پی آئی اے کا کیا بنے گا؟

پی آئی اے کا کیا بنے گا؟
 پی آئی اے کا کیا بنے گا؟

  

عوام دیکھتے آئے ہیں کہ جب کبھی کسی سرکاری ادارے کے ملازمین اپنے مطالبات منوانے کے لئے احتجاج خصوصاً ہڑتال کرتے ہیں تو بعض اوقات حکومتیں دھمکی آمیز طرزِ فکر و عمل اپناتی ہیں، مگر بالآخر صلح صفائی ہو جاتی ہے۔ ملازمین اپنے کچھ مطالبات سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور حکومت کچھ مطالبات تسلیم کر لیتی ہے۔ بعض اوقات حکومت یہ بھی اعلان کرتی ہے کہ ہڑتالیوں کے مطالبات نہیں مانے جائیں گے، انہیں برطرف کر دیا جائے گا اور ان کی جگہ نئی بھرتی کی جائے گی۔ یہ دھمکی بھی عام طور پر گیڈر بھبھکی ہوتی ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے طے کر لئے جائیں، تاہم پی آئی اے کے معاملے میں ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

کسی ادارے کے پرانے نوے فیصد ہڑتالی ملازمین کو برطرف کرکے ان کی جگہ نئے ملازمین رکھنے کا عمل اتنا آسان نہیں ہوتا، جتنا کہ اس کا اعلان کرتے وقت سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ اعلان عام طور پر واپس لے لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں بہتر یہ ہوتا ہے کہ دھمکی آمیز رویہ اختیار نہ کیا جائے اور اس طرح کے اعلانات سے اجتناب برتا جائے، لیکن اربابِ اختیار کو یہ بات سمجھانا عموماً بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومتوں کے پاس بہت سے ریاستی وسائل ہوتے ہیں اور حکمران خود بھی عقل و دانش میں کسی سے کم نہیں ہوتے، اس لئے توقع یہی کی جاتی ہے کہ وہ معاملات کو بہتر انداز میں حل کر لیں گے۔ بعض صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا، حکمرانوں کی بصیرت دھری کی دھری رہ جاتی ہے، ریاستی وسائل میں سے فنڈز، پولیس اور فوج بھی معاملات سلجھانے میں کردار ادا نہیں کر پاتے، یہاں تک کہ حکمران اقتدار سے محروم ہو جاتے ہیں اور ان میں سے کسی کو سزائے موت ہو جاتی ہے اور کسی کو جلاوطنی بھگتنا پڑتی ہے۔اس وقت قوم کی نظریں پی آئی اے پر لگی ہوئی ہیں۔

یہ تنازع حکومت کی طرف سے پی آئی اے کی نجکاری کئے جانے کے فیصلے سے پیدا ہوا۔ ادارے کے ملازمین نے اس کی مخالفت کی اور مختلف شعبوں کے ملازمین پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنا کر احتجاجی تحریک شروع کردی۔تحریک میں شریک ملازمین نے ہڑتال کر دی۔ دفاتر خالی ہو گئے، بکنگ ہوئی نہ ٹکٹ فروخت ہوئے، طیارے اڑے نہ مسافر سفر کرنے کے قابل رہے۔ معاملہ ٹھپ ہو گیا۔ دوسری طرف حکومت نے سخت رویے کا مظاہرہ کیا۔ ہڑتالیوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کر دیا،جس میں ملازمتوں سے برطرفی کا اعلان بھی شامل ہے۔ ان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی باتیں بھی ہوئیں۔ ہڑتال میں حصہ نہ لینے والوں کو انعام کی خوشخبری سنائی گئی، حالانکہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، آٹا ہڑتال پر ہے مگر اس کی کسی نے نہیں سنی۔ حکمران اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ہڑتالیوں سے مذاکرات نہیں ہو سکتے، جبکہ ملازمین کے نمائندے بار بار کہتے رہے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔

حکومت نے حتمی رائے یہ قائم کی کہ اس مسئلے کا حل نئی فضائی کمپنی کا سرکاری شعبے میں قیام ہے، بظاہر یہ غیر ضروری اور بلاجواز معلوم ہوتا ہے، لیکن پی آئی اے کی بدحالی چونکہ قومی معیشت پر بوجھ کی شکل اختیار کر گئی ہے ، اس لئے حکومت کو کچھ نہ کچھ تو ایسا کرنا ہوگا، جس سے ملکی خزانے کو غیر منطقی بوجھ سے نجات دلائی جا سکے۔ نئی فضائی کمپنی اس کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے جو نئے سرے سے کام شروع کرے، اس پر واجبات کا دباؤ نہ ہو، وہ ناجائز طو رپر بھرتی کئے گئے ہزاروں ملازمین سے پاک ہو اور وہ ملازمین کی ہڈ حرامی سے طویل عرصے تک محفوظ رہے۔ شروع میں ملازمین نسبتاً زیادہ محنت سے کام کرتے ہیں، اسی طرح نئی ایئر لائن کو چلانے میں آسانی رہ سکتی ہے۔

یہ سب کچھ کرنے کے لئے پہلے پی آئی اے کے مستقبل کا کوئی حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس ادارے کو دیوالیہ قرار دے دیا جائے، کیونکہ اس پر کوئی سوا تین کھرب روپے خسارے کا بوجھ ہے، جس میں ہر سال اربوں روپے کا اضافہ ہو رہا ہیّ اس صورت میں یہ ادارہ ڈیفالٹ کے قریب ہے۔ اگر قانونی طور پر ایسا ہو جائے تو ملازمین کو کچھ نہیں ملے گا، جبکہ ادارے کے طیارے اور دیگر اثاثے اربوں روپے میں فروخت کئے جا سکتے ہیں۔ اصلاحِ احوال کے لئے حکومتی حلقے معاملے پر ہر پہلو سے غور کر رہے ہیں اور جلد کسی فیصلے پر پہنچنا چاہتے ہیں،یہ ہفتوں کی نہیں چند روز کی بات لگتی ہے، تب واضح ہو جائے گا کہ پی آئی اے کا کیا بنے گا؟

مزید :

کالم -