’’فوجی سے محبت کا خطرہ مول نہ لینا وہ بہت جلد ۔۔۔‘‘وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے والے شیر دل کپتان کا ایسا جملہ جو دلوں کو تڑپا دیتا ہے

شہادت بھی وراثت ہے اور اسکو نسلیں مدتوں تک اپنے خاندان کا امتیاز بناتی ہیں۔چترال کی وادیوں کے شیر جوان اس پر فخر کرتے ہیں۔ جب کبھی خاندانوں کا تعارف ہوتا ہے تو پوچھتے ہیں کہ بتاؤ تمہارے خاندان میں کتنے شہید ہیں،کتنے غازی ہیں؟ ۔یہ ہی جذبہ کیپٹن اجمل شہید میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، تبھی تو وہ حیات جاوداں کی بات ہی کیا کرتے اور کوئی بہانہ تلاش کرتے کہ انہیں اپنے وطن پر قربان ہونے کا موقع ملے ۔ان کی منشا پوری ہوئی ،ضرب عضب کے دوران جب انہیں وادی تیراہ میں ایک ایسا آپریشن سونپا گیا جو کم از کم ایک مہینہ تک جاری رکھا جاسکتا تھا لیکن کیپٹن اجمل شہید نے دو دن میں یہ معرکہ سرانجام دے دیا۔انہوں نے اپنے کمانڈنٹ سے کہا تھا ’’ سر میں ایک دو دن میں دھرتی کو دشمنوں سے پاک کردوں گا،میں زیادہ انتظار نہیں کرسکتا کہ ان کے ناپاک قدموں کی آہٹ سے میری ماں اور بچے چین سے سونہ پائیں ‘‘
یہ کوئی جذباتی جملہ نہیں ،کیپٹن اجمل شہید کاعہد تھا۔لوگ آج بھی یہ بات نہیں بھول پاتے کہ کیپٹن اجمل شہید کی بیوہ نے جب اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ہاتھ سے اپنے بہادر شوہر اور تاحیات زندہ رہنے والے انسان کا تمغہ بسالت وصول کیا تو اس روز انکی یونٹ کے بے شمار جوان انکی باتیں کرتے ہوئے ان کے عسکری جذبے کی کہانیاں سناتے دکھائی دے رہے تھے۔
وادی تیراہ میں جب ’’آپریشن خیبر ٹو‘‘ شروع ہوا تو 5سندھ رجمنٹ کے کیپٹن محمد اجمل خان شہید نے جوانوں سے آگے بڑھکر دشمن کے ایک ایک ٹھکانے کی تلاشی لی ، 30اپریل 2015ء کے روز وادی تیراہ میں دشمن کے ایک خفیہ ٹھکانے کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئے تو زیر زمین مائن پھٹ گئی اور وہ دھماکے میں جام شہادت نوش کرگئے۔
کیپٹن اجمل شہید کے دوست بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی کے تین پسندیدہ جملے تھے۔ پہلا یہ کہ ’’فوجی سے محبت کا خطرہ مول نہ لینا وہ بہت جلد مرتے ہیں اور جدائی کا صدمہ دے جاتے ہیں‘‘


دوسرا جملہ قدرے طویل ہے۔ انگریزی جملے کا رواں اور سلیس ترجمہ یوں بنتا ہے ‘‘اگر میں واپس نہ آیا تو ان کوبتا دیجئے کہ میں نے اپنا آج ان کے کل پر قربان کر دیا ہے‘‘یہ جملے ان کی شرٹ، ان کے فریج اور دیگر نمایاں اشیاء پر لکھے تھے۔ زندگی میں ایک شعر ان کو بہت پسند تھا۔ وہ تنہائی میں اس کو گنگناتے اور محفل میں سنا تے تھے۔
کیوں نہ تجھ سے لپٹ کے سوؤں اے قبر
میں نے جان دے کر پایا ہے تجھے
کیپٹن اجمل شہید کا خاندان غازیوں اورشہیدوں کا خاندان ہے۔ان کے والد محمد غازی خان نے بیٹے کی شہادت کے بعد کہا تھا ’’ میرا بیٹا محمد اجمل خان بہت بڑا آدمی بن گیا ہے۔ میں اپنے بیٹے کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال نہیں کرتا۔ اس کو کبھی تھا نہیں کہتا۔وہ موجود ہے ، کیونکہ حق تعالیٰ اس کو زندہ و جاوید قرار دیتا ہے۔ اس لئے میرا بیٹا زندہ ہے۔ مجھے اس بات پر بجا طور پر فخر ہے کہ میں شہید کا باپ ہوں اور میرے لئے یہ نئی بات نہیں۔ میرے باپ جنان غازی نے میرے دادا آباد خان کے ہمراہ جہاد کشمیر میں سکردو، کارگل ، تراگبل کے محاذوں پر جنگ میں حصہ لیا۔ میرے دو چچا عبد الحنان اور محمد وزیر خان بھی اس جنگ میں شریک تھے۔ میرے ایک چچا نواب خان نے اس معرکے میں جام شہادت نوش کیا۔ میرے چچا میر سلطان نے 1971ء کی جنگ میں شہادت پائی۔ یہی ذوق شہادت ہے جو محمد اجمل خان کو پاک فوج میں لے گیا۔ اور اس نے اپنی منزل کو پا لیا۔ وہ مجاہدوں کی اولاد ہے اور مجاہد بن کر امر ہوگیا ہے‘‘


شہادت کے بعد ان کے دوستوں کا کہنا تھا کہ جب وہ شہادت سے چند ماہ پہلے اپنے آبائی گاؤں زنگ لشٹ تورکھو ضلع چترال گئے تو گھر جاتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’’تم لوگ اگلی بارمجھے پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر میرے گھر لے جاوگے ‘‘
اجمل شہید 1987ء میں زنگ لشٹ تورکھو چترال میں محمد غازی خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ پرائمری سکول زنگ لشٹ، ہائی سکول شاگرام، اسلامیہ پبلک سکول نوشہرہ، چترال پبلک سکول، چترال ماڈل کالج چترال اور اسلامیہ کالج پشاور سے تعلیم حاصل کی۔ 2007ء میں 119 پی ایم اے لانگ کورس کے لئے ان کا سلیکشن ہوا۔ 2009ء میں انہیں 5سندھ رجمنٹ میں کمیشن ملا۔ جنٹلمین کیڈٹ کی حیثیت سے وہ پہلے قاسم کمپنی میں تھے۔ پھر صلاح الدین کمپنی میں گئے۔ پرچم پارٹی میں رہے۔ مزار قائد پر گارڈ کے فرائض انجام دینے والے دستے میں شامل ہوئے۔ 6فٹ سے اونچا قد تھا۔ فٹ بال ٹیم کے گول کیپر اور فاتح رہے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ ایوان صدر میں ہوئی۔ دوسری پوسٹنگ سیاچن کے محاذ پر تھی۔ تیسری پوسٹنگ خیبر ٹو میں ہوئی۔ انہوں نے سکول آف انفنٹری کوئٹہ سے اسالٹ کورس میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی تھی۔ شہید کے دو کمسن بیٹے ریان غازی اور محمد اکمل خان ہیں ۔اللہ انہیں اپنیخاندان کی روایت کا امین بنائے ۔

مزید : دفاع وطن

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...