258 قیمتی جانوں کو زندہ جلادینا غیراسلامی اور غیر انسانی فعل ہے ، غلام عباس

258 قیمتی جانوں کو زندہ جلادینا غیراسلامی اور غیر انسانی فعل ہے ، غلام عباس

  

 لاہور ( خبرنگار) اسلامی تحریک طلبہ پاکستان کے قائدین غلام عباس صدیقی،صدر شاہد نذیر،جنرل سیکرٹری ذکی الدین،ترجمان محمد عدنان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی میں ایم کیو ایم کا نام آنے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ 258 قیمتی جانوں کوبھتہ نہ ملنے کے باعث زندہ جلادینا غیراسلامی اور غیر انسانی فعل ہے جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے اس سانحہ میں کراچی کی کرتا دھرتا ،سیاہ وسفید کی مالک ایم کیو ایم کا نام آناحکومت کے ایکشن پلان کا ٹیسٹ ہے اگر حکومت نے جمہوریت کی کشتی کا سوار سمجھ کر ایم کیو ایم کو معاف کردیا تو یہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے بڑھ کر سانحہ ہوگاانہوں نے کہا کہ اگر ایم کیو ایم اس واقعہ میں ملوث نہیں تو ٹھوس ثبوت دے ایک بیان جاری کردینا ناکافی ہے،حکومت کو بلا تفریق سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ ختم کرنے کیلئے موثر اقدام کرنا ہوں گے انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھتہ مافیا کے خاتمے کے لئے بااثر،بھتہ مافیا کے سرپرستوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائے تاکہ شہر قائد کا امن بحال ہو سکے کراچی کو قبضہ گروپ سے نجات دلانے کے لئے آرمی آپریشن کی ضرورت ہے۔     اسلامی تحریک طلبہ کے قائدین کا کہنا تھا کہ دین اسلام اور دینی جماعتوں کے خلاف اغیار کی ڈکٹیشن پر پروپیگنڈہ کرنے والے ایم کیو ایم کے سربراہ اس بھیانک راز فاش ہونے کے بعد اخلاقی طور پر اپنی جماعت کو ختم کرنے کا اعلان کریں،انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایسے تمام سیاسی گروہوں پر پابندی عائد کرکے ان خلاف کاروائی عمل میں لائے جو جمہوریت کے گھوڑے پر سوار ہوکر بے گناہوں کا قتل عام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بے گناہوں کوقتل کرنے والے اور ان کے سرپرست کسی رعائیت کے مستحق نہیں حکومت رضوان قریشی کے ساتھ اس کے سرپرستوں کو بھی پھانسی کے تخت پر لٹکانے کا بندوبست کرے تب کراچی کاا من بحال ہوگا ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -