عمران کی مشرف کو کہنی

عمران کی مشرف کو کہنی
عمران کی مشرف کو کہنی

  

’’ہمیں جمہوریت کے ساتھ آمر بھی جعلی ملے، کوئی اچھا ڈکٹیٹر مل جاتا تو ملک آگے چلا جاتا‘‘ سیاست سے کہیں زیادہ اپنے ایک مستقل مشغلے کے لئے ’’شہرت‘‘ رکھنے والے بیرسٹر سلطان محمود کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر اس رائے کا اظہار عمران خان نے کیا۔ اسے کسی فلسفے پر مبنی یا اکیڈمک بات تصور کرنا کوتاہ اندیشی ہو گی۔ کپتان نے یہ الفاظ ادا کر کے ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے والے سابق فوجی آمر جنرل (ر) مشرف کے پیٹ میں کہنی رسید کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے عمران خان کو یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ سلطان محمود غزنوی کی طرز پر موجودہ حکومت کے خلاف 17 حملے کرنے پر تل ہی گئے ہیں، تو پاک فوج کے سابق سربراہ کو ساتھ رکھیں۔ یہ واضح نہیں کہ ایسی کسی امکانی صورت حال میں دونوں میں سے بڑا کمانڈر کون ہو گا؟ جس طرح سے کپتان ڈٹ کر جعلی ڈکٹیٹر کے خلاف بولے ہیں اس سے تو یہی گمان ہوتا ہے کہ مشورہ دینے والے حاضر سروس نہیں۔ ریٹائر جرنیل کے لئے اگر کچھ ریٹائر افسر ہی سیاسی راستے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تو شاید یہ زیادہ بار آور ثابت نہ ہوں۔ عمران خان اور جنرل (ر) پرویز مشرف کو ساتھ ملانے کا فارمولا صرف سابق آمر کو ہی فائدہ دے سکتا ہے۔ کپتان کے لئے تو ایسی کوئی بھی صورت حال محض ملبہ اٹھانے کے مترادف ہو گی۔

تحریک انصاف کے بارے میں ایک بار پھر سے یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ یار لوگ خوب واقف ہیں کہ اس کے سوا ان کے پاس کوئی اور راستہ ہی نہیں۔ ان کی بقاء کا راز ہی احتجاجی سیاست کو اپنائے رکھنے میں مضمر ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ناقص، بلکہ بدترین کارکردگی کے باوجود اس کے لیڈروں کے اس دعوے سے اختلاف ممکن نہیں کہ عمران خان مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے کسی عدالت، کسی ٹربیونل کا کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کریں گے۔ وہ ایسا کر بھی کیسے سکتے ہیں۔ 14 اگست 2014ء کے لانگ مارچ اور دھرنوں سے بہت پہلے کپتان کو ٹھوس ضمانتیں دے کر یقین دہانی کرا دی گئی تھی کہ حکومت کو ہر صورت جانا ہو گا۔ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو ایشو بنا کر جو تحریک کھڑی کی گئی اس کے سکرپٹ رائٹر نے اس حوالے سے بھر پور تیاریاں کر رکھی تھیں۔ احتجاجی سیاست کے ان طوفانی اور ہیجانی دنوں میں قوم ذہنی طور پر تیار ہو چکی تھی کہ حکومت گئی کہ گئی۔۔۔ سکرپٹ رائٹر کو پختہ یقین تھا کہ محمد نواز شریف گھیراؤ، جلاؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے از خود ہی مستعفی ہو جائیں گے ۔ اس لئے کپتان کشتیاں جلا کر میدان میں اترے تھے۔ انہوں نے فوری پنجاب، سندھ کی صوبائی اسمبلیوں سے استعفے بھی دے ڈالے۔ اندیشہ ہائے دور دراز کے تحت خیبر پختونخوا میں جس کا وزیراعلیٰ سرکاری وسائل کے ساتھ دھرنا نشین تھا، اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لئے وہاں استعفوں سے گریز کیا۔ سکرپٹ رائٹر کا منصوبہ تو پٹ گیا۔ کپتان کے لئے، مگر اب زیادہ آپشن نہیں۔

حالات آج اس نہج پر آ گئے ہیں کہ عمران خان چاہیں بھی تو اسمبلیوں میں واپس نہیں جا سکتے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ ایسا کیا تو مخالفین اسے تھوک کر چاٹنے کے مترادف قرار دیں گے۔ کھلا تضاد تو یہ بھی ہے کہ وہ سینیٹ الیکشن میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ وفاق، پنجاب اور سندھ سے تو انہیں ویسے بھی کوئی نشست نہیں مل سکتی تھی۔ خیبر پختونخوا میں، مگر وہ چند نشستیں حاصل کر کے ایوان بالا میں نمائندگی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جماعت کے اندر گیارہ ارکان نے اپنا ’’بندہ‘‘ منتخب کرانے کے لئے ’’ہم خیال گروپ‘‘ بھی بنا لیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی کسی لطیفے سے کم نہیں کہ میرٹ اور دیانتداری کا راگ الاپنے والے کپتان سینیٹ انتخابات میں ووٹوں کی خرید و فروخت سے متعلق خود اپنے ہی ’’انقلابی‘‘ ارکان پر عدم اعتماد کر رہے ہیں۔ بار بار کہہ رہے ہیں کہ جس نے پیسے لے کر ووٹ دیا اسے پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ خیر یہ تو ان کی پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے ملکی حوالے سے یہ بات طے ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے احتجاجی سیاست لازمی جاری رکھیں گے۔ اس طرح ایک جانب جہاں وہ موجودہ حکمرانوں کے لئے درد سر بن رہے ہیں وہیں دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ان کی صوبائی حکومت کی کارکردگی بھی عوام کی بڑی تعداد کی نظروں سے اوجھل رہے گی۔

نئے دوست بنانا اچھی بات ہے، لیکن پرانے دوست چھوڑ کر نئے دوست بنانا اچھی بات نہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت کے، لیکن اپنے ہی اصول اور اپنے ہی ضابطے ہیں۔ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ حامد خان اور احمد اویس جیسے قابل اور اجلے وکلاء کو نظر انداز کر کے پنجاب بنک کیس میں ’’نام‘‘ کمانے والے بابر اعوان کو وکیل کر لیا گیا۔ (پنجاب بنک کیس کے حوالے سے یوں تو کئی خبریں اور کالم شائع ہوئے، لیکن برادرم جاوید چودھری نے اس سلسلے میں سب سے جامع تحریر ثبت کی جو آج بھی ان کے اخبار کے آر کائیو میں موجود ہے) بابر اعوان غیر رسمی طور پر تحریک انصاف میں تو آ ہی چکے ہیں۔ رسمی اعلان کے لئے ان کی انوکھی شرط تاحال پوری ہونے کے امکانات نہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ ضیاء الحق شہید کے جانثار پیروکار بن کر نعرے لگاتے لگاتے، جئے بھٹو کے نغمے گنگنانے کے بعد اب ’’بنے گا نیا پاکستان‘‘ جیسا ترانہ پڑھنے کے لئے انہوں نے پارٹی کی صوبائی صدارت کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ بہرحال ابھی تو اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کے ٹائیگروں کو نیا پاکستان بنانے کے لئے بابر اعوان اور بیرسٹر سلطان محمود کی صورت میں دو افراد اور ’’سہارے‘‘ مل گئے۔ پارٹی کو دونوں سٹار مبارک۔۔۔

سندھ کی حد تک جنرل مشرف کی پھرتیاں شاید زیادہ کار آمد ثابت نہ ہوں ۔ایم کیو ایم والے محض اپنا بھاؤ بڑھانے کے لئے ان کا استعمال کررہے ہیں۔ کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ عمران فاروق کو لندن میں نشانہ کیوں بنایا گیا تھا۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق محض، اس لئے کہ وہ جنرل (ر) مشرف سے مل کر ایک الگ سیاسی دھڑا بنانے کی کوشش کررہے تھے، جس میں مہاجروں کی اکثریت کو جمع کرنا مقصود تھا۔خود الطاف حسین بھی مہاجر کارڈ کے حوالے سے مشرف کو معمولی درجے کا ہی سہی لیکن ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ الطاف حسین کی جانب سے مارشل لاء لگانے کے مطالبات دراصل فوج اورایجنسیوں پر دباؤ بڑھانے کی کوششیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ اول تو مارشل لاء لگے گا نہیں اور اگر واقعی فوج برسراقتدار آگئی، تو شاید اپنے مطالبات منوانا آسان ہوجائے، اس بار ایسا ہوا تو قائد تحریک کے اندازے دھرے کے دھرے بھی رہ سکتے ہیں۔ نظر تو یہی آتا ہے کہ ایم کیو ایم والے جلد ازجلد اپنا بھاؤ بڑھا کر میدان اقتدار میں کودنے والے ہیں۔ کراچی میں بھتہ نہ دینے پر اڑھائی سو افراد کو زندہ جلانے کے واقعے کی باز گشت نے ایم کیو ایم کی سودے بازی کی پوزیشن اور کمزور کردی ہے۔ تازہ ترین حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ الطاف حسین بھائی کو سندھ حکومت میں شمولیت کا بادل نخواستہ فیصلہ کرناہی پڑے گا ۔وہ تو وفاقی کابینہ میں بھی حصہ چاہتے ہیں، لیکن لیگی قیادت ابھی تک پیپلز پارٹی کو ناراض کر کے کوئی اقدام کرنے کے موڈ میں نہیں۔

آخر میں رہ گئی مشرف کی سیاست تو یاد رہے کہ اب ان کا کوئی اہم مصرف باقی نہیں رہا ۔ہاں انہیں استعمال ضرور کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ(ق)، شیخ رشید سمیت سیاسی یتیموں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیاں سابق فوجی آمر کو کسی تانگہ اتحاد کا چیف کوچوان ہی بنا سکتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ چاہے بھی تو اپنے سابق باس کو بھر پور سیاسی کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دے سکتی ،کیونکہ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مشرف کے بارے میں منفی رائے رکھتی ہے اور کئی موثر گروپ ایسے بھی ہیں جوان سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ایسے میں مشرف کو سرگرم سیاست کا موقع دیا گیا تو انگلیاں اسٹیبلشمنٹ پر ہی اٹھیں گی ۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ سابق آمر نے اپنی حرکتوں کے باعث اپنے دور اقتدار میں بھی پاک فوج کو اس مقام پر پہنچا دیا تھا کہ افسروں اورجوانوں کو یونیفارم پہن کرعوامی مقامات پرجانے سے روکنے کے لئے احکامات جاری کرنا پڑے ۔

مزید :

کالم -