موسم میں تبدیلی کے باوجود گیس پریشر میں بہتری نہ آسکی

موسم میں تبدیلی کے باوجود گیس پریشر میں بہتری نہ آسکی

  

 لاہور(لیاقت کھرل) موسم تبدیل ہونے کے باوجود گیس حکام نے گیس کے پریشر کو کم کر رکھا ہے ۔ جس کی بنا پر مہنگے داموں ایل پی جی خرید کر گذارا کر رہے ہیں، حکمرانوں اور اس حلقہ سے منتخب نمائندگان کو کردار ادا کرنا چاہئے، وگرنہ آنے والے بلدیاتی الیکشنوں میں حکومتی جماعت کے امیدواروں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے، ان خیالات کا اظہار اور دھمکی آمیز بیانات باغبانپورہ اور اردگرد آبادیوں کے مکینوں نے ’’پاکستان‘‘ سروے میں کیا ہے ، اس موقع پر باغبانپورہ شادی پوہ، محمود بوٹی اور اردگرد آبادیوں کے مکینوں کا کہنا تھا کہ سردی کے باعث گزشتہ تین ماہ سے گیس کی لوڈشیڈنگ کو برداشت کیا ہے۔ اب تو موسم بھی تبدیل ہو گیا ہے اس کے باوجود گیس کی لوڈشیڈنگ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اب بھی گیس کی لوڈشیڈنگ ختم نہ کی گئی تو پھر حکمرانوں اور گیس حکام کا خدا ہی حافظ ہے۔ حکمرانوں اور اس حلقہ سے منتخب ہونے والے نمائندوں نے نوٹس نہ لیا، تو آئندہ ہونے والے بلدیاتی الیکشنوں میں حکومتی جماعت کے نمائندوں کا مکمل طور پر بائیکاٹ کریں گے خاتون اقراء اسلم نے کہا کہ گیس حکام سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکتے ہیں تو سردیوں میں کم سے کم گیس کے بلوں میں بھی پچاس فیصد کمی کریں۔ ایک طرف گیس کے بھاری بل ادا کر رہے ہیں تو دوسری جانب مہنگے داموں ایل پی جی خرید کر کھانے تیار کر رہے ہیں۔مسز خاتون عقیل اور کلثوم محترم نواز نے کہا کہ ایک کلو ایل پی جی (گیس) سلنڈر میں ڈلوا کر لائیں تو اگلے دن پھر ایل پی جی لینا پڑتی ہے۔ ایل پی جی والے اصل ریٹ سے 5سے 10روپے اضافی وصول کر رہے ہیں، لیکن ایل پی جی کم دیتے ہیں۔ اس میں حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کو دور کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ اس موقع پر مکینوں نے کہا حکمرانوں نے کسی قسم کے اقدامات نہ کئے تو مخالف سیاسی جماعتوں کی طرح گیس کی لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے مکین بھی سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ اس میں اس علاقہ سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ منتخب ہونے والے ارکان ایوانوں میں جانے کے بعد آج تک خبر تک نہیں لی ہے جس کے باعث گیس حکام بھی ان کی بات نہیں سنتے ہیں۔ اس موقع پر مکینوں نے دھمکی دی کہ حکمرانوں اور گیس کمپنی کے حکام نے گیس کی لوڈشیڈنگ کو دور کرنے کے لئے اقدامات نہ کئے تو پھر دما دم مست قلندر ہو گا اور اس میں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ ایوان وزیر اعلیٰ کا گھیراؤ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا اور اگر بلدیاتی الیکشن کروائے گئے تو حکومتی امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔ بلکہ حکومتی مخالف جماعتوں کے امیدواروں کی حمایت کریں گے اور اور انہی کو ووٹ بھی دیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -