طلبہ یونین کی بحالی کیلئے اقدامات نہ ہونا بدقسمتی ہے،سید قاسم شمسی

طلبہ یونین کی بحالی کیلئے اقدامات نہ ہونا بدقسمتی ہے،سید قاسم شمسی

لاہور( لیڈی رپورٹر) امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید قاسم شمسی نے طلبہ یونین پر پابندی کے 35سال مکمل ہونے پر لاہور میں طلبہ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا طلبہ یونینز پر تین دہائیوں سے پابندی عائد ہے لیکن بدقسمتی سے نوجوانوں کے حقوق کے نام لیوا سیاسی جماعتوں نے جمہوری دور میں بھی بحالی کے لئے اقدامات نہیں کئے۔ قاسم شمسی نے کہا یونینز پر پابندی کے باعث مکالمہ کی فضاء ختم ہوئی اور شدت پسندانہ واقعات میں اضافہ ہوا ہے فوری طور پر پابندی اٹھا کر طلبہ یونین کے الیکشن کروانا وقت کا تقاضہ ہے۔مرکزی صدر نے مزید کہا طلبا ہی وہ قوت ہیں جنہوں نے ملک بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تھا طلبا یونین کی بحالی بہترین طلبا قیادت سامنے آئے گی اور ملک و قوم کی ترقی کا سبب بنے گی۔مرکزی صدر نے کہا یونینز بحالی کا لولی باپ ہر جمہوری دور حکومت میں دیا گیا ہے نئی حکومت کو بحالی میں رکاوٹ کو دور کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے اثرات ثمرات کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے اگر طلبہ تنظیموں کے خود احتسابی کے عمل کے ساتھ طلبہ کے جمہوری حقوق کی بحالی کے لئے اگر قواعد و ضوابط نئے بنانے کی ضرورت ہے تو بنانے چاہئیں، مگر طلبہ و طالبات کو جمہوری حقوق ملنے چاہئیں، تاکہ وہ معاشرے کو باصلاحیت مقرر، صالح قیادت دے سکیں۔ مرکزی صدر نے مطالبہ کیا کہ طلبہ یونین نہ صرف بحال کی جائے بلکہ اس کے الیکشن بھی کرائے جائیں۔یا د رہے کہ جنرل ضیا الحق نے طلبا کی مارشل لا کیخلاف تحریک کو روکنے کیلئے تعلیمی اداروں میں طلبا یونین پر 9فروری 1984کو پابندی عائد کی اور انہوں نے امن و امان کو وجہ بنایا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1