پٹرول پمپ پر کام کرنے والا کروڑ پتی نکلا، سکول،لائبریری کو کروڑوں دے گیا

پٹرول پمپ پر کام کرنے والا کروڑ پتی نکلا، سکول،لائبریری کو کروڑوں دے گیا
 پٹرول پمپ پر کام کرنے والا کروڑ پتی نکلا، سکول،لائبریری کو کروڑوں دے گیا

  

نیویارک(نیوزڈیسک)آپ نے بہت سے امیر لوگوں کی کہانیاں سن رکھی ہوں گی لیکن آج ہم آپ کو ایک ایسے ارب پتی انسان کی زندگی کے بارے میں بتائیں گے جو ارب پتی ہونے کے باوجود ایک پٹرول پمپ پر کام کرتا تھا اور جب وہ مرا تو اس کے اردگراد موجودلوگوں کو علم ہوا کہ وہ ایک ارب پتی انسان تھا۔ رونالڈو ریڈنامی یہ 92سالہ امریکی شہر ورمونٹ میں ایک پٹرول پمپ پر صفائی کا کام کرتا تھا اور اس کا انتقال جون 2014ء میں ہوا اور تب تک کسی کو علم ہی نہ تھا کہ اس کے پاس ایک کروڑ سے زائد کے اثاثے موجود ہیں۔اس کے وکیل لاری راول کا کہنا تھا کہ اس کا پسندیدہ مشغلہ سرمایہ کاری کرنا اور لکڑی کاٹنا تھا اور وہ ان دونوں کاموں میں بہت مہارت رکھتا تھا۔ راول کا کہنا تھا کہ آخری بار جب وہ اس سے ملنے آیا تو اس نے اپنی پرانی گاڑ ایسی جگہ کھڑی کہ جہاں اسے پارکنگ کے پیسے بھی نہ دینے پڑیں۔اس کے رشتے داروں کا کہنا ہے کہ وال سٹریٹ جرنل کا مطالعہ وہ باقاعدگی سے کرتا تھا اور یہیں سے وہ سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوا ہوگا۔ اپنے خاندان میں رونالڈوواحد انسان تھا جس نے ہائی سکول تک تعلیم حاصل کی اور جنگ عظیم دوئم میں وہ شمالی افریقہ، اٹلی اور بحرالکاہل میں بھی رہا اور واپسی پر ایک پٹرول پمپ پر کام کرنے لگا۔اپنی زندگی میں رونالڈو بہت سوچ سمجھ کر پیسہ خرچ کرتا تھااور مرنے سے چند دن پہلے وہ ایک کافی ہا?س میں ناشتہ کررہا تھا اور جب اس نے ادائیگی کرنے کی کوشش کی تو اسے علم ہوا کہ ایک اجنبی نے یہ سوچ کر ادا ئیگی کردی ہے کہ وہ ایک غریب آدمی ہے اور اس کے پاس شاید پیسے نہیں ہیں۔گذشتہ ہفتے اس کے شہر کی لائبریری اور ہسپتال انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی کہ اس نے ان کے لئے ایک خطیر رقم چھوڑی ہے۔رونالڈو نے لائبریری کے لئے 12لاکھ ڈالر(12کروڑ روپے) اور ہسپتال کے لئے 48لاکھ ڈالر(48کروڑروپے)عطیہ میں چھوڑے جس پر لوگوں کو یہ علم ہوا کہ وہ تو ایک ارب پتی انسان تھا۔اس کے اس عمل پر دنیا بہت حیران ہے اور اس کی تعریفیں کی جارہی ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -