاہم پھر روزنامہ ’’اساس ‘‘ چھوڑنے کے بعد مختلف چھوٹے موٹے اخباروں میں بطور ایڈیٹر بھی نت نئے تجربے کر کے مزید کام سیکھا۔

تاہم یاد آیا کہ ہم لگے ہاتھوں آپ کو فیصل نام کا مطلب بھی بتاتے چلیں ،جی ہاں فیصل سے یاد آیا کہ ہمارا نام بھی سعودی عرب کے شاہ فیصل کے نام سے منسوب ہے اور فیصل کے نام کا مطلب بھی ہمیں بچپن میں والد محترم کے سعودی دوستوں سے ہی معلوم ہوا تھا کہ فیصل کا ایک مطلب تلوار بھی ہے اور انصاف پسندی بھی۔ دوستو اگر دیکھا جائے تو زندگی میں خوشیوں کے ساتھ ساتھ غم بھی موجود ہے تو بتاتے چلیں کہ زندگی میں سب سے گہرا دُکھ اس وقت پہنچا، جب ہماری پیاری اماں جان اس دنیا سے پر دہ کر گئیں ۔ جی ہاں دادی جان جنھیں پیار سے سب اماں جان کہتے تھے کی وفات ہماری زندگی میں سب سے گہرا صدمہ تھا ۔

بہرحال دوستو آج بھی اس بات کی خوشی ہے کہ بہت سے دوستوں کی حوصلہ افزائی کے باعث ہی آج میرا قلم اس قابل ہو گیا ہے کہ ایک لفظ سے پوری کہانی ہی بن جاتی ہے ، بہر حال دوستو بات سمیٹتا ہوں ،ان الفاظ کے ساتھ کہ بندہ اس کرم کے کہاں تھا قابل،یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات ابتک بنی ہوئی ہے ۔جی ہاں دوستو یقیناًاللہ تعالی کا کرم ہی ہے کہ قلم چل رہا ہے اور جب تک آپ دوستوں کی شفقت محبت ساتھ ہے چلتا رہے گا۔ آپ کے پیارے دوست کا قلم یوں ہی اپنے جوہر دکھاتا رہے گا، بہرحال اجازت آپ سے پیارے دوستو ملتے ہیں، جلد ایک بریک کے بعد ،تو چلتے چلتے اللہ نگہبا ن ،رب راکھا

مزید :

کالم -