28سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دہشت گردی کیخلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان

28سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتوں کا دہشت گردی کیخلاف مشترکہ جدوجہد کا اعلان

  

 لاہور(اے این این )ملک کی 28 سے زائد سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے سانحہ شکارپور اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے علماء، طلباء،مذہبی اور سیاسی کارکنوں کے قتل کیخلاف 13 فروری کو پر امن ’’یوم احتجاج ‘‘منانے ، دہشت گردی اور انتہا پسندی کیخلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس بات کا اعلان پاکستان علماء کونسل کراچی کے اہتمام مرکزی چیئر مین حافظ طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت ہونے والے پیام امن کنونشن کیاگیا۔کنونشن سے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن ،ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے رکن عبد الحسیب ،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء سینیٹر ڈاکٹر عبد القیوم سومرو،ممبر اسلامی نظریاتی کونسل محمد مشتاق کلوتا،پاکستان مسلم لیگ( ن) کے رہنما چوہدری علی اکبر گجر،شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ جعفر سبحانی ،مرکزی جمعیت اہلحدیث سندھ کے صدر مولانا یوسف قصوری،جمعیت غرباء اہلحدیث کے رہنما پروفیسر محمد سلفی،اسلامی یکجہتی کونسل کے صدر مفتی عبد القادر،جمعیت علماء پاکستان کے علامہ احسن صدیقی ،جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد عبدااللہ بدخشانی،انٹر نیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے مولانا عبد الرزاق ،تحفظ مدارس دینیہ پاکستان کے رہنما قاری اللہ داد ،وفاق المساجد پاکستان کے رہنما مولانا طیب مدنی،پاکستان علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی ،صوبائی صدر سندھ مولانا طارق محمود مدنی،صوبائی صدر پنجاب حافظ محمد امجد،مسیحی رہنما بشپ جوزف کوٹس ،بشپ اعجاز ،بشپ نذیر عالم،ہندورہنما لال شرما،محمد مشتاق اعوان ایڈووکیٹ، مولانا تاج مکی،مولانا عبد الماجد فاروقی،مولانا مفتی عدنان مدنی،مولانا حبیب الرحمن ،قاری محمد اعظم فارقی،ودیگر نے بھی شرکت کی۔کنونشن کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیاکہ دہشت گردی انتہا پسندی اور فر قہ وارانہ تشدد نے ملک کے ہر طبقہ کو متاثر کیا ہے لہذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے تمام طبقات مذہبی اور سیاسی جماعتیں دہشت گردی اور انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کیلئے متحد ہو کر جدوجہد کریں ۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی ایکشن پلان ایک درست سمت قدم ہے لہذا انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہر قسم کی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر جدو جہد کی جائے گی۔اعلامیہ میں مطالبہ کیاگیا کہ کراچی اور سندھ میں علماء ،پروفیسر ڈاکٹرز ،مذہبی و سیاسی کارکنوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -