پاکستان بھارت میچ کا میزبان!ریکارڈز کیلئے مشہور ایڈیلیڈ اوول کا میدان

پاکستان بھارت میچ کا میزبان!ریکارڈز کیلئے مشہور ایڈیلیڈ اوول کا میدان
پاکستان بھارت میچ کا میزبان!ریکارڈز کیلئے مشہور ایڈیلیڈ اوول کا میدان

  

آسٹریلیا(مانیٹرنگ ڈیسک)54ہزارتماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش والا سٹیڈیم ایڈیلیڈ اوول میگا ایونٹ میں 4میچز کی میزبانی کریگا ۔ایڈیلیڈ کی اپ گریڈیشن کیلئے 2008سے 2014کے درمیان 575ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ ایڈیلیڈاوول جنوبی آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں واقع 54ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش والا اسٹیڈیم ہے۔

15فروری کو پاک بھارت ٹاکرے کے بعد 9مارچ کو انگلینڈ اور بنگلہ دیش کی ٹیمیں مقابلے کیلئے میدان میں اتریں گی ،15مارچ کو پاکستان اور آئرلینڈ کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی جبکہ 20مارچ کو یہا ں ایونٹ کا تیسرا کوارٹر فائنل میچ کھیلا جائیگا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور بھارت اس سٹیڈیم میں ایک بار آمنے سامنے آئے ہیں اور پاکستان یہ میچ ہار گیا تھا۔

ایڈیلیڈ اوول میں زیادہ ترکرکٹ اور فٹبال میچز کھیلے جاتے ہیں تاہم اس میدان کو رگبی ،سوکر کے میچز اور کنسرٹس کیلئے بھی استعما ل کیا جاتاہے۔یہاں کرکٹ میچ میں سب سے زیادہ تماشائیوں کی آمد حال میں ختم ہونیوالی بگ بیش لیگ کے سیمی فائنل میں ریکارڈ کی گئی جب ایڈیلیڈ سٹرائیکرزاور سڈنی سکسرز کا میچ دیکھنے کیلئے 52533تماشائی سٹیڈیم میں موجود تھے ،اس میدان میں سب سے زیادہ تماشائی 1965میں فٹبال لیگ کے فائنل میچ( جو پورٹ ایڈیلیڈ اور سٹورٹ فٹبال کلب کے درمیان کھیلا گیا )میں موجود تھے جن کی تعداد 62543ریکارڈ کی گئی۔

کرکٹ پنڈتوں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں پاک بھارت میچ کے دوران اس سٹیڈیم میں تماشائیوں کی آمد کا ہرریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ایڈیلیڈ اوول1871سے جنوبی آسٹریلیا کرکٹ ایسوسی ایشن کا ہیڈکوارٹرز ہے اور گزشتہ برس سے جنوبی آسٹریلین فٹبال لیگ کا ہیڈکوارٹرز بھی اسی میدان کو قرار دے دیا گیا ہے۔سٹیڈیم کے انتظامات کی نگرانی ایڈیلیڈ اوول مینجمنٹ اتھارٹی کے سپرد ہے ،جس میں سٹیڈیم میں تماشائیوں کے بیٹھنے کیلئے سیٹوں کی تعداد 34ہزار سے بڑھا کر 54ہزار کردی گئی ہے اس سے قبل تماشائی گھاس پربیٹھ کر میچ سے محظوظ ہوتے تھے اور گزشتہ برس ہی ایڈیلیڈ فٹبال کلب اور پورٹ ایڈیلیڈ فٹبال کلب نے اپنا ہوم گراؤنڈ فٹبال پارک چھوڑ کر ایڈیلیڈ اوول کو بنالیا ہے۔اپ گریڈیشن کے بعد اس میدان میں ہرجدید ترین سہولت میسر ہے۔ساؤتھ آسٹریلین کرکٹ ایسوسی ایشن نے 1871ء میں ایڈیلیڈ اوول کا سنگ بنیاد رکھا تھااور یہا ں پہلا ڈومیسٹک کرکٹ میچ 10سے 12نومبر 1877کو ساؤتھ آسٹریلیا اور تسمانیہ کے درمیان کھیلا گیا تھا جس میں ساؤتھ آسٹریلیا نے اننگز میں فتح حاصل کی تھی ،اس میدان پر پہلی سنچری نارتھ ایڈیلیڈ کے بلے باز جان ہل نے 30جنوری 1878ء کو کینٹ کلب کیخلاف تین روزہ میچ میں بنائی تھی،جان ہل سابق آسٹریلوی کپتان کلم ہل کے والدتھے ،کلم ہل نے 1896ء سے 1912ء تک 49ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی اور 10میچز میں قیادت کی ذمہ داری بھی ان کے پاس تھی۔

ایڈیلیڈاوول میں پہلا ٹیسٹ میچ 12سے 16دسمبر 1884ء تک کھیلا گیاجس میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو 8وکٹوں سے شکست دی۔1899ء کے وڑڈن کرکٹرآسٹریلوی فاسٹ باؤلر البرٹ ٹراٹ نے اسی میدان پر 1894ء میں اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے خلاف ایک اننگز میں 43رنز دے کر 8وکٹیں حاصل کی تھیں جو آج تک اس میدان میں بہترین باؤلنگ کا ریکارڈ ہے۔1900ء میں یہاں قومی ایونٹس کیلئے سائیکلنگ ٹریک بنایا گیا۔ایڈیلیڈ اوول میں پہلا باقاعدہ سکوربورڈ 3نومبر 1911میں نصب کیا گیا جسے مشہور زمانہ آرکیٹکٹ کینتھ میلنی نے ڈیزائن کیاتھا، 1912ء میں اس سکوربورڈ میں کلاک کا اضافہ کیا گیا۔1931ء میں سرڈان بریڈ مین نے اس میدان پر جنوبی افریقہ کیخلاف 299رنز ناٹ آؤٹ کی یادگار اننگز کھیلی اور اسی میچ میں آسٹریلوی سپن باؤلر کلاری گریمٹ نے 14وکٹیں حاصل کیں جو اس گراؤنڈ پر ریکارڈ باؤلنگ ہے۔1932میں بل ووڈ فل اوربرٹ آؤٹ فیلڈ کے ڈومیسٹک کرکٹ میچ کے تیسرے دن 50962 تماشائی میدان میں پہنچ گئے جن کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس کو طلب کرنا پڑا اور اسی ہنگامے میں سارے دن کا کھیل ضائع ہوگیا،اس میچ کو تین دن میں کل ایک لاکھ 74ہزار 351تماشائیوں نے میدان میں آکر دیکھا۔1982ء میں ساؤتھ آسٹریلیا کے بلے باز ڈیوڈ ہکس نے وکٹوریہ کیخلاف میچ میں 43گیندوں پر سنچری بنانے کا کارنامہ سرانجام دیا جو ڈومیسٹک کرکٹ میں چھٹی تیز ترین سنچری ہے ،ڈومیسٹک میں تیزترین سنچری بنانے کا اعزاز انگلش کاؤنٹی سرے کے بلے باز پرسی فینڈرکے پاس ہے جنہوں نے 1920میں نارتھمپٹن کیخلاف 35گیندوں پر سنچری بنائی تھی۔ایڈیلیڈ اوول میں فلڈ لائٹس 1997میں نصب کی گئی تھیں ۔

اس گراؤنڈ میں فلڈ لائٹس کی تنصیب کا معاملہ کئی سال تک الجھا رہا کیونکہ ایڈیلیڈ سٹی کونسل ماحولیاتی آلودگی کو ایشو بناکر

فلڈ لائٹس کی تنصیب کی مخالفت کرتی رہی۔اس گراؤنڈ پر پہلا ڈے اینڈ نائٹ ون ڈے میچ 6دسمبر 1997ء کو جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا جس میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقہ کو 47رنز سے مات دی۔1999ء میں سری لنکن سپنر مرلی دھرن کے ایکشن پر اسی میدان میں امپائر روز ایمرسن نے اعتراض اٹھاکرانہیں باؤلنگ سے روک دیاتھا۔ 10دسمبر 2014کو آسٹریلوی بلے باز مائیکل کلارک نے اس میدان پر 7ویں ٹیسٹ سنچری سکور کی جو اس میدان پر ایک بلے باز کی طرف سے سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا ریکارڈ بن گیا۔

مزید :

Cricket World Cup 2015 -