شجاع خانزادہ سے گفتگو

شجاع خانزادہ سے گفتگو
 شجاع خانزادہ سے گفتگو

  

پنجاب پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، لیکن یہاں اختیارات کو نچلی سطح پر تقسیم کرنے کا رواج بہت کم ہے۔ اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ گزشتہ دو سال سے پنجاب میں کوئی وزیر داخلہ نہیں رہا۔ صرف میاں شہباز شریف ہی نہیں، بلکہ ان سے پہلے بھی پنجاب کے کئی وزراء اعلیٰ نے وزارت داخلہ کا محکمہ اپنے پاس رکھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے وزرات داخلہ کے ماتحت ہوتے ہیں۔ اس لئے ہر وزیراعلیٰ طاقت اپنے پاس ہی رکھنے کا خواہش مند ہو تا ہے۔ سوال پھر بھی اہم ہے کہ آخر پنجاب کو 26 سال بعد وزیر داخلہ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کی رائے میں اس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے نتائج نے پنجاب کے مضبوط ترین وزیر اعلیٰ کو ایک فل ٹائم وزیر داخلہ مقرر کرنے پر قائل کر لیا۔ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کو اس بات پر بہت فخر ہے کہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ26سال بعد پنجاب کے وزیر داخلہ مقرر ہو ئے ہیں۔ ان سے ایک طویل گفتگو ہوئی، جس میں پنجاب میں دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے سوالات کے جواب میں وہ کافی مطمئن نظر آئے۔ ان کا موقف تھا کہ اس وقت پنجاب میں دہشت گردی کے کسی بڑے واقعہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی وقت بھی خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کی جنگ اس وقت ایسے مرحلہ میں ہے، جہاں دہشت گرد اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے بھاگ رہے ہیں۔ اس لئے اس دوران اگر کوئی واقعہ ہو جائے تو اس خطرہ کو نظر انداذ نہیں کیا جا سکتا، لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ اس وقت پنجاب میں کوئی بڑا دہشت گرد گروہ سرگرم ہے۔ اس لئے انہیں کوئی بڑا خطرہ نظر نہیں آرہا۔ اب جب مَیں تحریر لکھ رہا ہوں اگر خدا نخواستہ کوئی واقعہ ہو گیا تو میں اور کرنل (ر) شجاع خانزادہ دونوں ہی مجرم قرارپائیں گے۔ لیکن اچھے کی امید رکھ کر لکھ رہا ہوں۔ لاہور میں امن و امان اور لاہور کو محفوظ بنانے پر کافی بات ہوئی۔ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کا موقف ہے کہ لاہور کو محفوظ بنانے کے لئے ایک ماسٹر کنٹرول روم بنایا جا رہا ہے۔ یہ ماڈل ترکی کے شہر استنبول سے لیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کے تحت لاہور میں 25ہزار کیمرے لگائے جائیں گے۔ ان کیمروں کو اس ماسٹر کنٹرول روم سے مانیٹر کیا جائے گا۔ اس طرح لاہور کی ہر گلی ۔ ہر سڑک ۔ ہر بلڈنگ کیمرہ کی نظر میں ہو گی۔ دنیا کے بڑے بڑے شہروں کو اسی ماڈل سے محفوظ کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر تو کم کیمروں سے ہی اس کنٹرول روم کو اِسی سال کے آخر میں فنکشنل کر دیا جائے گا۔ اس سوال پر کہ لاہور کوکیمروں سے بھر دینے کا فائدہ کیا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ جن شہروں میں یہ کیا گیا ہے۔ وہاں کرائم ریٹ میں 40 فیصد سے 50 فیصد تک کمی ہوئی۔ سٹریٹ کرائم تو حیرت انگیز حد تک کم ہو جا تا ہے۔ کہ ہر ایک کو پتہ ہو تا ہے کہ میری تصویر کیمرہ میں آجائے گی۔ اس کے ساتھ گلی گلی ناکے لگانے سے بھی پولیس کی جان چھوٹ جائے گی اور پوری دنیا میں جس طرح پولیس نظر نہیں آتی۔ اِسی طرح لاہور میں بھی پھر پولیس سڑکوں پر کم نظر آئے گی، جو کام پولیس پٹرولنگ سے کرتی ہے وہ کافی حد تک کیمرے سے کر لیا جائے گا۔ کرنل (ر) شجاع خانزادہ انسداد دہشت گردی کی جو نئی فورس بنائی گئی ہے۔ اس سے بھی کافی پر امید نظر آئے۔ اس سوال پر کہ اس میں سلیکشن کے حوالہ سے شکوک و شبہات ہیں۔ کچھ خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں۔ تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوئی ہیں۔ تمام امیدواروں کا این ٹی ایس سے ٹیسٹ لیا گیا ہے۔ این ٹی ایس کی غیر جانبداری کسی بھی شک و شبہ سے با لا تر ہے۔ پاکستان میں دھرنوں کا کلچر ہوگیا ہے۔ اس سے زیادہ اس میں کچھ نہیں ۔ اس سوال پر کہ اس سے پہلے پنجاب میں ایلیٹ فورس بنائی گئی۔ تب بھی اس فورس کے حوالہ سے بہت بلنگ بانگ دعوے کئے گئے، لیکن بعد میں یہ فورس صرف وی آئی پی ڈیوٹی کے لئے ہی رہ گئی۔ اب ایک نئی فورس بنا لی گئی ہے۔ پنجاب کے وزیر داخلہ نے کہا کہ ایلیٹ فورس پولیس سے ہی لے کر بنائی گئی تھی۔ نئی انسداد دہشت گردی فورس کا پولیس سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہم انہیں پولیس سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ ان سب کو ابتدائی طور پر کارپورل کا رینک دیا گیا ہے اور تنخواہ 75 ہزار لگائی گئی ہے،اس لئے اس کا حال ایلیٹ فورس والا نہیں ہو گا۔ تاہم ایلیٹ فورس کو بھی دوبارہ بحال کیاجا رہا ہے۔ ان سے وی آئی پی ڈیوٹی ختم کر دی گئی ہے۔ تمام وی آئی پی سے ایلیٹ فورس واپس لے لی گئی ہے۔ صرف ان کے پاس ہے جن کو بلیو بک کے تحت اجازت ہے۔ انسداد دہشت گردی فورس کے حوالہ سے ان کا موقف تھا کہ ان کی انٹیلی جنس بھی اپنی ہو گی۔ آپریشن بھی اپنا ہو گا اور تفتیش بھی اپنی ہو گی۔ اس طرح یہ کسی طرح بھی کسی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کی محتاج نہیں ہوگی۔ وزیر داخلہ دہشت گردوں کو قانون کے مطابق سزا دلوانے کے لئے ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ faceless ججوں والی عدالتوں کے حق میں ہیں۔ وہ ملٹری کورٹس کے ساتھ موجودہ عدا لتی نظام میں بھی faceless جج قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اس کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔ وہ تو اس بات کے بھی حق میں ہیں کہ گواہوں کے تحفظ کا بھی ایک مربوط پروگرام فوری طور پر شروع کیا جائے۔ ان کے خیال میں ا س کے تحت سنگین مقدمات کے گواہان کو ملک سے باہر بھی رکھا جا سکے گا۔

مزید :

کالم -