سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اعلان کرتے رہ گئے، ایک اور مسلم ملک نے اپنی فوجیں شام پہنچا بھی دیں، لڑائی شدت اختیار کرنے کا امکان

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اعلان کرتے رہ گئے، ایک اور مسلم ملک نے اپنی ...
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اعلان کرتے رہ گئے، ایک اور مسلم ملک نے اپنی فوجیں شام پہنچا بھی دیں، لڑائی شدت اختیار کرنے کا امکان

  

گروزنی(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات داعش سے لڑنے کے لیے اپنی فوجیں شام میں اتارنے کا اعلان ہی کرتے رہ گئے لیکن چیچنیا نے بغیراعلان کیے ہی اپنی افواج شام بھیج دی ہیں۔ چیچنیا کے سربراہ رمضان قادروف نے انکشاف کیا ہے کہ چیچنیا کی افواج بھی شام میں موجود ہیں اور شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”شام میں چیچنیا جاسوسی کا ایک نیٹ ورک بھی قائم کر چکا ہے تاکہ داعش کی کمر توڑی جا سکے۔“رمضان قادروف نے یہ انکشافات روسی ٹی وی چینل ”روس 1“(Russia 1)سے گفتگو کرتے ہوئے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”چیچنیا کے بہترین جنگجو فوجی شام میں بمباری کرنے والی روسی افواج کی مدد کر رہے ہیں۔ہمارا جاسوسی نظام داعش کے ڈھانچے، شدت پسندوں کی تعداد، ان کی شناخت اور ٹھکانوں کا پتہ چلانے کا کام کر رہا ہے تاکہ روسی طیارے درست نشانے پر بمباری کر سکیں۔“

مزید جانئے: سعودی عرب بڑی تباہی سے بچ گیا: یمن سے داغا گیا سکڈ میزائل مارگرا یا

این بی سی کی رپورٹ کے مطابق روسی حکام کاکہنا ہے کہ ”ہماری افواج 30ستمبر 2015ءسے شام میں آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور روسی فضائیہ اب تک داعش کے ٹھکانوں پر 5ہزار 240حملے کر چکی ہے۔“ روسی تھنک ٹینک کارنیج ماسکو سنٹر(Carnegie Moscow Center) کے ماہر الیگزی ملاشنکوف کا کہنا تھا کہ” چیچن سربراہ رمضان قادروف خطے میں اہم کردار کے خواہاں ہیں اور ان کا بیان خواہش کا ایک حصہ سمجھنا چاہیے۔ وہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ماتحت رہتے ہوئے ایک بڑا اور موثر سیاسی کردار چاہتے ہیں۔قادروف ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور مختلف نسلی گروہوں کے باہمی تعلقات کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عہدہ ممکنہ طور پر روسی صدر خاص طور پر اس کے لیے تخلیق کریں گے۔“الیگزی ملاشنکوف نے مزید کہا کہ ”داعش کے خلاف لڑنے کا بیان دے کر قادروف اس طرح کی منظرکشی کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے چیچنیا سے شدت پسندوں کا خاتمہ کر دیا ہے جن کی اکثریت اب شام جا کر داعش میں شامل ہو چکی ہے۔ “

مزید :

بین الاقوامی -