(کے پی اسمبلی اجلاس) اپوزیشن کے اٹھائے گئے نکات درست ہیں‘ سلطان محمد خان

(کے پی اسمبلی اجلاس) اپوزیشن کے اٹھائے گئے نکات درست ہیں‘ سلطان محمد خان

پشاور (نیوز رپورٹر) خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر محمود جان کی صدارت میں تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا اپوزیشن رکن خوشدل خان نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے رولز 19، 20، اور 22 کو بنیاد بنا کر مؤقف اختیار کیا کہ ایجنڈا کے مطابق وقت پر شروع نہیں کیا جاتا جبکہ جمعرات کا دن پرائیویٹ ممبرز ڈے ہوتا ہے مگر جمعرات کو اجلاس منعقد نہیں کیا جاتا ڈپٹی سپیکر محمود جان نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ گرین بک کے مطابق چلا جائے صوبائی وزیر وزیر قانون و پارلیمانی امور سلطان محمد نے کہا کہ اپوزیشن کے اٹھائے گئے نکات ددرست ہیں ہم کوشش کریں گے کہ آئندہ اجلاس وقت پر منعقد ہو اپوزیشن رکن عنایت اللہ خان نے کہا کہ رول 22 کے تحت جمعرات پرائیویٹ ممبرز کیلئے ہے اگر حکومت کو یہ دن چاہئے تو لے سکتی ہے مگر اس کا متبادل دن ممبران کو دے گی وزیر قانون سلطان محمد نے اپوزیشن کے موقف کی تائید کی ڈپٹی پسیکر نے وقفہ سوالات شروع کرنا چاہا اپوزیشن نے رولنگ دینے پر زور یا ڈپٹی سپیکر سوالات کیلئے ارکنا کو بلاتے رہے اور سوالات لیپس کرتے رہے جبکہ اوپزیشن اپنے نشستوں پر کھڑے رہے اور بعد ازاں سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو کر احتجاج کرتے رہے ڈپٹی سپیکر محمود جان نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ گرین بک میں ہے اس پر عمل کیا جائے گا جس کے بعد ارکان اپنی نشستوں پر واپس چلا گئے تاہم ان کا احتجاج جاری رہا اپوزیشن کے حاجی منور خان نے لکی بیوٹیفیکیشن سے متعلق صوبائی حکومت کے نوٹیفیکیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا وقفہ سوالات میں ارکان اسمبلی ملک بادشاہ صالح ریحانہ اسماعیل ثوبیہ شاہد عنایت اللہ خان ملک ظفر اعظم اور سردار اورنگزیب نلوٹھا نے محکمہ مواصلات و تعمیرات محکمہ ٹرانسپورٹ محکمہ آبنوشی محکمہ قانون اور محکمہ بلدیات کی کارکردگی سے متعلق سوالات کئے صوبائی وزراء اکبر ایوب خان سلطان محمد خان شہرام ترکئے نے جوابات دئیے بی آر ٹی منصوبے سے متعلق سوالات پر ارکان اسمبلی نے زیادہ بحث کی عنایت اللہ خان نے کہا کہ یہ منصوبہ سابقہ دور کے آخری کابینہ اجلاس میں لایا گیا تھا اپوزیشن لیڈر اکرم خان نے کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے اس کی لاگت میں بار بار اضافہ کیا گیا ہے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے شہرام ترکئی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم پراجیکٹ ہے 66 ارب روپے کا پراجیکٹ ہے انہوں نے کہا کہ پی ڈی اے اس کو تعمیر کروا رہا ہے 220 بسوں میں 20 آ چکی ہیں انہوں نے کہا کہ نیب اس کی انکوائری کر رہی ہے ڈیزائن میں تبدیلی اور دیگر منصوبوں کی شمولیت کے باعث ایسا نہ ہو سکا انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ساتھ چالیس پچاس سالوں کے پرانے ڈرینز گیس بجلی کے پائپ کیبل پولز ٹیلی فون لائنز اور پول سب ازسر نو بنائے گئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ساتھ پورے شہر اور اس کے ٹرانسپورٹ کی اپ لفٹ ہو گی انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی کمیٹی کی تجویز سے اتفاق کیا اے این پی کے رکن صلاح الدین نے اپنے حلقہ نیابت میں مختلف محکموں کے امور میں رکن قومی اسمبلی اور انتظامیہ کی مداخلت کا معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایوان میں ا ٹھایا مسلم لیگ نے کے سردار اورنگزیب نے صوبہ بھر میں باالعموم اور ایبٹ آباد و پشاور میں باالخصوص کالجوں اور مارکیٹوں میں آئس کے نشہ کے عام ہونے کا معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایوان میں اٹھایا ڈپٹی سپیکر محمود خان نے کہا کہ اس حوالے سے قانون سازی کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں اور جلد قانون اسمبلی میں لایا جائے گا وزیر قانون نے کہا کہ خصوصی قانون سازی کی جائے گی وزیر قانون سلطان محمد نے خیبر پختونخوا پبلک پریکورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ترمیمی بل 2019ء اور دوسری ترمیمی بل 2019ء ایوان میں پیش کر دئیے ڈپٹی سپیکر نے اجلاس پیر کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر