بریگیڈ 77

بریگیڈ 77
بریگیڈ 77

  

بی بی سی کے مطابق برطانیہ نے اپنی فوج میں بریگیڈ سیونٹی سیون (77) کے نام سے غیر فوجی افراد پر مشتمل ایک بریگیڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو اطلاعات اور نفسیات کے ماہرین پر مشتمل ہوگا اور سوشل میڈیا کے محاذ پر اپنا کردار ادا کرے گا۔ بقول بی بی سی یہ فیصلہ برطانوی فوج نے افغانستان میں لڑی جانے والی پندرہ سال کی جنگ کے تجربے کی روشنی میں کیا ہے جس کے حوالے سے اس کا خیال ہے کہ آج کی دنیا میں جنگ صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جا سکتی۔ برطانوی فوج کے سربراہ جنرل کارٹر کا کہنا ہے کہ اکیسویں صدی کے بے آہنگ میدان جنگ میں جہاں دشمنوں کی حکمت عملی اور چالیں پہلے زمانے کی نسبت نمایاں طور پر مختلف ہیں، اس قسم کے نئے انقلابی منصوے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ستر سال قبل جاپانیوں کے خلاف جنگ میں غیر روایتی طریق کار کے استعمال سے بھی سبق سیکھے جا سکتے ہیں جب اتحادی فوجوں نے برما کے محاذ پر جاپانی فوجوں کے عقب میں کمانڈوز اُتارے تھے جن کے بریگیڈ کا نام بھی سیونٹی سیون تھا۔ نو تشکیل شدہ بریگیڈ کی نقاب کشائی اپریل میں ہوگی اور اس میں شامل دو ہزار سوشل میڈیا کے ماہرین کو لڑائی کی جدید ٹیکنالوجی میں بھی تربیت دی جائے گی۔

یہ بریگیڈ برطانیہ سے باہر محاذوں پر برطانوی فوج کو ’’غیر مہلک‘‘ قوت کی فراہمی کا ذمہ دار ہوگا جو برتاؤ پر اثر انداز ہونے والے موثر بیان کی حامل ٹیموں کے ذریعے سوشل میڈیا کے تال میل سے نفسیاتی کارروائی پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی۔ اس بریگیڈ کی تشکیل حکومت پاکستان کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہے جس کی تحریک پر نہ صرف مسلح افواج پاکستان بھی ایسا ہی ایک بریگیڈ تشکیل دے سکتی ہیں بلکہ پولیس میں بھی دہشت گردوں سے لڑنے والے خصوصی دستوں کی تیاری کے ساتھ ساتھ اطلاعات اور نفسیات کے محاذ پر لڑنے والے دستے تیار کئے جا سکتے ہیں۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو وزارت اطلاعات و نشریات کی اہمیت بھی کئی گناہ بڑھ جاتی ہے جو ماہرین نفسیات کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف ایک موثر قوت کی تیاری ہے۔ فوج اور پولیس کے کام کو آسان بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے یہ پہلو اس لئے بھی انتہائی خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ اس کی بنیاد ہی اندازِ فکر میں تبدیلی کے سوا کچھ اور نہیں۔ اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ہر نوعیت کی قتل و غارت گری پر آمادہ، بندوق کے زور پر اسلامی نظام لانے کے خواہش مند جسے وہ اپنے لحاظ سے درست سمجھتے ہیں۔ یہ وہ مہم جو ہیں جنہیں تقریباً دو دہائی قبل افغانستان میں روس کے خلاف جہاد کے لئے پوری دنیا سے جمع کیا گیا تھا اور وہ روس کی شکست پر ہیرو بن کر ابھرے تھے۔ جنگ کے بعد بوتل سے باہر آنے والا یہ جن افغانستان میں اس وقت تک قابو میں رہا جب تک اُسامہ بن لادن نے وہاں پناہ لے کر پٹھانوں کے جذبہ غیرت کو امریکی افواج کے سامنے ڈھال بنا کر کھڑا نہیں کر دیا۔ پاکستان میں بھی اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر کہانی کا رخ نائن الیون کے بعد ہی پلٹا جب پاکستان نے جو مجاہدین کی سب سے بڑی کھیپ روس کے خلاف مہیا کرنے میں امریکہ کے ساتھ تھا، القاعدہ کی سرکوبی کے لئے بھی امریکہ کے ساتھ ہی کھڑا رہنے کا فیصلہ کیا،جس کے تحت لال مسجد کا واقعہ بارود میں چنگاری ثابت ہوا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

اس تناظر میں طالبان کی مختلف تنظیموں کی بے دریغ خونریزی کے باوجود ایک بڑا سیاسی اور غیر سیاسی حلقہ فکر اس خیال سے ان کے خلاف بھرپور کارروائی سے گریزاں رہا کہ اپنے بھٹکے ہوئے لوگ ہیں جو آج نہیں تو کل سوچ درست ہونے پر واپس آ جائیں گے، لیکن بالآخر 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول کے واقعہ نے اُن کی یہ غلط فہمی دور کر دی اور وہ بھی جسم کے کینسر زدہ حصے کو کاٹ پھینکنے کے لئے پوری قوت سے کارروائی میں قوم کے ساتھ شامل ہو گئے۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے تیار کئے گئے قومی لائحہ عمل میں طالبان کی حمایت کرنے اور نفرت انگیز تقاریر کرنے کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے جو انفارمیشن کے محاذ پر ایک دفاعی اقدام کی حیثیت رکھتا ہے۔

آرمی پبلک سکول کے بچوں کی یاد میں تیار کیا گیا ترانہ بھی اس محاذ پر ایک قابل تعریف پیش رفت ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلو ارباب اختیار کی نظروں سے اوجھل ہیں لیکن جیسا کہ جنرل کارٹر نے کہا کہ غیر مہلک جنگ کی حیثیت کسی طرح بھی روایتی جنگ سے کم نہیں چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انفارمیشن اور نفسیات کے محاذ پر بھی اس بھرپور اور منظم طریقے سے پیش رفت کی جائے جس طریقے سے ضربِ عضب میں فوجی محاذ پر پیش قدمی کی جا رہی ہے۔ یہی وہ طریقہ ہے جو نہ صرف لبلبی دبانے والے دشمن کی انگلی کو ڈھیلا ہونے پر مجبور کر سکتا ہے بلکہ اس کی حمایت کرنے والوں کو بھی ہاتھ کھینچنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف روایتی ہتھیاروں سے لڑی جانے کی صورت میں یہ ایک طویل جنگ ہو گی لیکن اگر انفارمیشن اور نفسیات کے میدان میں اتنا ہی بھرپور محاذ کھول لیا جائے جتنا روایتی محاذ پر کھولا گیا ہے تو اس سے نہ صرف جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اس فتنے کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکانات بھی معدوم ہو جائیں گے۔

انفارمیشن کے محاذ پر زور دینے کے لئے اس پہلو کی طرف توجہ دلانا بے جا نہ ہوگا کہ آرمی کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں تخریب کاری سمیت دہشت گردی کی تمام بڑی بڑی کارروائیوں میں طالبان کو گھر کے بھیدیوں کا تعاون حاصل رہا ہے جن کی عام حالات میں آسانی سے پہچان بھی نہیں کی جا سکتی۔ گھر کے ان بھٹکے ہوئے بھیدیوں کو فوجی کارروائی کے ذریعے تلاش اور ختم کرنا ممکن نہیں البتہ میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے، جس کی وساطت سے سات سمندر پار بھی ایسے افراد کے ذہنوں تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ انفارمیشن کے محاذ پر ایک موثر اور جارحانہ حکمت عملی کا حامل بریگیڈ تیار کرنا البتہ بذات خود ایک مشکل کام ہوگا جس سے نمٹنے کے لئے صحت اور سوچ رکھنے والے دور رس دماغوں کی ضرورت ہو گی۔ جو آسانی سے صرف اس صورت میں میسر آ سکتے ہیں جب انہیں ہر قسم کے تعصب اور امتیاز سے بالا تر ہو کر تلاش کیا جائے۔ یہ کام پرویز رشید صاحب کم از کم اپنی وزارت کی سطح تک بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔

مزید :

کالم -