داعش نے عافیہ صدیقی کے بدلے امریکی مغوی خاتون کی رہائی کی پیشکش کی تھی

داعش نے عافیہ صدیقی کے بدلے امریکی مغوی خاتون کی رہائی کی پیشکش کی تھی

  

 واشنگٹن(اظہر زمان،بیوروچیف)داعش نے گزشتہ برس عافیہ صدیقی کے بدلے امریکی مغوی خاتون کائیلا میولر کی رہائی کی پیش کش کی تھی ۔ یہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر اسے گزشتہ برس ہی پھانسی دے دی گئی تھی۔ یہ انکشاف واشنگٹن کے سیاہ فام مسلم لیڈر موری صالا خان نے ’’نیو میکس ‘‘ ٹی وی چینل کو ایک انٹر ویو کے دوران کیا ہے۔امریکی ریاست اری زونا کے شہر پریسکوٹ کی 26سالہ ایڈ ورگر کائیلامیولر شام میں امدادی کاروائیوں میں مصروف تھی جسے 2013ء میں دہشت گرد تنظیم داعش نے شمالی شام سے اغواء کر لیا تھا ۔داعش نے جمعہ کے روز دعویٰ کیا کہ یہ نوجوان سماجی کارکن اردن کے فضائی حملے میں ہلاک ہوگئی تھی۔اردن نے اس دعویٰ پر شک و شبہات کا اظہار کیا تھا اور امریکہ نے اس کی تصدیق نہیں کی تھی۔ پاکستانی نژاد 42سالہ امریکی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جنوبی ریاست ٹیکساس کے ایک میڈیکل سنٹر میں جسے جیل قرار دے دیا گیا ہے 86برس قید کی سزا بھگت رہی ہے جس پر ایف بی آئی ایجنٹس پر گولی چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ نیورو سائنس دان عافیہ نے گزشتہ برس اکتوبرمیں جیوری کے فیصلے کے خلاف پاکستانی سفارت خانے کی بہت محنت سے تیارکردہ اپیل کو واپس لینے کی درخواست کی تھی جسے ڈسٹرکٹ جج رچرڈ برم نے قبول کر لیا تھا ۔ امریکی ذرائع کے مطابق عافیہ صدیقی نے نائن الیون واقعے کے ماسٹرمائنڈ خالد شیخ محمد کے بھانجے عمار بلوچی سے دوسری شادی کر لی تھی۔ 2003ء میں عمار بلوچی کو گرفتار کر لیا گیا تھاجس کے بعد القاعدہ کی کارندہ ہونے کے الزام میں عافیہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا ۔ اسی سال وہ تین بچوں کے ہمراہ اپنے کراچی والے گھر سے نکلنے کے بعد غائب ہو گئی تھی ۔ امریکہ کا موقف یہ تھا کہ وہ القاعدہ کو حملے کرنے میں مدد دینے کے لئے گھر سے روانہ ہوئی تھی ۔عافیہ صدیقی کی فیملی کا موقف یہ ہے کہ اسے گرفتار کرکے پانچ سال تک افغانستان میں بگرام کی جیل میں قید رکھا گیا تھا۔امریکی حکام نے 2008ء میں اس کی گرفتاری کا اعلان کیا اور پھر امریکی عدالت میں اس پر امریکی فوجیوں پر حملے کے الزام مقدمہ چلایا اور 2010ء میں جیوری نے سزا سنا دی۔ سکیورٹی حلقوں میں عافیہ کو ’’لیڈی القاعدہ‘‘ اور ’’گہرے لیڈی آف بگرام‘‘ کے نام سے پکاراجاتا تھا جو سوال اٹھاتے ہیں کہ القاعدہ،طالبان اور داعش سمیت تمام دہشت گرد تنظیمیں ہمیشہ اس کی رہائی کا مطالبہ کیوں کرتی ہیں اور اس کے بدلے میں رعایتیں دینے کو تیار ہو جاتی ہیں۔واشنگٹن کے سیاہ فام مسلم لیڈر موری صالاخاں عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے سر گرم ہیں اور وہ اس کے بارے میں بہت با خبر ہیں۔ انہوں نے ٹی وی چینل کو بتایا کہ داعش نے امریکی مغوی ایڈورکرکے خاندان کو 12جولائی2014ء میں ایک پیغام بھیجا تھا کہ وہ امریکی حکومت پر زور دے کر عافیہ صدیقی کو ایک ماہ میں رہا کروائیں تو وہ اس ورکر کو چھوڑ دیں گے ورنہ اسے پھانسی دے دیں گے ۔اس کے جواب میں انہوں نے زری زونا کے ایک پادری کے ساتھ مل کر داعش کو جواب دیا کہ ایسا نہیں ہو سکتا اور وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایڈورکر کو چھوڑ دیں ۔داعش نے کچھ عرصہ پھانسی کی سزا کو ملتوی کر دیا لیکن گزشتہ سال کے اختتام سے قبل اسے پھانسی دے دی۔

مزید :

صفحہ اول -