30سال پہلے

30سال پہلے
30سال پہلے

  

ناول و افسانہ نگار طارق محمود دو دن ملتان میں رہے، تو ان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ بیورو کریسی میں ایک نیک نام افسر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر وفاقی سیکرٹری داخلہ و سیکرٹری مواصلات کے عہدوں پر فائز رہے، تاہم زندگی بھر اُن کا کوئی سکینڈل سامنے نہ آیا۔ آج کل وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ’’لمز‘‘ لاہور میں پڑھا رہے ہیں۔ انہیں ایک بار قدرت اللہ شہاب نے کہا تھا کہ عہدے یا منصب کو اہمیت نہ دینا، اپنی تخلیقی کاوشوں کو جاری رکھنا، بالآخر انسان کا یہی حوالہ زندہ رہ جاتا ہے۔ طارق محمود نے اُن کی یہ بات زندگی بھر پلے باندھے رکھی۔ اُن کی بنیادی پہچان اُن کا معروف ناول’’ اللہ میگھ دے‘‘ ہے۔ میگھ بنگالی زبان میں بارش کو کہتے ہیں۔ جن دِنوں سقوط ڈھاکہ ہوا طارق محمود سابق مشرقی پاکستان میں تھے۔انہوں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور بعد ازاں اسے ناول میں سمو دیا۔ طارق محمود ہمیشہ دوسروں کو آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتے رہے ہیں۔ مجھے سینئر بیورو کریٹ اور قائم مقام چیئرمین ’’نادرا‘‘ محمد امتیاز تاجور نے بتایا کہ وہ سول سروس میں طارق محمود کی وجہ سے آئے، کیونکہ انہوں نے مجھے نہ صرف گائیڈ کیا، بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔

میری اُن سے30سال پرانی یادِ اللہ، بلکہ دوستی ہے، اس لئے ہم جب بھی ملتے ہیں، پرانی یادیں ضرور تازہ کرتے ہیں۔ وہ1984ء میں ڈپٹی کمشنر ملتان تھے، جب میری اُن سے گورنمنٹ کالج شجاع آباد میں اچانک ملاقات ہوئی،جہاں مَیں لیکچرر تھا اور وہ ملتان جاتے ہوئے کالج دیکھنے کے لئے وہاں آ گئے تھے۔ یہ ملاقات اس لئے یاد گا رہی کہ مَیں نے انہی دِنوں اُن کے افسانوی مجموعے ’’سہ درہ‘‘ پر ایک مضمون لکھا تھا، جو روزنامہ ’’امروز‘‘ ملتان میں شائع ہوا، لیکن ہماری ملاقات نہیں تھی۔ جب وہ میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ، تو مَیں نے اُن سے پوچھا کہ وہ کیا وہی طارق محمود ہیں، جنہوں نے ’’سہ درہ‘‘ لکھی ہے۔انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور ہاں میں جواب دیا۔ مَیں نے کہا مَیں نسیم شاہد ہوں، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا:’’بھئی آپ کہاں ہیں، مَیں تو آپ کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ مضمون لکھنے کے بعد آپ نے ملنے کی زحمت تک نہیں کی‘‘۔ مجھے یہ سُن کر خوشی ہوئی، کچھ دیر کی ملاقات اس وعدے پر ختم ہوئی کہ اب دونوں طرف سے رابطہ رکھا جائے گا۔ یوں میری ان سے دوستی کا آغاز ہوا، جو اب تک نہ صرف قائم ہے، بلکہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔

طارق محمود جب میرے ساتھ کینٹ کے علاقے نصرت روڈ سے گزر رہے تھے، تو شاپنگ پلازوں کی خوبصورت عمارتوں کو دیکھ کر کہا کہ ملتان کتنا بدل چکا ہے، مَیں نے کہا آپ کو اس سڑک پر چلتے ہوئے کچھ اور بھی یاد آیا؟ قہقہہ مار کے کہنے لگے:’’ کیا آج کوئی ڈی سی او ایسی حرکت کر سکتا ہے؟‘‘ مَیں نے کہا ہر گز نہیں، ایسا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔ ’’تیس سال میں کتنا کچھ بدل گیا ہے؟‘‘ انہوں نے استفہامیہ انداز میں کہا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ نصرت روڈ سے ایس چوک کی طرف جائیں، تو وہاں ڈی سی ہاؤس موجود ہے، وہ جب ملتان میں ڈی سی تھے، تو مَیں اکثر ان کے پاس چلا جاتا۔ شام ہو جاتی تو پاؤں میں پہنی ہوئی عام سی چپل کے ساتھ مجھے بوسن جی چوک تک پیدل چھوڑنے آتے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ عام سے کپڑوں میں جو شخص فٹ پاتھ پر چلا جا رہا ہے، وہ ضلع کا سب سے بڑا حاکم ہے۔

یاد رہے کہ اس دور میں ملتان کی حدود لودھراں، وہاڑی اور خانیوال تک پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ کہنے لگے 30سال پہلے پاکستان میں کتنا امن تھا۔ مَیں ڈپٹی کمشنر ہونے کے باوجود پیدل پھر سکتا تھا، کوئی ڈر تھا نہ خوف۔ آج ڈی سی او یا پولیس افسر کے گھر یا دفتر کے باہر سیکیورٹی کے اقدامات دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم وار زون میں آ گئے ہیں۔ وہ باہر تو کیا نکلیں گے، اپنے دفاتر میں بھی خوفزدہ بیٹھتے ہیں۔ جب انتظامی اور پولیس افسر خوف یا عدم تحفظ کا شکار نہیں تھے، تو وہ عوام کو بھی تحفظ فراہم کرتے تھے۔ آج وہ اپناخوف عوام میں منتقل کر رہے ہیں۔ طارق محمود نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ماضی کے مقابلے میں آج کی بیورو کریسی لمح�ۂ موجود کے چیلنجوں کو سمجھنے اور عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ اس کا سبب سیاسی مداخلت ہے، جس نے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والی سول سروس کو خوشامد پسند اور چاپلوس بنا دیا ہے۔ آج کوئی ڈی سی او کسی غلط کام پر حاکمِ وقت کو حرفِ انکار کی جرأت نہیں کر سکتا، جبکہ ہمارے دور میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر دیئے جانے والے احکامات ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے جاتے تھے۔آج ضلع اور تحصیل کی سطح پر ہر کام وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے پر ہوتا ہے،جبکہ30سال پہلے ڈی سی کی نااہلی شمار ہوتی تھی کہ اُس نے اپنے ضلع میں گڈ گورننس قائم نہیں کی اور گورنر یا وزیراعلیٰ کو احکامات دینے پڑے۔

طارق محمود ایک سروے کے سلسلے میں30سال بعد شجاع آباد اور جلالپور پیر والہ گئے، وہاں کی ترقی دیکھ کر حیرت زدہ واپس آئے۔ انہوں نے اپنی سروس کا آغاز اسسٹنٹ کمشنر شجاع آباد کی حیثیت سے کیا تھا، چونکہ مَیں نے بھی لیکچرر شپ شجاع آباد سے شروع کی تھی ، اس لئے مجھے ماضی کے شجاع آباد اور جلالپور پیر والہ کی پسماندگی کا علم تھا۔ وہ جلالپور پیر والہ میں تعلیمی اداروں کے قیام پر خوش تھے۔ بقول اُن کے30سال پہلے جلالپور ایک یونین کونسل جیسا درجہ رکھتا تھا، جہاں پہنچنا بھی ایک بڑا مرحلہ ہوتا تھا۔ آج وہ ایک ترقی یافتہ تحصیل کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔وہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ کالج موجود ہیں، سڑکیں کشادہ ہو چکی ہیں، عالیشان ہوٹل اور ریستوران قائم ہیں، خواتین گھروں میں مقید نہیں، بلکہ تعلیمی اور ملازمتی شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پھر جب شام کو وہ میرے ساتھ ملتان کے مختلف علاقوں میں گھوم رہے تھے، تو شہر کی رونق،گاڑیوں کی تعداد، اعلیٰ ریستورانوں کی بھرمار اور عوام کی اُن میں دلچسپی دیکھ کر ان سے یہ کہے بغیر نہ رہا گیا کہ اب تو لاہور چھوڑ کر ملتان میں رہنے کو دل کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کی ترقی کو دیکھ کر احساسِ محرومی کا پروپیگنڈہ یکسر غلط نظر آتا ہے۔ ایک خوشحال ترقی یافتہ شہر کی تمام خوبیاں ملتان میں نظر آتی ہیں۔

مَیں نے کہا اس کا کریڈٹ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو جاتا ہے، جنہوں نے ملتان کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے دل کھول کر گرانٹ دی، جس سے فلائی اوورز بنے، سڑکیں کشادہ ہوئیں اور شہر کا مجموعی طور پر نقشہ تبدیل ہو گیا۔ تب انہوں نے یاد دلایا کہ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اب ملتان کو میٹرو بس کا منصوبہ بھی دیا ہے۔ مَیں نے کہا اس بارے میں یہاں دو رائے پائی جاتی ہیں۔ ایک رائے اس منصوبے کے خلاف ہے اور دوسری حامی، جو خلاف ہیں، وہ اس 30ارب روپے کی خطیر رقم سے ملتان میں نشتر جیسا بڑا ہسپتال چاہتے ہیں، پینے کا صاف پانی مانگتے ہیں، مزید یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے مانگتے ہیں، اُن کے خیال میں سڑکیں کشادہ کر کے ملتان میں عوام کو ریلیف دیا جا سکتا ہے، لیکن جو حامی ہیں، وہ ملتان کو جدید شہروں کی صف میں لانے کے لئے میٹرو منصوبے کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرائیکی قوم پرست جماعتوں کے رہنما بھی میٹرو بس منصوبے کے حق میں ہیں۔ طارق محمود نے اس موقع پر بڑی دلچسپ بات کہی، انہوں نے کہا کہ شہروں کو ترقیاتی منصوبے ملتے رہیں تو وہ پھلتے پھولتے رہتے ہیں، وگرنہ اُن پودوں کی طرح خشک ہو جاتے ہیں، جنہیں پانی نہیں ملتا۔

انہوں نے ملتان میں عالمی معیار کے کرکٹ سٹیڈیم کی مثال دی۔ جب یہ قائم ہو رہا تھا تو اس کی بھی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ یہی پیسہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کی کشادگی اور مرمت پر لگایا جائے۔ طارق محمود نے کہا کہ انہوں نے اس سٹیڈیم کی زمین کا انتخاب کیا تھا۔ اب اس سٹیڈیم کے معیار کی عالمی سطح پر تعریف کی جاتی ہے، جبکہ اس کی وجہ سے وہاڑی چوک کے اردگرد نئی کالونیوں اور آبادیوں کا جال بچھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا میٹرو منصوبہ یقیناًملتان کو مزید آگے لے جائے گا۔ طارق محمود نے اپنے حالیہ مشاہدے کی بنیاد پر یہ انکشاف بھی کیا کہ30سال پہلے کے مقابلے میں ملتان کا ثقافتی و لسانی تشخص بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ اُس زمانے میں یہاں سرائیکی بولنے والے ہر جگہ مل جاتے تھے۔ اب اردو اور پنجابی بولنے والوں کا تناسب زیادہ ہے، حتیٰ کہ اُن لوگوں کی نئی نسلیں بھی اردو بولتی ہیں، جو خود سرائیکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک زمانے میں شجاع آباد، جلالپور پیر والہ اور ملتان کے نواحی علاقوں میں سرائیکی زبان بولنے والوں کی اکثریت ہوا کرتی تھی،اب ایسا نہیں،حتیٰ کہ دیہی خواتین بھی اردو بولتی نظر آتی ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ لڑکیوں میں تعلیم کا تناسب بڑھا ہے، وہ اپنے ابلاغ کے لئے اردو کو ضروری سمجھتی ہیں۔ اگرچہ اُن کا لہجہ اب بھی پنجابی یا سرائیکی ہی ہے۔اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ اب یہاں کسی لسانی یا مخصوص ثقافت کی بنیاد پر صوبے کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ البتہ انتظامی بنیادوں پر الگ صوبہ بنایا جا سکتا ہے۔

اگر فی الوقت حکومت یہ بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی، تو فوری طور پر انتظامی اختیارات اس خطے میں منتقل کئے جا سکتے ہیں۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، ایڈیشنل آئی جی اور ممبر ریونیو کی پوسٹیں جنوبی پنجاب کو دی جا سکتی ہیں، جنہیں مقامی مسائل کے حوالے سے فیصلے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں، اس سے عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی اور تختِ لاہور کی اجارہ داری کا پروپیگنڈہ بھی کم ہو جائے گا۔ طارق محمود سے اور بھی بہت سی باتیں ہوئیں جن کا ذکر کسی اگلے کالم تک اُٹھا رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ملتان آ کر انہیں مخدوم سجاد حسین قریشی مرحوم بہت یاد آتے ہیں، جن کے ساتھ بطور سیکرٹری ٹو گورنر کام کرنے کا تجربہ اُن کے لئے اس لئے بہت اہم ہے کہ اس دوران انہوں نے اس خطے کے لوگوں کی نفسیات کو سمجھا۔ مخدوم صاحب بذلہ سنج اور حاضر جواب تو تھے ہی، بلا کے مردم شناس بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ بطور سیکرٹری ٹو گورنر انہیں کئی گورنروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، لیکن جس طرح مخدوم سجاد قریشی نے گورنر ہاؤس میں وقت گزارا، وہ چیز دیگری ہے، اسی لئے انہوں نے اپنی یاد داشتوں کی کتاب میں اُن پر ایک علیحدہ باب لکھا ہے، جو جلد ہی منظر عام پر آ رہی ہے۔

مزید :

کالم -