یوم پاکستان پریڈ میں چینی صدر کی آمد کا امکان نہیں ،ضرب عضب میں کوئی تفریق نہیں کی،طارق فاطمی

یوم پاکستان پریڈ میں چینی صدر کی آمد کا امکان نہیں ،ضرب عضب میں کوئی تفریق ...

  

 اسلام آباد(آئی این پی )وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ یوم پاکستان پریڈ میں چینی صدر کی آمد کے امکانات کم ہیں ، آپریشن ضرب عضب میں کسی قسم کی تفریق نہیں رکھی گئی ،دہشت گرد چاہے کسی بھی نظریے اور جماعت سے تعلق رکھتا ہو وہ دہشت گرد ہی ہوتا ہے، حقانی گروپ کو ٹارگٹ نہ کرنے کی باتیں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ ہیں،پاک آرمی کی جانب سے تفصیل کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی وضاحت کی گئی ہے، ضرب عضب کی افادیت دنیانے تسلیم کی، امریکا سمیت چین اور برطانیہ نے تعریف کی، پاکستان بھارت سے جامع مذاکرات کیلئے تیار ہے ، پہل ہندوستان ہی کو کرنا ہوگی، ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے ۔اپنے ایک انٹرویو میںآپریشن ضرب عضب سے قبل طالبان سے مذاکرات پرانہوں نے کہا کہ کیونکہ وہ ہمارے اپنے لوگ تھے اس لئے ان کو بات چیت سے سمجھانے اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔طارق فاطمی نے کہا کہ ضرب عضب کی افادیت کی دنیانے تسلیم کی ہے اور امریکا سمیت چین اور برطانیہ نے تعریف کی ۔23 مارچ کو یوم پاکستان کی پریڈ کے موقع پر چینی صدر کی آمد کے سوال پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے کہا کہ اس حوالے سے کوشش کی جارہی ہے تاہم ان کے آنے کا بہت کم امکان ہے ،البتہ اگلے ہفتے چینی وزیر خارجہ پاکستان آئیں گے۔انہوں نے کہاکہ چینی صدر کا دورہ دوسری سہہ ماہی میں ہونے کا امکان ہے، ان کا دورہ خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال پر اثر انداز نہیں ہوگا بلکہ ساری توجہ معاشی معاملات پر مرکوز رہے گی۔ پاکستان اپنے ہمسائیوں سے بہتر تعلقات چاہتا ہے،افغان صدر اشرف غنی کے بعد سے تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے اور پاکستان اس کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اسلام آباد اور کابل کے درمیان جیسے جیسے تعلقات بہتر اور مضبوط ہوں گے اس سے غیر ریاستی عناصر کا کردار ختم ہوتاجائے گا۔امریکا اور ہندوستان کے مابین جوہری معاہدے کے حوالے سے طارق فاطمی نے کہا کہ اگر کسی معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑتا ہے تو یہ ہمارے لئے باعث تشویش ہوگا۔ پاکستان نے اس حوالے سے اپنے خدشات باقاعدہ طور پر پہنچا دیئے ہیں۔وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے موجودہ کشیدگی میں بات چیت کی ضرورت پہلے سے بڑھ گئی ہے تاہم مذاکرات کی بحالی ان کی سنجیدگی اور خلوص نیت سے مشروط ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے جامع مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن پہل ہندوستان ہی کو کرنا ہوگی، ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -