سرکاری محکموں نے کام نہ کرنا ہو تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں :لاہور ہائی کورٹ

سرکاری محکموں نے کام نہ کرنا ہو تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں :لاہور ...
سرکاری محکموں نے کام نہ کرنا ہو تو ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دیتے ہیں :لاہور ہائی کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے بینکنگ عدالتوں کے ملازمین کو جوڈیشل الاﺅنس کی عدم ادائیگی کے خلاف دائر درخواست پر سیکرٹری وزارت قانون سے 23فروری تک جواب طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سرکاری محکموں نے غریب عوام کا کام نہ کرنا ہو تو وہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہتے ہیں ۔
مسٹر جسٹس خالد محمد خان نے بنکنگ عدالتوں کے ملازم رانا اکرام کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی طرف سے آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت نے ملک بھر کے عدالتی ملازمین کو جوڈیشل الاﺅنس دینے کا حکم دیا تھا تاہم متعلقہ محکموں نے بینکنگ کورٹس کے ملازمین کو نظر انداز کر دیا جس پر انہوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بینکنگ عدالتوں کے ملازمین کو بھی جوڈیشل الاﺅنس کا حقدار ٹھہرایا تاہم حکومت نے چند ماہ جوڈیشل الاﺅنس دینے کے بعد ادائیگی بند کر دی ہے جوتوہین عدالت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ،جوڈیشل الاﺅنس کی رقم روکنے والے سرکاری افسروں کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، ایڈیشنل اکاﺅنٹنٹ جنرل پنجاب طارق چٹھہ نے پیش ہو کر بتایا کہ انہوں نے جوڈیشل الاﺅنس سے متعلق فنڈز کی منظوری دے کر معاملہ وزارت قانون کو بھجوا رکھا ہے جیسے ہی وزارت قانون کی منظوری کے بعد الاﺅنس کے فنڈز ریلیز ہوں گے تو ملازمین کو ادائیگیاں کر دی جائیں گی جس پر عدالت نے سیکرٹری وزارت قانون سے 23فروری تک جواب طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ سرکاری محکموں نے اگر غریب عوام کا کام نہ کرنا ہو تو ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالتے رہتے ہیں۔

مزید :

لاہور -