ایم کیو ایم نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی ،عدالت جانے کا اعلان

ایم کیو ایم نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی ،عدالت ...

  

 کراچی، لندن(مانیٹرنگ ڈیسک، اے این این) متحدہ قومی موومنٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دی ہے، اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے اور غیر ملکی ٹیموں سے تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا ہے، تفصیل کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے سانحے کی تحقیقات غیرملکی ٹیموں سے کرانے کا مطالبہ کر دیا ۔ لندن سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سانحے کی ذمہ داری کسی ایک پارٹی پر ڈالنا غیر آئینی اقدام ہے اور ہم ایسے ہر اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ الطاف حسین نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی ہی غلطیاں کی گئیں جس کی وجہ سے ملک دو ٹکڑے ہوگیا ،انصاف کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر اس سانحے کی غیر ملکی ٹیموں سے چھان بین کرائی جائے تاکہ مظلوموں کو انصاف مل سکے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دلائی جائے ۔دریں اثناء متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے بارے میں رینجرز کی طرف سے پیش کی جانے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن اس کی بنیاد پر ایم کیو ایم کیخلاف بے بنیاد بیان بازی کی جا رہی ہے، اس پہلے بھی جناح پور سازش جیسے کئی الزامات لگے مگر ہم بے گناہ ثابت ہوئے، ایسے الزامات کی مذمت کرتے ہیں اور اس رپورٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماء حیدر عباس رضوی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایک بار پھر ایم کیو ایم کیخلاف سازشیں شروع کر دی گئیں، بے بنیاد الزام کے بعد پارٹی پروپیگنڈا کرتے ہوئے میڈیا ٹرائل شروع کر دیا گیا جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ایم کیو ایم کیخلاف کئی جے آئی ٹی رپورٹس بنائی گئیں، جناح پور کی سازش کا الزام ایم کیو ایم پر لگا مگر کئی سال گزرنے کے بعد بھی یہ الزام ثابت نہیں کیا جا سکا مگر اس بنیاد پر ہمارے ہزاروں کارکن شہید ہوئے اور ہمیں ملک دشمن قرار دیدیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس الزام کے ماسٹر مائنڈ کو فوج نے خود جھوٹا ملزم قرار دے کر اس کا ٹرائل کیا مگر آج تک ہمارے بے قصور کارکنوں کے خون کا حساب نہیں دیا گیا۔حیدر عباس رضوی نے کہا کہ جناح پور سازش کی طرح سانحہ بلدیہ ٹاؤن بھی ایک بے بنیاد الزام ہے، اس واقعے کی تحقیقات ایک آزاد کمیشن نے کیں تھیں جس میں ایم کیو ایم کا نام تک نہیں آیا مگر آج ایک بے بنیاد شوشا چلا کر سنی سنائی باتوں پر مشتمل جے آئی ٹی کے ذریعے ہمارا امیج خراب کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد الزام نہیں ہے، ہم پر حکیم سعید قتل کیس بنایا گیا اور پھر یوم عاشورہ پر ہونے والے دھماکوں کا الزام لگایا گیا مگر آج یہاں موجود ہیں اور ہمارے ہاتھ صاف ہیں۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کرنے والا جوڈیشل کمیشن اپنی رپورٹ ایک سال پہلے دے چکا ہے اور حالیہ جے آئی ٹی پر تو ابھی عدالت کو فیصلہ دینا ہے کہ وہ یہ الزام قبول بھی کرتی ہے یا نہیں مگر میڈیا پر ہمارے خلاف فیصلے دیئے جا رہے ہیں۔ حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ایسی جے آئی ٹی کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے مگر ہمارے خلاف طالبان کی حمایتی جماعتیں ہمارے خلاف بیان بازی کر رہیں حالانکہ ان کے اپنے گھروں سے القاعدہ کے رہنما گرفتار ہوتے رہے مگر ان واقعات پر کبھی جے آئی ٹی نہیں بنی۔اس موقع پر دیگر قائدین نے بھی گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پر لگنے والے الزامات کی شدید مذمت کی۔

مزید :

صفحہ اول -