دہلی میں نریندر مودی کی شکست

دہلی میں نریندر مودی کی شکست

  

دہلی کے ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی(آپ) کو واضح اکثریت حاصل ہو گئی ہے اِن انتخابات میں دہلی کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرن آؤٹ 67فیصد رہا۔ اگرچہ نتائج کا اعلان کل (منگل) ہو گا تاہم اب تک جو بھی اندازے لگائے گئے ہیں ان میں عام آدمی پارٹی کی جیت واضح ہے اور وہ ریاستی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے، متوقع طور پر پارٹی کے سربراہ اروند کیجری وال ہی وزیراعلیٰ ہوں گے، جنہوں نے بی جے پی کی رہنما کرن بیدی کو شکست دی ہے، وہ پہلے بھی انچاس دن کے لئے دہلی کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں اُس وقت مرکز میں کانگرس کی حکومت تھی، جس کے خلاف عام آدمی پارٹی کرپشن ختم کرنے کا نعرہ لے کر میدان میں آئی تھی تاہم اُس وقت کیجری وال کو سادہ اکثریت بھی حاصل نہ تھی پھر انہوں نے وزیراعلیٰ بنتے ہی بعض ایسے اقدامات شروع کر دیئے، جس کی وجہ سے اُن کی مخالفت بڑھ گئی اور انہیں استعفا دینا پڑا۔

بی جے پی مئی(2014ء) کے لوک سبھا کے عام انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آئی ہے۔ نریندر مودی کو انتخابات سے پہلے ہی پارٹی نے وزیراعظم نامزد کر دیا تھا۔ انہوں نے کامیاب انتخابی مہم چلائی،مُلک کا کارپوریٹ سیکٹر بھی اُن کے ساتھ کھڑا ہو گیا، گجرات میں اُن کی پالیسیوں کی وجہ سے کاروباری طبقے نے اُن کا ساتھ دیا اور بی جے پی کو اس لحاظ سے تاریخی کامیابی حاصل ہو گئی کہ وہ حکومت سازی میں اتحادیوں کے ووٹ کی بھی محتاج نہ رہی۔ گزشتہ کئی انتخابات میں کسی بھی جماعت کو تنہا اکثریت حاصل نہیں ہو پائی تھی اور یہ پہلا موقع تھا جب بی جے پی اس پوزیشن میں آ گئی، انتخابی مہم کے دوران دونوں بڑی پارٹیاں (بی جے پی+کانگریس) پاکستان کو خصوصی طور پر نکتہ چینی کا ہدف بناتی رہیں، اندرون مُلک بھی مسلمانوں کو موقع بے موقع تنقید کا نشانہ بنایاگیا، مودی نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تقریب میں پاکستان سمیت سارک سربراہوں کو شمولیت کی دعوت دی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اس تقریب میں شرکت بھی کی، لیکن نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف معاندانہ رویئے کی آنچ تیز سے تیز تر کر دی، کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر جھڑپیں معمول بن گئیں۔ یہ سلسلہ اس حد تک بڑھا کہ خدشہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں وسیع پیمانے پر جنگ ہی نہ چھڑ جائے۔ مودی کے علاوہ بھارتی وزراء کی زبانیں بھی پاکستان کے معاملے میں غیر محتاط بلکہ بے لگام ہو گئیں، ایک انتہا پسند ہندو رہنما نے تو پاگل پن کی انتہا کر دی اور یہ تک کہہ دیا کہ پاکستان پر ایٹم بم پھینک دیا جائے۔ اگست کے مہینے میں دونوں مُلکوں کے درمیان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر جو مذاکرات ہونے والے تھے، مودی نے وہ یکطرفہ طور پر منسوخ کر دیئے۔

پاکستان کے ساتھ اِٹ کھڑکا لگانے کے ساتھ مودی نے مقبوضہ کشمیر میں بھی اپنی جماعت کی حکومت بنانے کے لئے تیزی سے اقدامات شروع کر دیئے۔ غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کرنے کے منصوبے بنائے گئے، ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے بھارتی آئین میں ترمیم کی منصوبہ بندی کی گئی اور مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے ’’44پلس‘‘ منصوبہ بنایا گیا، جس کا مقصد یہ تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی میں بی جے پی 44 سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے اپنی حکومت بنائے، لیکن مودی کا یہ خواب بُری طرح پریشان ہو گیا، نہ صرف ’’44پلس‘‘ نشستیں حاصل نہ ہو سکیں، بلکہ بی جے پی سنگل لارجسٹ پارٹی بھی نہ بن سکی۔ یہ مقام بھی محبوبہ مفتی کی جماعت پیپلزڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کو ملا، جس نے 28نشستیں حاصل کیں، بی جے پی25نشستیں لے کر دوسرے نمبر پر رہی۔ نتائج کے بعد بھی وزیراعظم نریندر مودی ریاست میں اپنا وزیراعلیٰ بنانے کے لئے جوڑ توڑ کرتے رہے، محبوبہ مفتی کی بات مان لی جاتی تو گورنر راج کے نفاذ کی ضرورت نہ پڑتی، لیکن اپنا وزیراعلیٰ بنوانے میں ناکامی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج لگا دیا گیا۔ اب بھی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے تاکہ گورنر راج کی مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ حکومت سازی کی کوشش میں بی جے پی کا وزیراعلیٰ سامنے لایا جائے۔

مقبوضہ کشمیر میں ناکامی کے بعد اب دہلی کی ریاست میں مودی کی پارٹی کو دوسری بڑی شکست ہوئی، دارالحکومت کا انتظامی کنٹرول عام آدمی پارٹی (آپ) کے پاس جانے سے مودی کی حکومت کو ایک بڑا جھٹکا سہنا پڑے گا۔ اروند کیجری وال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی چند سال قبل وجود میں آئی تھی۔اپنے قیام کے فوری بعد اس نے کرپشن ختم کرنے کا نعرہ لگا کر ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تاہم اُسے حکومت سازی کے لئے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہو سکی تھی، گورنر راج سے بچنے کے لئے کیجری وال نے کانگرس سے مل کر مخلوط حکومت بنا تو لی، لیکن اُسے چلنے نہ دیا گیا۔ کچھ وہ سیاسی طور پر ناتجربہ کار اور جذباتی تھے، اِسی بنا پر انہیں وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے تھپڑ بھی پڑ گیا۔ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی مرکزی حکومت کے کچھ رہنماؤں کو چیلنج کر دیا اور طاقتور بجلی کمپنیوں کے آڈٹ کا اعلان بھی کیا، اس چومکھی کا نقصان یہ ہوا کہ اُنہیں49روز بعد ہی استعفا دینا پڑا، اس کے بعد لوک سبھا کے عام انتخابات میں اُن کی پارٹی کا صفایا ہو گیا۔ ایسا لگتا تھا کہ اُن کا ووٹر ان کی بچگانہ سیاست سے اُکتا کر لاتعلق ہو گیا، نتیجے کے طور پر مئی کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی تین چار نشستیں حاصل کر پائی۔

اب ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی ایک بگ بینگ کے ساتھ واپس آئی ہے اور اُسے اتنی نشستیں ملنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ اب اُسے حکومت سازی کے لئے کسی دوسری جماعت کے تعاون کی ضرورت نہیں رہی۔ بی جے پی یہاں بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح دوسرے نمبر پر ہے اور کانگرس کی حیثیت بہت متاثر ہوئی ہے۔ ان انتخابات میں مودی کے لئے بہت سے سبق پوشیدہ ہیں اور اگر ووہ سیکھنے پر تیار ہوں، تو اُن کی پارٹی کے زوال کا جو سفر دہلی سے شروع ہوا ہے اُس کی رفتار مدھم کی جا سکتی ہے، ورنہ یہ ڈھلوان کا سفر بھی بن سکتا ہے۔ مودی نے برسرِ اقتدار آتے ہی پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی بجائے مزید کشیدہ کر لئے، امریکہ کے ساتھ تعلقات کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے وہ آپے سے باہر ہو گئے، لیکن اب چند ہی روز بعد انہیں صدر اوباما نے صائب مشورہ دے دیا ہے کہ وہ اپنے مُلک میں روا داری کو فروغ دیں۔ مودی کے دماغ میں سلامتی کونسل کا رکن بننے کا سودا سمایا ہوا ہے، بہتر ہے اس سے پہلے وہ اپنے مُلک کے اندر مسلمانوں اور عیسائیوں سے تعلقات کو معمول پر لائیں اور مُلک سے باہر پاکستان کے ساتھ کشیدگی ختم کریں، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کریں، پاکستان دشمنی سے انہیں کچھ حاصل نہ ہو گا، اُلٹا نقصان یہ ہو گا کہ اُن کی انتہا پسندانہ پالیسی کی وجہ سے دہلی کی طرح اور بھی کئی ریاستیں اُن کے ہاتھ سے نکل جائیں گے، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -