فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر355

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر355
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر355

  

رت کے فن کاروں اور ہنر مندوں کے اشتراک سے بنائی جانے والی فلموں کا آغاز سب سے پہلے کراچی میں ہوا تھا۔ تقسیم کار اور فلم ساز شیخ لطیف حسین نے کراچی میں فلم ’’انوکھی‘‘ بنائی تھی جس کی ہیروئن شیلا رمانی بمبئی کی فلموں کی ممتاز ڈانسر اور ویمپ تھیں۔ اس فلم کے ہدایت کار تمربرن تھے۔ انوکھی میں لہری نے پہلی بار مزاحیہ کردار کیا تھا جو اس قدر پسند کیا گیا کہ لہری کچھ عرصے بعد کراچی سے لاہور منتقل ہوگئے اور پاکستان کے صف اوّل کے منفرد کامیڈین بن گئے۔ کراچی ہی میں فلم ساز فاضلانی نے بے حد معیاری اور پہلی سندھی فلم ’’عمر ماروی‘‘ بنائی تھی جس میں ہیروئن کے طور پر نگہت سلطانہ کو پیش کیا گیا تھا۔ فاضلانی اس فلم کے ہیرو تھے۔ عمر ماروی میں موسیقار غلام نبی عبداللطیف کو پہلی بار موقع دیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے باعث بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ کراچی کی فلم ’’کارنامہ‘‘ میں احمد رشدی نے اپنا پہلا فلمی گانا گایا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنی مدھر آواز کے سہارے چوٹی کے گلوکار بن گئے تھے ۔بمبئی سے آئے ہوئے کہنہ مشق تجربہ کار اور معروف ہدایت نجم نقوی نے پاکستان میں اپنی پہلی فلم کراچی میں بنائی تھی۔ اس فلم کا نام ’’کنواری بیوہ‘‘ تھا اور اس کی ہیروئن شمیم آراء تھیں۔ یہ بطور اداکارہ شمیم آراء کی پہلی فلم تھی جو ناکام ہو گئی تھی۔ شمیم آراء کو بھی قبول عام حاصل نہیں ہو سکا تھا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر354 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فلمی دنیا کا دستور ہے کہ عموماً پہلی فلم میں ناکام ہونے والے فن کار گمنام اور پسماندہ ہی رہ جاتے ہیں مگر شمیم آراء نے اپنی پہلی فلم کی ناکامی کے باوجود رفتہ رفتہ اپنی محنت‘ شوق اور لگن سے بلند ترین مقام حاصل کرلیا۔ 1956ء میں کراچی کی فلم ’’مس 56‘‘ میں کام کرنے کے لئے بھارت کی شوخ و چنچل ہیروئن مینا شوری پاکستان آئی تھیں۔ اس فلم کے ہدایت کار ان کے شوہر شوری تھے۔ سنتوش کمار نے اس فلم میں ہیرو کا کردار کیا تھا۔ پھر مینا شوری پاکستان ہی کی ہو کر رہ گئی تھیں۔ کراچی سے وہ لاہور آگئی تھیں اور کئی سال تک فلمی دنیا میں دھومیں مچانے کے بعد کسمپرسی کے عالم میں انتقال کرگئیں۔

ہدایت کار ہمایوں مرزا نے اپنی پہلی فلم ’’انتخاب‘‘ کراچی میں بنائی تھی جس کی ہیروئن جمیلہ رزّاق تھیں۔ جمیلہ رزّاق نے کچھ عرصے بعد کراچی میں ایک فلم ’’ہم ایک ہیں‘‘ بنائی تھی جس کے مصنف ہدایت کار اور نغمہ نگار فیاض ہاشمی تھے۔

عزیز احمد نے بطور ہدایت کار کراچی میں اپنی پہلی فلم ’’منڈی‘‘ بنائی تھی جس میں بھارت کی فلمی دنیا کی معروف گلوکارہ اور ہیروئن خورشید بیگم نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم ناکام ہوگئی تھی۔

اور تو اور مہدی حسن کو فلمی دنیا سے متعارف کرانے کا سہرا بھی کراچی ہی کے سر ہے۔ کراچی میں بنائی جانے والی فلم ’’شکار‘‘ میں مہدی حسن نے پہلی بار فلم کے لئے گلوکاری کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے عظمت کی جو بلندیاں حاصل کیں وہ اب تاریخ کا حصّہ ہے۔

ایس ایم یوسف جیسے کامیاب اور مشہور و معروف ہدایت کار بمبئی سے آئے تو انہوں نے اپنی سپرہٹ فلم ’’سہیلی‘‘ کا آغاز کراچی ہی میں کیا تھا جس نے کامیابیوں کے نئے ریکارڈ قائم کئے تھے۔ ایس ایم یوسف صاحب کے بڑے صاحب زادے اقبال یوسف نے بھی اپنی فلمی زندگی کا آغاز کراچی ہی سے کیا تھا۔ انہوں نے فلم ساز اور صدا بندی کے ماہر اقبال شہزاد کے لئے فلم ’’رات کے راہی‘‘ کراچی میں بنائی تھی۔ اتفاق سے یہ اقبال شہزاد کی بھی بطور فلم ساز پہلی فلم تھی۔ آگے چل کر اقبال شہزاد نے فلمی دنیا میں بہت سے معرکے سر کئے۔ فلم سازی کے علاوہ ہدایت کاری بھی کی۔ لاہو ر میں سینے ٹیل سٹوڈیو بھی قائم کیا اور اس وقت کی مقبول و معروف ہیروئن ریحانہ سے شادی کی۔ ان کی فلم ’’رات کے راہی‘‘ میں ریحانہ اور درپن نے مرکزی کردار کئے تھے۔ شمیم آراء نے اس فلم میں ایک رقاصہ کی حیثیت سے کام کیا تھا۔

فضلی برادرز کا نام بھارتی فلمی صنعت میں آسمان کی بلندیاں چھو رہا تھا۔ سبطین فضلی اور حسنین فضلی دو بھائی تھے جنہوں نے کلکتہ سے فلم سازی اور ہدایت کاری کا آغاز کیا تھا پھر بمبئی جا کر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ حسنین فضلی نے کراچی میں ’’دعا‘‘ کے نام سے ایک فلم کا آغاز کیا تھا جو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکی۔ سبطین فضلی صاحب نے لاہور آکر ’’دوپٹہ‘‘ جیسی مایہ ناز فلم بنائی تھی جس کی ہیروئن نور جہاں تھیں۔ ہیرو کے طور پر ایک نیا چہرہ ’’اجے کمار‘‘ پیش کیا گیا تھا۔ سدھیر نے اس فلم میں معاون اداکار کے طور پر کام کیا تھا۔ سبطین فضلی صاحب نے اس کے بعد لاہور میں ’’آنکھ کا نشہ‘‘ اور ’’تصویر‘‘ نامی فلمیں بھی بنائی تھیں۔

فضلی برادرز کے تیسرے اور سب سے بڑے بھائی فضل کریم فضلی صاحب تھے۔ فضل کریم فضلی انڈین سول سروس سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے یہاں بھی اہم وفاقی عہدوں پر کام کیا۔ کہنے کو وہ بیوروکریٹ تھے اور وہ بھی انگریز کے زمانے کے مگر سرتاپا مشرقی تہذیب وتمّدن اور اعلیٰ ادبی ذوق کے مالک تھے۔ وہ بلند پایہ شاعر اور اہل قلم تھے۔ سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں یکایک جانے کیا سوجھی کہ فلم کے میدان میں کود پڑے۔ فلم کا انہیں کوئی سابقہ تجربہ نہ تھا۔ ان کے دونوں چھوٹے بھائیوں نے اس شعبے میں ہندوستان گیر شہرت اور کامیابیاں حاصل کی تھیں مگر فضل کریم فضلی فلم کے ماحول سے ہمیشہ دور ہی رہے۔ ریٹائر ہونے کے بعد انہوں نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرلی اور ’’چراغ جلتا رہا‘‘ کے نام سے ایک بامقصد اصلاحی فلم بناڈالی۔ اس فلم میں سبھی ناتجربہ کار اور نووارد تھے۔ فضل کریم فضلی صاحب بذاتِ خود اس میدان میں بالکل نووارد تھے۔ کاسٹ میں انہوں نے تمام نئے اداکار بھرتی کرلیے تھے۔ اس فلم کی ہیروئن زیبا تھیں۔ ہیرو کا نام عارف تھا۔ دیبا، محمد علی، کمال ایرانی کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔ نہال عبداللہ فلم کے موسیقار تھے۔سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ مادرملّت فاطمہ جناح نے یہ فلم دیکھی ۔وہ اس کے پریمئر شو میں شریک ہوئی تھیں۔

’’چراغ جلتا رہا‘‘ نے خاصی کامیابی حاصل کی۔ حکومت نے اس کی مقصدیت کے پیش نظر اس کا تفریحی ٹیکس بھی معاف کردیا تھا۔ چراغ جلتا رہا کے سبھی اداکاروں نے مستقبل میں شہرت اور مقبولیت حاصل کی سوائے ہیرو کے جو اس فلم کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ چراغ جلتا رہا میں بھارت کے معروف گلوکار طلعت محمود کی آواز میں بھی گانے ریکارڈ کئے گئے تھے۔ اداکارہ سلونی کو بھی فضلی صاحب ہی نے اپنی دوسری فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ میں روشناس کرایا تھا جو پاکستان کی ممتاز ہیروئن بن گئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے کئی کامیاب اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔ لاہور آنے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے فلم ساز اور سٹوڈیو اونر ملک باری کے ساتھ شادی کرنے کے بعد فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ مشہور موسیقار نثار بزمی نے بھی پاکستان آنے کے بعد فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ کی موسیقی ہی سے شہرت حاصل کی اور پاکستان کے معروف موسیقار بن گئے۔ گلوکار ایم کلیم کو بھی فضلی صاحب ہی نے پہلی بار متعارف کرایا تھا۔ فضلی صاحب نے ایک فلم ’’وقت کی پکار‘‘ میں زیبا کے ساتھ ایک نئے ہیرو طاہر کو پیش کیا تھا جو کامیاب نہ ہوسکے۔ طاہر نے بعد میں ’’سنگتراش‘‘ کے نام سے کراچی میں ایک فلم بنائی تھی جو نمائش کے لیے پیش نہ کی جاسکی۔ (جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر356 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -