میرے سچ مچ کے بھائی۔۔۔منو بھائی کے لئے

میرے سچ مچ کے بھائی۔۔۔منو بھائی کے لئے
میرے سچ مچ کے بھائی۔۔۔منو بھائی کے لئے

  

میں امریکہ میں ہوں یا پاکستان میں، سوتے میں یا جاگتے میں، میرا لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ والا فون چل رہا ہوتا ہے اور اس کی بیل بھی کھلی ہوتی ہے۔ آج کل لاہور آیا ہوا ہوں۔ تب میں امریکہ میں ہی تھا۔

رات کے کسی خاموش پہر میرے سرہانے رکھے آئی فون پر کسی پیغام آنے کی آواز آئی۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے میں نے کبھی سوتے میں اٹھ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی، لیکن نجانے کیوں میں نیند سے جاگا اور یہ پیغام پڑھا۔

ہماری امریکن سنٹر لاہور کی پرانی ساتھی شمع فاروقی نے کسی امریکی ریاست میں اپنے گھر سے مجھے خاص طور پر اطلاع دی کہ منو بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے، کیونکہ اسے میرے تعلق کا علم تھا۔

میں اٹھ بیٹھا۔ نماز فجر کے لئے میرا صبح پانچ بجے الارم بجتا ہے۔وقت دیکھا تو ابھی آدھ گھنٹہ باقی تھا۔نماز پڑھنے سے پہلے کا یہ وقت منو بھائی کی یادوں کے ساتھ گزارا اور ان کے حصے کے جتنے آنسو میں نے بچا کر رکھے تھے، انہیں بڑے سکون سے بہایا ہچکیوں پر قابو کیا کہ دوسرے سونے والے بے آرام ہوں۔

دن چڑھا تو اپنی بیگم اور ساتھ رہنے والی سب سے چھوٹی بیٹی بسما کو نہ بتایا کہ اس کا حوصلہ نہیں تھا۔ میری سب سے بڑی بیٹی کنول ہم سے دور رہتی ہے۔

میں نے سوچا خاص طور پر اسے خبر نہیں ہونی چاہیے۔ میری تینوں بیٹیاں منو بھائی کو تایا جان کہتی تھیں، لیکن وہ کنول کے تو پکے تایا جان تھے اور وہ ان کی غیر ضروری حد تک لاڈلی بھی تھی۔

منو بھائی کی بیٹی سجل (گڑیا) کنول سے ایک دو سال بڑی ہے۔ منو بھائی کی گھر میں دوستوں کے ساتھ مجلس جمی ہو تو سجل وہاں جانے سے گھبراتی تھی، لیکن کنول بے دھڑک وہاں پہنچ کر ان کی گودی میں جا بیٹھتی اور سجل دور سے دیکھتی کہ ان کے ابو ناراض ہونے کی بجائے کنول کی بدتمیزیوں کو مسکرا مسکرا کر برداشت کرتے تھے۔

منو بھائی نے مجھے خود بتایا تھا کہ کشور ناہید نے ان کے گھر میں جب پہلی مرتبہ کنول کو اس طرح چوکڑیاں بھرتے دیکھا تو پوچھا کہ یہ بچی کون ہے تو انہوں نے بتایا کہ یہ اظہر زمان کی بیٹی ہے اور انہیں چھیڑتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی سے تمہاری سطح کی شاعری کر رہی ہے۔

یہ شاعری والی بات میں بعد میں بتاؤں گا۔ مجھے بعد میں کئی دنوں بعد پتہ چلا کہ جس رات مجھے منو بھائی کی رحلت کی خبر ملی اس سے کئی گھنٹے پہلے کنول کو پتہ چل چکا تھا اور اس نے سوشل میڈیا پر اپنے تایا جان کے لئے ایک بھرپور جذباتی پیغام پوسٹ کر دیا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ خبر اپنے پاپا سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔

ہم دونوں باپ بیٹی ایک دوسرے کو اس صدمے کے جھٹکے سے بچانا چاہیے تھے، لیکن منو بھائی تو ایسی معروف شخصیت تھے کہ ان کی خبر تو ہر جگہ پہنچ چکی تھی۔اس طرح چھپانے یا حقیقت سے فرار کی مصنوعی کوشش کا کیا فائدہ ہو سکتا تھا۔

منوبھائی کا صحافت، کالم نگاری، ڈرامہ نگاری اور پنجابی شاعری میں ایک معتبر مقام تھا۔صحافتی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں ان کی بہت تعظیم تھی۔ لیکن ذاتی طور پر وہ بہت Down to Earth رہتے تھے۔ وہ زیادہ عرصہ سنجیدہ گفتگو نہیں کر سکتے تھے۔

ان کی شگفتہ طبع اس میں سے ہلکے پھلکے حوالے تلاش کر لیتی اور وہ بوجھل سے بوجھل ماحول کو خوشگوار بنا دیتے تھے۔ ہر موضوع کا ایک لطیف پہلو ہمیشہ ان کے پاس تیار رہتا۔وہ لطیفے سننے اور سنانے کے ساتھ ساتھ ظرافت سے بھرپور فقرہ پھینکنے اور وصول کرنے کے عادی تھے۔

ان کی زبان میں لکنت تھی جو آخری عمر میں زیادہ بڑھ گئی، لیکن انہوں نے اسے اپنی کمزوری بنایا اور نہ چھپایا، بلکہ وہ اپنی اس کمزوری کو اپنے لکنت شدہ لہجے میں مزے لے کر سناتے تھے۔ ان میں کیا کیا خوبیاں تھیں سب لوگ جانتے ہیں۔

مَیں یہاں دہرانا نہیں چاہتا۔ ان میں کیا کیا خامیاں تھیں مجھے کچھ پتہ نہیں۔ ظاہر ہے پھر ان کا بھی ذکر نہیں ہوگا۔ میرے ساتھ ان کا جو ذاتی تعلق تھا صرف اس کا کچھ بیان کروں گا۔ ان کے ساتھ وابستہ یادیں ذہن میں بکھری حالت میں اتر رہی ہیں، ان کو صحیح ترتیب دے پاؤں گا کہ نہیں قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا۔

میں یہ تحریر شروع کرنے سے پہلے سوچ رہا تھا کہ میرا ان سے کیسے تعارف ہوا یا ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی۔ پوری دیانتداری سے اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے کچھ یاد نہیں۔

اگر یاد ہے تو بس اتنا کہ میں جب لاہور کی صحافتی زندگی میں داخل ہوا تو منو بھائی وہاں موجود تھے یا دوسرے لفظوں میں جہاں منو بھائی تھے میں ان کے آس پاس موجود تھا۔ ابھی مجھے کہانی شروع کرنی ہے، لیکن ان کے ساتھ جو باہمی محبت تھی اس کا اندازہ ایسے لگا لیں کہ جب لاہور میں میری شادی ہوئی تو میری بارات ان کے ریواز گارڈن میں گھر سے روانہ ہوئی۔ تمام باراتی ان کے گھر پہنچے انہوں نے ان کا استقبال کیا ان کی خاطر مدارت کی اور پھر بارات کے ساتھ روانہ ہوئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان رائٹرز کلب کی بنیاد ہم نے مل کر رکھی۔

اس کے چار بنیادی بانیوں میں ہمارے علاوہ امجد اسلام امجد اور مظفر محمد علی مرحوم شامل تھے۔ پاکستان رائٹرز کلب کے کریڈٹ پر دو بہت بڑے میلے ہیں، ’’کہانی میلہ‘‘ اور ’’ناول میلہ‘‘۔ پاکستان بھر میں غیر سرکاری سطح پر معمولی مالی وسائل کے ساتھ اتنے بڑے اور بھرپور ادبی میلوں کا جو ریکارڈ قائم ہوا وہ آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔

’’کہانی میلہ‘‘ سات دن تک مسلسل جاری رہا۔ ایک بہت بڑا خوبصورت آڈیٹوریم ہر روز صبح سے شام تک ادب اور ثقافت کے شعبوں سے وابستہ دوستوں سے رونق افروز رہتا۔ پاکستان کی کوئی ایسی نامور ادبی شخصیت ایسی نہیں تھی، جس نے مذاکروں میں حصہ لے کر خطاب نہ کیا ہو یا افسانوں پر مبنی سترہ فلموں کو نہ دیکھا ہو۔ منو بھائی کلب کے صدر تھے انہوں نے باقی ساتھیوں کے ساتھ مل کر دن رات محنت کرکے ان میلوں کو کامیاب کیا اور وہ اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے مسلسل انتظامات کی نگرانی کرتے۔

ایک دفعہ انہیں سب کام چھوڑ کر ایک دن اسلام آباد جانا پڑ گیا۔ اس روز بھی وہ مسلسل رابطے میں رہے۔ کہانی میلے کی خوشبو خاص طور پر سب جگہ پھیل چکی تھی۔ سفر سے واپس آئے تو بتانے لگے کہ اس وقت کے وفاقی سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمن نے جو اسی جہاز میں سفر کررہے تھے ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے سب سے پہلا یہ سوال کیا کہ آپ کا ’’کہانی میلہ‘‘ کیسا جا رہا ہے۔

کوئنز روڈ پر میرا دفتر تھا اور اسی سڑک پر کچھ عرصہ میں نے اپنی سہولت کے لئے ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا۔ وہ کبھی دفتر آتے تو بریک میں یا چھٹی کے بعد وہ میرے ساتھ پیدل گھر آ جاتے۔

میں اپنی بیگم اور تینوں بیٹیوں کنول، شاہ رخ اور بسما کے ساتھ ان کے گھر جاتے رہتے تھے، بلکہ زیادہ تر میرے بچے میرے بغیر وہاں پہنچے ہوتے تھے۔ ہم دفتر سے نکلتے، کسی موضوع پر گفتگو کرتے کرتے گھر پہنچ جاتے۔

ان سے چونکہ بے تکلفی بہت زیادہ تھی ۔اس لئے ہم ایک دوسرے کے گھر جا کر روایتی مہمانوں جیسے سلوک کی توقع کرتے تھے اور نہ ہی ایسا ہوتا تھا۔ میری بیگم ہماری آمد پر چائے یا کھانے کا پوچھنے سے پہلے کہتیں بہت سی چیزیں منگوانے والی ہیں۔

میں آپ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ یہ سودا آ جائے گا تو پھر آپ کو کھانا چائے وغیرہ سب کچھ مل جائے گا۔ بیگم چیزوں کی فہرست دیتیں اور تندور سے روٹیاں اور دہی کے لئے مشہور دکان سے دہی لانے کا کہتیں۔

اس مداخلت کے بعد ہماری گفتگو پھر وہیں سے شروع ہو جاتی۔ میرے ہاتھ میں دہی کے لئے ڈونگا ہوتا اور منو بھائی ضد کرکے روٹیوں کے لئے نیپکن پکڑ لیتے۔ ہم تندور پر کھڑے ہو کر روٹیاں لگواتے، دہی خریدتے۔

واپسی پر روٹیاں میرے پاس اور دہی کا ڈونگا منو بھائی نے اٹھایا ہوتا۔ گھر پہنچ کر ہم کھانا کھاتے چائے پیتے اور اس دوران کنول ان کے اردگرد منڈلاتی رہتی۔ جو ان کے ساتھ کھانے میں شامل ہو جاتی تھی۔

مجھے پتہ نہیں وہ ایسا کام کسی اور دوست کے گھر جا کر بھی کرتے تھے یا نہیں، لیکن ہمارے پاس آکر وہ اس طرح کے کاموں میں بڑی خوشی سے شریک ہوتے۔ اتنا عظیم شخص، اتنا وسیع دل اور اتنی سادگی۔ میری یادوں میں ایسے بہت سے چھوٹے چھوٹے واقعات بکھرے ہوئے ہیں۔ان تمام کو یکجا کرنا بہت مشکل ہے۔

ایک بہت ہی عجیب و غریب اور دلچسپ بات یہ تھی کہ جہاں ہم پاکستان رائٹرز کلب کو مل کر چلا رہے تھے اور ذاتی دوستی کی وجہ سے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا تھا وہاں ہم دونوں صحافتی ٹریڈ یونین میں سرگرم تھے اور ایک دوسرے کے مخالف کیمپ میں کھڑے تھے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس حقیقت کو قبول کرکے ایک طرف رکھ دیا تھا اور کبھی ایک دفعہ بھی اس حوالے سے گفتگو نہیں کی تھی۔

اس وقت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس (پی ایف یو جے) صرف ایک تھی۔ منہاج برنا اس کے صدر تھے۔ ان کی یونین پر اتنی گرفت تھی کہ ان کو چیلنج کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ ایک وقت منو بھائی پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر تھے اور میں جائنٹ سیکرٹری تھا۔

منو بھائی برنا گروپ میں تھے اور میں ضیاء الاسلام انصاری اور عباس اطہر کے مشترکہ مخالف گروپ کے ٹکٹ پر منتخب ہوا تھا۔ ایک مرتبہ منہاج برنا لاہور آئے۔پنجاب یونین آف جرنلٹس کا اجلاس ہوا جس کی صدارت منو بھائی کررہے تھے۔

برنا صاحب وفاقی صدر کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ ان دنوں چھوٹے اخبارات کی سہولتوں کا مسئلہ چل رہا تھا۔ مجھے موقع ملا تو میں نے اس سلسلے میں کوتاہیوں پر برنا پر بھرپور تنقید کی۔ منو بھائی مجھے دیکھ رہے تھے جن کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔

وہ نظروں نظروں میں کہہ رہے تھے کہ کراچی سے آنے والے مہمان کا نہیں تو میری صدارت کا ہی لحاظ کرو، لیکن وہ منہ سے کچھ نہ بولے۔ اجلاس کے بعد جب چائے پی تو انہوں نے کوئی گلہ نہ کیا اور ہم اپنی دلچسپی کی دیگر مشترکہ باتوں پر گفتگو کرتے رہے۔

اس وقت پرانی پریس کلب دیال سنگھ مینشن میں ہوتی تھی جو پنجاب یونین آف جرنلٹس کے زیرانتظام تھی اور اس کے الگ عہدیدار نہیں ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ شاہ نور سٹوڈیو میں عنایت حسین بھٹی کے اعزاز میں کوئی تقریب تھی جہاں خطاب کرنے کی منو بھائی کو دعوت ملی۔ وہ پی یو جے کے عہدیدار کی حیثیت سے مجھے بھی ساتھ لے گئے۔

تقریر کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھنے لگے کہ ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر کیا کیا جائے؟ پھر کہنے لگے ان کو پریس کلب کا اعزازی رکن بنانے کا اعلان کر دوں۔ میں نے کہا آپ صدر ہیں جو چاہیں کر دیں۔

انہوں نے تقریر میں عنایت بھٹی کو پریس کلب کا اعزازی لائف ممبر بنانے کا اعلان کر دیا۔ اگلے دن خبریں چھپیں تو یونین والے پیچھے پڑ گئے کہ منو بھائی نے کس اختیار کے تحت ایسا کیا ہے۔

منو بھائی تھوڑاسین سے غائب رہے اور مجھے کہنے لگے کہ تمہارا مشورہ تھا اس لئے تم ہی نمٹو۔ اس طرح کچھ جدوجہد کرکے معاملہ ٹھنڈا کرنے میں میں نے اپنا کردار ادا کیا۔

میری بیٹی کنول کو ابھی صحیح طرح سے لکھنا نہیں آتا تھا لیکن ایک عجیب بات ہوئی کہ وہ مجھے کبھی کچھ کہتی تو مجھے لگتا کہ یہ تو آزاد شاعری ہے۔ میں اس کے بکھرے بکھرے سے خیال بغیر کسی ترمیم کے دیانتداری کے ساتھ جمع کرتا رہتا اور پھر میں نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا اس کا مجموعہ ’’لہرتی گھٹا‘‘ کے نام سے تیار کر لیا۔

ایک نظم میں اس نے ’’لہراتی‘‘ کی بجائے ’’لہرتی گھٹا‘‘ کا لفظ استعمال کیا تو میں نے اسے ہی عنوان بنا دیا۔ ایک کاپی منو بھائی کو بھی دی۔ پتہ نہیں وہ ان نظموں سے متاثر ہوئے یا اپنی لاڈلی کنول کو خوش کرنے کی کوشش کی۔

بہرحال انہوں نے اس پر ’’شہ کنول زمان کی لہرتی گھٹا‘‘ کے نام سے ایک بھرپور کالم لکھا جو آج بھی ہمارے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ منو بھائی کے حصے کے جتنے آنسو بہانے تھے بہا لئے۔

ان کی یاد کو اس کالم کے ذریعے کچھ کچھ تازہ کر لیا۔ میرے کالم کا دامن تمام ہو رہا ہے۔ سوچ رہا ہوں اب کسیے جا کر باجی، کاشف اور سجل کو یہ کہنے کا حوصلہ پیدا کروں گا کہ منو بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہے جس کا مجھے خود یقین نہیں آ رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -